بند کریں
خواتین مضامینچہرہخوبصورت جلد کا حصول آیورویدک طریقوں سے

مزید چہرہ

پچھلے مضامین - مزید مضامین
خوبصورت جلد کا حصول آیورویدک طریقوں سے
صحت مند اور شاداب جلد صرف لوشنز اور کریمیں لگانے سے حاصل نہیں کی جاسکتی بلکہ جسم اور خون کو اندرونی طور پر صاف رکھنے میں ہی خوبصورت جلد کے حصول کا راز پوشیدہ ہے
نسیم حسین:
کیا آپ کے دراز میں اینٹی ایجنگ مصنوعات کی بھرمار ہے یا ایسی کریموں کی جنہیں آپ جلد کی شگفتی کے حصول کے لیے خاصے مہنگے داموں خرید کر لائی ہیں۔ آپ مہینہ میں ایک بار فیشل کروانا نہیں بھولتیں تاکہ چہرے کی جلد پُررونق ہوجائے۔ ان تمام اشیاء کے ہوتے ہوئے اگر ہم آپ کو ایک ایساطریقہ بتادیں جوکم خرچ بھی ہو اور پائیدار بھی تو کیسا رہے گا!
بہت کوششوں کے باوجود آپ جواں جلد کے حصول میں اس لیے ناکام ہیں کیونکہ آپ نے اس کیلئے درست راستے کا انتخاب کرنے کے بجائے پُر اثراشتہاروں اور سینہ گزٹ خبروں کو اہم سمجھا۔ صحت مند اور خوبصورت جلد صرف لوشنز اور کریموں کو لگانے سے حاصل نہیں ہوتی۔ اچھی جلد کے حصول کیلئے بیرونی کی بجائے اندرونی ذرائع استعمال کیے جاتے ہیں اور پورے جسم کی صفائی ضروری ہوتی ہے۔ آپ کے جسم کے اندر ہی خوبصورت جلد کے حصول کا راز موجود ہوتا ہے بس ضرورت اس بات کی ہے کہ آپ جواں جلد کے حصول کا یہ راز جان لیں۔ قدرت نے جلد کے مسائل کے حل انسانی جسم کے اندر ہی رکھے ہیں۔ جواں جلد کے حصول کا سب سے پائیدار طریقہ نظام خون کو صاف رکھنا اور اندرونی غدود کی ریزش کو متوازن رکھنے میں ہے۔ جلد ہمارے جسم کا سب سے بڑا عضو ہے اور اس کا خیال رکھنا نہایت ضروری ہے۔ جب آپ اپنے خون کی صفائی کرتے ہیں تو جسم سے زہریلے مرکبات خارج ہوتے ہیں جو آپ کی جلد کو متحرک کرنے کا باعث بنتے ہیں۔ جس سے جلد خوبصورت اور صحت مند ہوجاتی ہے۔ بدقسمتی سے زہریلے ماحول،ادویات، پروسس کی ہوئی غذاؤں اور دباؤ سے بھرپور زندگی نے ہر انسان کی زندگی کو قدرت سے بہت دور کردیا ہے۔ نوجوانی میں ہم بہت سے باتوں پر اس طرح توجہ نہیں دیتے جیسا کہ ان کا حق ہوتا ہے لیکن جب ہم ادھیڑ عمری میں داخل ہوجاتے ہیں اور ہماری جلد اپنی لچک سے محروم ہونے لگتی ہے تو ہم نوجوان اور خوبصورت جلد کے حصول کیلئے بہت سی ترکیبیں آزماتے ہیں لیکن ہمیں ایسی جلد کیلئے جسم کے ایکو سسٹم کو متوازن کھنے کی ضرورت ہوتی ہے۔
اپنے جسم کے ایکو سسٹم متوازن رکھنے کے لئے ہمیں مکمل طور پر یونانی یا آیورویدک طریقوں پر انحصار کرنا ہوگا۔ جسم اور خون کو اندرونی طور پر صاف رکھنے کے لئے پانی پینے اور ورزش کرنے کے علاوہ بعض ایسی جڑی بوٹیوں کا استعمال بھی ضروری ہے جن کے نتائج بہترین ہوتے ہیں۔ جلد کو جوان رکھنے کے لیے ان جڑی بوٹیوں سے زیادہ کوئی اور چیز نہ تو مفید ہے نہ قدرتی نتائج کی حامل۔
منجیلتھا کی جڑیں:
یہ جڑی بوٹی انگریزی میں کہلاتی ہے۔ یونانی طریقہ علاج میں اسے خون صاف کرنے کے لئے بہترین جڑی بوٹی سمجھا جاتا ہے۔ جلد کے انفیکشن کے خاتمے کے لئے اسے صدیوں سے استعمال کیا جارہا ہے۔ یہ جلد کے علاوہ اینٹی الرجن ، اینٹی بیکٹیریل اور اینٹی وائرل بھی ہے اسے جلد کے تحفظ کی سب سے مئوثر دواکہا جائے تو غلط نہ ہوگا۔
