بند کریں
خواتین مضامینخوبصورتیحسین نطر آنے کا ںیا حربہ

مزید خوبصورتی

پچھلے مضامین - مزید مضامین
حسین نطر آنے کا ںیا حربہ
چہرے کا حسن برقرار رکھنے کے لئے الیکٹرانک یا مائیکرو کرنٹ فیشل ان افراد کے لیے زیادہ بہتر ہے جو 70 سال یا اس سے زائد عمر کے ہوں، کم عمر افراد کے چہرے اس سے مزید خراب بھی ہوسکتے ہیں۔
حسین نظر آنے کا نیا حربہ!
چہرے کا حسن برقرار رکھنے کے لئے الیکٹرانک یا مائیکرو کرنٹ فیشل ان افراد کے لیے زیادہ بہتر ہے جو 70 سال یا اس سے زائد عمر کے ہوں، کم عمر افراد کے چہرے اس سے مزید خراب بھی ہوسکتے ہیں۔
ہما میرحسن:
انسان اپنا چہرہ بدلنا چاہتا ہے کہ محفوظ رکھنا چاہتا ہے لیکن اسے دلکش اور جواں سال نظر آنے کا خبط ہے۔ حسن وآرائش مارکیٹ کے تاجر انسان کی اس خواہش کو بخوبی جانتے ہیں اور انہیں نت نئی ترغیبات دیتے ہیں، جو اکثر عارضی اور نقصان کا پیش خیمہ ہوتی ہیں۔ آج صحت بہتر بنانے سمیت کئی دیگر کام سرانجام دینے کے لیے ٹیکنالوجی کی مدد لی جارہی ہے، جس سے زندگی قدرے آسان تو ہوگئی ہے مگر ساتھ ہی انسان الجھن اور پریشانی کا بھی شکار ہے۔ صحت سے متعلق جہاں کئی ویب سائٹس اور ایپلی کیشنز آچکی ہیں، وہیں مختلف بیماریوں کے علاج کے لیے بھی جدید الیکٹرانک اور جدید آلات مارکیٹ میں آچکے ہیں۔ انہی میں سے ایک الیکٹرانک فیشل کے آلات بھی ہیں، جسے میک اپ سرجری کہا جائے تو غلط نہیں ہوگا۔ مذکورہ الیکٹرانک آلات کے ذریعے چہرے کی خوبصورتی میں اضافہ کے لیے کی جانے والی میک اپ سرجری کو دراصل ”مائیکروکرنٹ فیشل“ کہاجاتا ہے، جو حالیہ برسوں میں دنیا بھر میں مقبول ہوا ہے۔ مائیکرو کرنٹ فیشل پر 200 ڈالر یعنی تقریباََ 21 ہزار روپے تک خرچ آتا ہے، اور یہ عمل صرف 30 سے 45 منٹ کے دورانیے میں مکمل ہوجاتا ہے۔ مائیکروکرنٹ فیشل میں چہرے کی خوبصورتی میں اضافے کے لیے ہلکی سی میک اپ سرجری کی جاتی ہے، اس سرجری کے ذریعے چہرے کے ان حصوں کو ہموار کیا جاتا ہے ، جوکسی بیماری یا حادثے کی وجہ سے ناہموار ہوجاتے ہیں۔ گزشتہ تین سالون سے میں مائیکروکرنٹ فیشل کا رجحان کافی بڑھ چکا ہے،خواتین اس میک اپ سے فائدہ اُٹھارہی ہیں، شوبز کی دنیا کی ہیروئنز بھی سدا جوان نظر آنے کے لئے اس حربے کا استعمال کرتی رہی ہیں۔ حال ہی میں شائع ہونے والی ایک رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ بالی ووڈ کی کئی اداکارائیں مائیکرو کرنٹ فیشل سے اپنے حسن وجمال کی نگہداشت کرتی ہیں اور اس کے لئے ہزاروں ڈالر سالانہ خرچ بھی کرتی ہیں۔ ٹی وی ست کام”فرینڈز“ اور اداکار براڈپٹ سے شادی اور پھر طلاق سے مشہور ہونے والی جینفیر آنسٹن نے ایک انٹر ویو میں اپنے خدوخال کی نگہداشت کے حوالے سے بتایا کہ وہ اپنے چہرے کی خوبصورتی کے لئے300 ڈالر کا مائیکروکرنٹ فیشل کرواتی ہیں اس کے علاوہ لیزر ٹریٹمنٹ بھی ہوتا ہے جس کے لئے ان کا خرچ 2600 ڈالر ماہانہ ہے،روزانہ کے میک اپ پروہ 600 ڈالر کا خرچ کرتی ہیں جبکہ صرف آنکھوں کے میک اپ کے لئے 600 ڈالر ماہانہ ادا کرتی ہیں۔ جینفیر کی طرح ہالی ووڈ کی بیشتر اداکارائیں ترقی یافتہ ممالک کے بعد اب یہ سہولیات ترقی پذیر ممالک میں بھی عام ہونے لگی ہے۔ بے شک خواتین مائیکروکرنٹ فیشل اپنی خوبصورتی بڑھانے کے لئے ہی کرواتی ہیں مگر دیکھا گیا ہے کہ الیکڑانک میک اپ سرجری کے بعد کئی خواتین کے ساتھ جلد کے مسائل شروع ہوجاتے ہیں۔ اس ضمن میں ماہر جلدی امراض رباب واجد کہتی ہیں”پاکستان میں الیکٹرانک فیشل کا رواج ابھی امیر طبقے تک محدود ہے ،دراصل مائیکروکرنٹ فیشل اور پلاسٹک سرجری میں واضح فرق ہے، پلاسٹک سرجری تربیت یافتہ ڈاکٹرز کرتے ہیں جبکہ مائیکرو کرنٹ فیشل کی سہولت بیوٹی پارلرز بھی فراہم کرتے ہیں۔ الیکڑانک فیشل کم عمر لڑکیوں اور درمیانی عمر کی خواتین سمیت اسی عمر کے مردوں کے لیے بھی مسئلہ بن سکتے ہیں۔ ماہرین مائیکرر کرنٹ فیشل کو 70 سال کے افراد یا پھر چہرے کی ناہمواری کے مسائل سے دوچار افراد کے لئے ہی بہتر خیال کرتے ہیں۔ یعنی اگر کسی شخص کے چہرے پر حادثے یا بیماری کی وجہ سے کوئی نشان رہ گیا ہے یا کوئی حصہ کٹ گیا ہے تو اسے ٹھیک کرنے کے لئے اس الیکٹرانک میک اپ یا مائیکروکرنٹ فیشل صرف ان افراد کے لیے ہی بہتر ہے جو 70 سال یا اس سے زائد عمر کے ہوں، کم عمر افراد کے چہرے اس سے مزید خراب ہوسکتے ہیں، کیونکہ ایسے افراد میں توانائی بڑھنے کا امکان ہوتا ہے۔ مائیکروکرنٹ فیشل کے علاوہ اب تک الیکٹرانک فیشل کی بہت سی اقسام متعارف ہوچکی ہیں جس میں جدید طرز کا الیکڑانک فیشل بھی شامل ہے۔ بوٹوکس ٹریٹمنٹس کے منفی اثرات کی وجہ سے ماہرین اس کے غیر ضروری استعمال سے بچنے کا مشورہ دیتے ہیں تاہم جدید الیکٹرانک فیشل کی موجودگی میں امکان ہے کہ بوٹوکس کی ضرورت باقی نہ رہے۔ یہ جدید فیشل فزکس کے اصولوں کے تحت جلد پر صوتی لہروں سے پیدا ہونے والی جھنجھناہٹ کے ذریعے کیا جاتا ہے۔ اس مقصد کے لئے خصوصاََ تیار کئے جانے والے فورکس استعمال کئے جاتے ہیں۔ اس فیشل کو ”ٹیوننگ فورک فیشل“ کانام دیا گیا ہے فیشل میں چہرے پر مختلف لمبائی اور چوڑائی کے حامل کانٹوں کو اس طرح کھڑا کیا جاتا ہے کہ ان سے مختلف طاقتوں کی لہریں پیدا ہوتی ہیں۔ یہ لہریں ہی چہرے کی جلد سے بڑھتی عمر کے اثرات ،کیل چھائیاں،مہاسے، آنکھوں کے گرد حلقے ، کھلے مسام سمیت جلد کے وہ تمام مسائل حل کردیتی ہیں جن کے لئے عام طور پر بوٹوکس کا سہارالیا جاتا ہے۔ یہ ٹریٹمنٹ ایجاد کرنے والوں کا دعویٰ ہے کہ دراصل آواز کی لہریں ان کانٹوں سے ہوتی ہوئی جلد کے اندتوانائی کے راستوں کے ذریعے داخل ہوتی ہیں اور اس کے اثرات انسانی فزیالوجی پر ہوتے ہیں حالانکہ انسانی فزیالوجی پر اثر انداز ہونا عام طور پرکافی مشکل تصور کیا جاتا ہے۔ اس فیشل کو کروانے والی خواتین کا کہنا ہے کہ فیشل کے حوالے سے کئے گئے دعوؤں کے بارے میں کوئی تبصرہ تو کچھ وقت کے بعدہی کیا جاسکتا ہے تاہم انہوں نے خود کو اس ٹریٹمنٹ کے بعد زیادہ پرسکون محسوس کیا ہے ۔ اس سے دوران خون بھی بہتر ہوتا ہے جس سے جلد کی صحت مزید خوبصورت اور چمکدار ہوجاتی ہے۔ کانٹوں کے نام پر اس فیشل میں استعمال کے لئے کھانے پینے میں استعمال کئے جانے والے نوکیلے کانٹوں کا تصور ذہن میں آتا ہے تاہم یہ بالکل ویسے ہی کانٹے ہوتے ہیں جوسکول میں آواز کی لہروں کو محسوس کروانے کے لئے بچوں کو تجربے کے طور پر دیئے جاتے ہیں۔ ایک فیشل میں تقریباََ ایک درجن کے قریب کانٹے استعمال ہوتے ہیں۔ دلچسپ امریہ ہے کہ ان کے نام بے حد منفرد ہیں۔ ان میں سے ایک زمین،دوسرا سورج اور ایک نیا چاند ہے۔ اس فیشل کو ایجاد کرنے والوں کا کہنا ہے کہ یہ فیشل دراصل چین کے آکو پنکچر طریقہ کا ر کے مطابق ہی کام کرتا ہے اور اس میں بھی چہرے کے ان بارہ حصوں کو تلاش کیا جاتا ہے جن کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ ان پر اثر ڈالنے سے چہرے کی خوبصورتی لوٹائی جاسکتی ہے۔ کانٹوں کے علاوہ فیشل کومزید مئوثر بنانے کے لئے ان حصوں میں باریک نوکدار سوئیاں بھی چبھوئی جاتی ہیں۔ اس فیشل کے ماہرین کا کہنا ہے کہ سوئی چبھونے کا عمل جسم میں دوڑتے توانائی کے کرنٹ کے راستے میں رکاوٹیں پیدا کرنا ہے جبکہ جوابی ردعمل کے باعث جلد پر نمودار ہونے والی قبل از وقت جھریاں ، آنکھوں کے نیچے پیدا ہونے والی سوجن وغیرہ کا خاتمہ ہوجاتا ہے۔ ریڈ کارپٹ پر جانے سے پہلے ہالی ووڈ سٹارز کا الیکٹرانک فیشل کرنے والی ڈرما ٹالوجسٹ جینٹ گراف کہتی ہیں”الیکٹرانک فیشل کے چہرے پر فوری اثرات ہوتے ہیں، اس لئے ہم اداکاروں کو تقریب سے دودن پہلے بلاتے ہیں تاکہ ان کے چہرے کی جھریاں اور حلقے دورکرنے کے علاوہ رنگ میں چمک پیدا کی جاسکے۔ میرا ماننا ہے کہ کسی بھی وقت جب آپ آفیشل کے دوران کرنٹ کا استعمال کرتے ہیں تو وہ خلیوں کے اندر توانائی کو بڑھاتا ہے اورآپ اس کو جتنی بارکریں گے، نتائج اتنی زیادہ دیر تک قائم رہیں گے تاہم میں نے اپنے تجربے میں جلد پر ایسے نقصانات نہیں دیکھے جیسے کہ کرنٹ فیشل سے ہوسکتے ہیں۔ میرا خیال ہے کہ ابھی الیکٹرانک فیشل کا استعمال کار آمد نہیں، اس پر مزید ریسرچ کی ضرورت ہے۔

(0) ووٹ وصول ہوئے