بند کریں
خواتین مضامینچہرہکیل مہاسے کیسے ختم کریں

مزید چہرہ

پچھلے مضامین - مزید مضامین
کیل مہاسے کیسے ختم کریں
کیل مہاسے (ACNE) جلد کی ایک بیماری ہے۔ اس میں چہرے پر کیل مہاسے نمودار ہوتے ہیں۔ یہ بیماری کسی بھی عمر میں ہوسکتی ہے۔ اس سے انسان کا چہرہ متاثر ہوتا ہے، جس کی وجہ سے انسان اپنی خود اعتمادی کھو بیٹھا ہے۔
کیل مہاسے (ACNE) جلد کی ایک بیماری ہے۔ اس میں چہرے پر کیل مہاسے نمودار ہوتے ہیں۔ یہ بیماری کسی بھی عمر میں ہوسکتی ہے۔ اس سے انسان کا چہرہ متاثر ہوتا ہے، جس کی وجہ سے انسان اپنی خود اعتمادی کھو بیٹھا ہے۔
اس کی سب سے عام وجہ جلد کے روغن پیداکرنے والے غدود کا فعل تیزتر ہوجانا ہے۔ ایسا ہارمون میں تبدیلیوں کی وجہ سے بھی ہوتا ہے۔ جلد میں پیداہونے والا یہ روغن ، جلد کے مردہ خلیے اور بیکٹیریا مل کر مسامات کو بند کردیتے ہیں، جس کے نتیجے میں کیل مہاسے پیداہوجاتے ہیں۔ کیل مہاسوں کا سب سے شدید حملہ سن بلوغت کو پہنچنے کے وقت ہوتا ہے، کیوں کہ ٹیسٹسٹرون کی سطح بڑھ جاتی ہے، جس کی وجہ سے جلد کا روغن زیادہ مقدار میں پیدا ہونے لگتا ہے۔ ایام کے آغاز سے پہلے ہارمون کی جوتبدیلیاں آتی ہیں ان سے بھی کیل مہاسے پیداہوسکتے ہیں۔ اگر اچھی غذانہ مل رہی ہویا ذہنی دباؤ اور بے چینی کاسامنا ہوتو ان سے بھی کیل مہاسوں میں اضافہ ہوسکتا ہے۔
اس صورت حال میں عام طور پر جلد کے لیے ایسی کریمیں تجویز کی جاتی ہیں، جن میں BENZOYL PEROXIDE ہوتا ہے، جس سے مسامات کھل جاتے ہیں۔ اگر مسامات میں تعدیہ (انفیکشن) ہوگیا ہوتو ضدحیوی ادویہ (اینٹی بایوٹکس) بھی دی جاتی ہیں۔ جلد کے روغن کی تیاری کوروکنے کے لیے حیاتین الف (وٹامن اے) کی کریم بھی استعمال کرائی جاتی ہے، لیکن اس سے پہلوئی اثرات (SIDE EFFECTS) پیداہوسکتے ہیں۔ ایسی نوعمر عورتوں کو جنھیں ہارمون کی وجہ سے جلدی بیماری کاسامنا ہو، کبھی کبھی مانع حمل گولیاں بھی کھلائی جاتی ہیں۔ اگر کیل مہاسوں کی وجہ سے چہرہ زیادہ متاثر ہورہا ہوتو سرجری کی مدد بھی لی جاسکتی ہے۔
کیل مہاسوں کا علاج جڑی بوٹیوں سے بھی ہوسکتا ہے اور مغربی چینی، آیورویدک، تبتی اور جاپانی طریقہ علاج سے بھی۔
کیل مہاسوں کا علاج اس کمی کو پورا کرکے بھی کیاجاسکتا ہے، جو جسم کے اندر مختلف معد نیات یاحیاتین کے حوالے سے پیداہوجاتی ہے۔ جست (ZINC) حیاتین الف اور ھ (ای) اور سیلینیئم کی جسم کے اندر کمی کو دور کرنے کے لیے اگر ان کے ضمیمے کھائے جائیں تو کیل مہاسوں سے نجات مل سکتی ہے۔ ایک دوسرا طریقہ یہ ہے کہ تلی ہوئی، میٹھی اور چکنائی والی غذائیں کم سے کم کھائی جائیں اور تازہ سبزیاں اور بغیر چھنے ہوئے اناج زیادہ کھائے جائیں۔
چہرے کے متاثر حصے کو روزانہ دوبار جراثیم کش صابن سے دھوئیں۔ چہرے کی صفائی معیاری لوشنوں سے بھی کی جاسکتی ہے۔ ہاتھوں اور ناخنوں کو بھی صاف رکھیے۔
چہرے کو نہ چھوئیں اور نہ کیلوں کو دبا کر مواد باہر نکالنے کی کوشش کریں، کیوں کہ اس سے تعدیہ ہوسکتا ہے، جس کے نتیجے میں چہرے پر خراشیں پڑسکتی ہیں۔
صحت بخش غذائیں کھائیں ، جن میں تازہ سبزیوں، پھلوں اور بغیر چھنے اناج کاتناسب زیادہ ہونا چاہیے، چکنائی ، چینی، گوشت اور دودھ دہی والی غذاؤں سے پرہیزکریں اور زیادہ مرچ مسالوں سے بھی۔ ایسی غذائیں بھی پابندی سے کھایا کریں، جن میں جست (ZINC) کی مقدار زیادہ پائی جاتی ہو، مثلاََ بغیر چھنے ہوئے اناج، دالیں، بیج، مچھلی اور چکن وغیرہ۔ اگر ایسا ممکن نہ ہوتو روزانہ جست کے ضمیمے کھائیں۔
چاے اور کافی زیادہ نہ پئیں ۔ پانی خوب پییں، کم ازکم آٹھ گلاس روزانہ ۔ باقاعدگی سے ورزش کرنے اور گہری سانس لینے سے بھی جلد میں موجود ضرررساں مادوں میں کمی آسکتی ہے۔

(0) ووٹ وصول ہوئے