صندل کی لکڑی:
اسے چند ن کے نام سے بھی پکارا جاتا ہے۔ یہ جلد کیلئے انتہائی اہم ہے خاص طور پر رنگت کے نکھارکیلئے بے مثال سمجھی جاتی ہے۔ تاہم بہت سے لوگ اس کی طبی و شفائی خصوصیات سے واقف نہیں۔ یہ جلد کی سوزش دور کرتی ہے ۔ جلد کو سرطان اور فنگس سے محفوظ رکھتی ہے ساتھ ہی جلد کو آپ وتاب بھی دیتی ہے۔
گندم کی گھاس:
یہ عام گندم سے اُگائی جانے والی گھاس ہے۔ اسے پاؤڈر یا جوس کی شکل میں فروخت کیا جاتا ہے۔ اس میں شامل معدنیات، امینو ایسڈ، وٹامنز اور انزائمز اسے عمدہ صحت کے حصول کیلئے ضروری بناتے ہیں۔ گندم کی گھاس کی افادیت اور تاریخ پر نظر ڈالیں تو یہ پانچ ہزاربرس قبل کے مصر، میسو پوٹیمیا میں بھی استعمال کی جاتی تھی۔ گندم کی ننھی منی گھاس میں کیلشیم، آئرن اور کلوروفل 11 کی موجودگی اسے نہایت صحت بخش گھاس بناتے ہیں۔ گندم کی گھاس سے بنا پاؤڈر جسم سے زہریلے عناصر صاف کرتا ہے آنتوں کے نظام کو صاف رکھتا ہے ۔ ہیموگلوبن کی سطح میں اضافہ کرتا ہے اور جسم میں صحت مند خلیات کی پیداوار بڑھاتا ہے۔ یہ ہائپر ٹینشن یا بلڈ پریشر میں بھی مفید ہے۔ دریدوں کی صحت بہتر بناتی ہے۔ یہ دفاعی نظام کو مضبوط بنا کر انفیکشن میں مبتلا ہونے نہیں دیتی۔ اس میں بڑھاپے کے خاتمے کے اجزاء بھی موجود ہیں۔ منہ کی صحت بہتر بناتی ہے۔ بدبو دار سانس کا خاتمہ ہے۔
برصغیر اور افریقہ میں پائی جانے والی جڑی بوٹی کو اگر سپر فوڈ کہا جائے تو غلط نہ ہوگا۔ اس میں وٹامنز معدنیات اور امینو ایسڈ پائے جاتی ہیں اس کے علاوہ پروٹین بھی موجود ہوتا ہے۔ مورینگا اپنی غذائیت کے لحاظ سے دنیا کا انتہائی اہم پودا ہے۔ اسے پوری دنیا میں خوراک کی کمی کے خاتمے کے لیے ہزاروں برس سے استعمال کیا جارہا ہے۔ مورینگا کا روزانہ استعمال کے مساوی 6-10 مرتبہ سبزیوں کے روزانہ استعمال کے مساوی غذائیت کا حامل ہے۔ مورینگا کے پتوں میں وٹامنز اور معدنیات پائے جاتے ہیں ۔ مورینگا کا کم استعمال بھی جسم کے غیر متوازن نظام کر متوازی کرتا ہے یہ روزانہ کے لئے ضروری غذائیت فراہم کرتا ہے۔ اس میں بیٹا کیروٹین یعنی وٹامن A کی خام حالت گاجر کے مقابلے میں چارگناہ زیادہ ہوتی ہے اس میں دودھ کے مقابلے میں 17 گنا زیادہ کیلشیم اور پالک سے 25 گنا زیادہ فولاد پایا جاتا ہے۔ وٹامن C سے بھرپور مورینگا کے کیپسولز ان لوگوں کے لیے بہترین ہیں۔ جو غذائیت کی کمی میں مبتلا ہیں۔ اس کے علاوہ کھلاڑیوں، باڈی بلڈز،حاملہ، دودھ پلانے والی ماؤں اور بیمار افراد کو اضافی غذائیت فراہم کرتا ہے۔ اسے برسوں تک بغیر کسی مضر صحت اثرات کے استعمال کیا جاسکتا ہے اسے زخموں اور کیڑے کے کاٹے پرلگانے سے فائدہ ہوتا ہے۔ فنگل انفیکشن میں اس کا عرق کام دیتا ہے۔ ماؤں کے دودھ کی مقدار بڑھاتا ہے ۔ اس کے پھول کا رس پیشاب کی بیماریوں میں مفید ہے۔ یہ پودا جگر کے مسائل دور کرتا ہے اور جوڑوں کے درد میں کمی لاتا ہے۔ ڈائریا میں اس کا استعمال نہایت مفید ہے۔ مورنیگا کے بیج جوڑوں کے مختلف امراض صنفی امراض میں بھی فائدہ مند ہیں۔ بیجوں کو ناریل کے تیل میں پیس کر استعمال کرنے سے فائدہ ہوتا ہے۔
