بند کریں
خواتین مضامینچہرہخارش

مزید چہرہ

- مزید مضامین
خارش
رجسم کے کسی خاص حصے مثلاً سر،بغل،ران وغیرہ تک بھی محدود ہوسکتی ہے عموماً خارش زدہ جلد بطاہر بالکل صحت مند نظر آتی ہے بعض اوقات دانے یا مہاسے وغیرہ نکلنے کے بعد خارش ہوتی ہے
خارش :
خارش سارے جسم میں بھی ہوسکتی ہے اورجسم کے کسی خاص حصے مثلاً سر،بغل،ران وغیرہ تک بھی محدود ہوسکتی ہے عموماً خارش زدہ جلد بطاہر بالکل صحت مند نظر آتی ہے بعض اوقات دانے یا مہاسے وغیرہ نکلنے کے بعد خارش ہوتی ہے اکثر اوقات خارش کے سبب کا تعین کرنا مشکل ہوتا ہے تاہم صفائی سے غفلت کمزوری،صحت،بڑھاپا،ننھے منے طفیلی کپڑے Parasites جراثیم اور گنگس خارش کے اہم اسباب ہیں گرم ماحول میں عموماً خارش زیادہ ہوجاتی ہے۔
علاج: خارش سے اپنی توجہ ہٹانے کے لیے پوری کوشش کریں مطالعے یا کسی دوسرے کام میں مصروف رہنے سے خارش کا احساس کم کیا جاسکتا ہے اچانک سخت سرد یا سخت گرم ماحول میں جانے سے پرہیز کریں صفائی بنیادی شرط ہے من بھر گرم پانی میں ایک چھٹانک میٹھا سوڈا(سوڈا بائیکارب)ملا کر نہائیں مصالحے چائے اور دوسری نشہ آور اشیا سے پرہیز کریں اونی انڈروئیر،بنیان اور پینٹ وغیرہ پہنیں سٹیلا زین ایمٹالAmytal فیز گانPhenergan وغیرہ ایک گولی پر چھ گھنٹے بعد خارش کے احساس کو کم کردیتی ہے اگر خارش صرف مقامی طور پر ہو اور پسینہ آنے کا احتمال نہ ہو تو اس جگہ عام کریم لگائی جاسکتی ہے کیلامینCalamine لوشن بھی خاصا مفید ہے مقعد کے گرد خارش کی صورت میں جلاب نہ لیں بیٹنوویٹBetnovate لیڈر کارٹLedarcart اور سائنالارSynalar مقامی استعمال کے لیے بہت موزوں ہے اندام نہائی کی خارش کے لیے نسٹاٹین مرہمNystatin Ointment اور وایا فارم کریم Vioform Cream زیادہ موزوں ہیں اگر خارش زیادہ جگہ پھوڑے وغیرہ بن گئے ہوں تو ٹیرا مائیسین آئنٹ منٹ لگائیں بوڑھے لوگوں کو خارش سے بچنے کے لیے ٹیسٹوویرانTestoviron کی دس ملی گرام کی ایک ایک گولی صبح اور شام استعمال کرنء چاہیے اگر یہ کوئی پیچیدہ صورت اختیار کررہی ہو تو ڈاکٹر سے ملیں۔خارش کی ایک خاص قسم صرف داڑھی یا مونچھوں والی جلد میں ہوتی ہے اس کا سبب یا تو نائی کا جراثیم آلودہ استرا ہوتا ہے یا پھر ناک سے بہنے والا جراثیم آلودہ مادہ ظاہر ہے کہ یہ بیماری صرف کلین شیوڈ مردوں میں ہوتی ہے اس کے علاج کے لیے ٹیرامائیسین مرہم یا نیو مائسینNeomycin اور بیسٹراسینBecitracin مرہم ملاکر لگانے سے افاقہ ہوجاتا ہے اس عجیب و غریب کا آخری یہ ہے کہ داڑھی اور مونچھیں بڑھالی جائیں۔
چہرے کے کیل اور مہاسے: بلوغت کے وقت کم وبیش ہر لڑکے اور لڑکی کو ایکنی کا شکار ہونا پڑتاہے اس کا شکار بارہ اور بیس سال کے درمیان کی عمر کے لڑکے اور لڑکیاں ہوتے ہیں ایکنی عموماً تین چار سال تک رہتی ہے اسے فطری کہا جاسکتا ہے لیکن اگر یہ زیادہ طول پکڑ جانے یا بہت شدید ہوتو اس کا علاج کرانا پڑتا ہے لڑکیوں کی نسبت لڑکوں میں ایکنی زیادہ شدید ہوتی ہے کئی نفسیاتی عوامل خصوصاً جنس سے متعلق عوامل اسے شدید تو کردیتے ہیں بعض خاندانوں میں ایکنی زیادہ شدید ہوتی ہے صفائی کا فقدان ایکنی میں اضافہ کرتا ہے۔
علاج: اگر ایکنی زیادہ شدید یا طوبل نہ ہو تو اسے اس حال پر چھوڑ دینا چاہیے چہرے کی صفائی پر خصوصی توجہ دیں لیکن میک اپ کے لیے کریم کی بجائے لوشن کی قسم کے مرکبات استعمال کرنا کم خطرناک ہوتا ہے گھی مکھن انڈے،چائے اسپرین(اسپرو)،تمباکو اور اونی کپڑے ایکنی میں اضافہ کرتے ہیں ان سے پرہیز کریں لحمیاتی اور وٹامن(خصوصا ً وٹامن سی)سے بھرپور غذا کھائیں اگر مہاسوں میں پیپ پڑ رہی ہو تو ٹیڑاسائکلینTetracycline کیپسول تیز بہدف دوا ہیں لیکن ان کے استعمال سے پہلے ڈاکٹر سے مشورہ کرلیں مہاسوں پر زنک سلفیٹ یا کیلامین لوشن لگایا جاسکتا ہے بریسوولBrasviol پیسٹ بھی موثر دوا ہے ایکنی والے چہرے پر کریم نہ لگائیں اس سے ایکنی اور بھی زیادہ ہوجاتی ہے بعض لوگوں کو کیل مہاسے کھرچنے کی عادت ہوتی ہے اس سے ایکنی ختم نہیں ہوتی بلکہ اور بڑھتی ہے دوسرے اس طرح چہرے کی جلد پر گڑھے بن جاتے ہیں۔

(0) ووٹ وصول ہوئے