نامیاتی ہلدی:
قدرتی کھاد سے اُگائی گئی ہلدی ایک قدرتی اینٹی بایوٹک ہے۔ یہ جلد کو فنگس اور بیکٹیریا ئی انفیکشن سے محفوظ رکھتی ہے اور دِسوزش بھی ہے اینٹی وائرل ہلدی جلد کے خلیات کو دباؤ سے بچاتی ہے۔ یہ خلیات جلد کو آرام دہ حالت میں رکھتے ہیں۔ جس سے جلد شگفتہ اور جواں نظر آتی ہے۔
تلسی:
دباؤ کو دور کرنے میں تلسی لاجواب ہے دباؤ انسانی جلد کو عمر دار دکھاتا ہے جبکہ تلسی دباؤ کوکم کرتی ہے اور ردِسوزش ہے۔
گڈوچی کاتنا:
گڈوچی دفاعی نظام کر متحرک کرتا ہے جس سے جلد کے انفیکشن کا خاتمہ ہوتا ہے۔ یہ جلد پر موجود زخموں کے نشانات، بھورے اور سیاہ دھبوں کو ختم کرتا ہے۔ ماحولیاتی آلودگی سے جلد کو محفوظ رکھتا ہے۔ یہ قدرتی طور پر ردّسوزش ہے۔
یونانی یا آیورویدک طریقہ علاج میں نیم کی حیثیت مسلمہ ہے۔ یہ جلد کو سکون دینے والی مختلف ادوایات میں استعمال کیے جاتے ہیں۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ اینٹی بایوٹکس کے بجائے قدرتی طریقہ علاج کو اپنایا جائے۔ ایک صحت مند طرزِ زندگی آپ کے خون کو بھی صاف اور صحت مند رکھتا ہے۔ ہربل اینٹی بایوٹکس کے استعمال سے مجموعی صحت اچھی رہتی ہے۔ کئی ہربل ادویات میں نیم کو خون کی صفائی کے لئے شامل کیاجاتا ہے۔ نیم کی سب بڑی خصوصیات اس کا کیل مہاسوں، فنگل،بیکٹیریا اور پیراسائنس انفیکشن کے خلاف طاقتور ہونا ہے۔ یہ جلد کے ٹشوزکو بہتر بنانے کے علاوہ چہرے پر موجود جھائیوں اور نشانات کا بھی خاتمہ کرتا ہے۔ منہ کی صحت کو برقرار رکھنے کے لیے نیم بہترین دوا ہے۔ یہ خون سے زہریلے مرکبات نکال کر اسے صاف بناتا ہے۔طویل عرصے تک استعمال کے لیے بھی مفیدہے۔ نیم کو ایک عجوبہ پودا کہا جاتا ہے۔ یہ انسان کے دفاعی نظام کو متحرک کرتا ہے اور انفیکشن کو دور کرتا ہے نیم میں ایسی جادوئی خصوصیات موجود ہیں جو چند ایک پودوں میں ہی پائی جاتی ہیں۔ نیم ایک بہترین اینٹی آکسیڈینٹ ہے اور اس کا استعمال ایلو پیتھک دواؤں سے زیادہ مفید مانا جاتا ہے نیم جلد کے لیے بھی جادوئی اثرات کا حامل ہے۔
نیم جلد کو چمکدار بناتا ہے۔ اسکن الرجیز کا خاتمہ کرتا ہے۔ نیم کے استعمال سے بخار میں بھی افاقہ ہوتا ہے جیسا کہ پہلے بھی بتایا گیا کہ نیم دانتوں اور مسوڑھوں کی تکالیف کا بہترین علاج ہے۔ نیم کے پھول یا نمبولی مختلف جراثیم کے حملوں سے جسم کو بچاتے ہیں خاص طور پر خون کی بیماریوں میں بطور علاج کارگرہیں نمبولی بلڈ شوگر کم کرتی ہے اور اینٹی فنگل اینٹی وائرل اینٹی بیکٹیریل خصوصیات کی حامل ہے۔
یونانی یا آیورویدک ادویات جلد کے تمام مسائل کا حل پیش کرتی ہیں اور اب دواؤں کی شکل میں تمام اہم جڑی بوٹیاں دستیاب ہیں۔ بعض آیورویدک دوائیں اتنی اثر دار ہوتی ہیں کہ روزانہ صرف دو گولیاں کھانے سے جلد کے تمام مسائل ہوجاتے ہیں اوریوں جسم کو جلد کے مسائل سے نمٹنے کا قدرتی طریقہ بھی مل جاتا ہے۔ جلد کی رنگت کی تبدیلی اور دیگر مسائل کے حل کے لیے آنکھیں بند کرکے مہنگی کریمیں خریدنے کی بجائے اپنی جلد کے مسائل جڑی بوٹیوں سے تیار کردہ ادویات میں تلاش کیجئے تا کہ ہارمون بھی متوازن رہیں اور آپ کی صحت بھی بہتر رہے۔

(0) ووٹ وصول ہوئے