بند کریں
خواتین مضامینبچے کی نگہداشتایک سال کی عمر تک کے بچوں کی دیکھ بھال

مزید بچے کی نگہداشت

پچھلے مضامین - مزید مضامین
ایک سال کی عمر تک کے بچوں کی دیکھ بھال
پیدائش کے بعد نوزائیدہ بچے کی جسمانی صلاحیت سردو گرم ماحول کو جھیلنے کے لائق بالکل نہیں ہوتی، اس کا جسم ابتدائی دنوں میں سردی اور گرمی دونوں سے ہی فوراً متاثر ہوتا ہے، اسے ماں کے آغوش کی گرمی مستقل چاہیئے
ایم عارف حسین:
موجودہ دور میں بچوں کی نگہداشت ایک اہم مسئلہ بنتا جا رہا ہے۔ بہتر معاشی حالت کے لئے والدین کا ملازمت کرنا ضروری ہو گیا ہے۔ ماوٴں کے پاس بچوں کی نگہداشت کے لئے وقت کم ہے پھر بھی جو وقت ملتا ہے اس میں بچوں کی صحت و تندرستی اور اس کی خصوصی نگہداشت کی ضرورت ہے۔ چھوٹے بچوں یعنی ایک سال کی عمر تک کے بچوں کیدیکھ بھال کے لیے کچھ ضروری ہدایات پر عمل ضروری ہے جس سے بچے کو آرام ملے گا اور والدین کو بھی پریشانی کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا۔ دیکھنے میں آتا ہے کہ ایسے شادی شدہ جوڑے جو کسی وجہ سے گھر کے بڑے بزرگوں کے سائے سے دور تنہائی کی زندگی گزار رہے ہیں ان کے سامنے شیر خوار بچوں کی پرورش ایک بہت بڑا مسئلہ بن جاتا ہے، انسان کا بچہ دیگر جاندار کے بچوں سے مختلف ہے اس میں سیکھنے کا عمل رفتہ رفتہ ہوتا ہے اور وہ بہت دیر میں اپنی ضرورتوں کو پورا کرنے پر قادر ہوتا ہے۔ وہ خواہشوں کے اظہار اور ان کے لئے زبان کا استعمال ماحول، گھر کے افراد، ہم عمر بھائی بہنوں اور بعد میں دوست احباب کے ساتھ سیکھتا ہے۔ ان حالات سے پہلے وہ اپنی ضرورتوں کے اظہار کا محتاج ہوتا ہے اور اس کی جسمانی، فطری ضرورتوں اور تکالیف کو سمجھنے کے لئے حاضر دماغی اور خاص دھیان کی ضرورت ہوتی ہے۔
پیدائش کے بعد نوزائیدہ بچے کی جسمانی صلاحیت سردو گرم ماحول کو جھیلنے کے لائق بالکل نہیں ہوتی، اس کا جسم ابتدائی دنوں میں سردی اور گرمی دونوں سے ہی فوراً متاثر ہوتا ہے، اسے ماں کے آغوش کی گرمی مستقل چاہیئے۔ نوزائیدہ بچے کو ہر ایک گھنٹہ پر مدر فیڈنگ کی ضرورت ہوتی ہے، اس کے بعد بچہ سوتا رہتا ہے۔ ابتدائی دنوں میں بچہ بیس سے بائیس گھنٹہ سوتا ہے، اس دوران بچے کو ہر ایک یا دو گھنٹہ پر غذا کی ضرورت ہوتی ہے۔ مدر فیڈنگ بچے کے لیے بہترین ہے اور تحقیقات سے یہ بات ثابت ہو چکی ہے کہ بچوں کی نشوونما میں ماں کا دودھ سب سے بہتر ہے۔ بچے کو گود میں لے کر سر کو اونچا کر کے دودھ پلانا چاہئیے لیٹ کر دودھ پلانے سے بچے کو کان بہنے کی بیماری ہو جاتی ہے۔ دن میں چار بار اس کے جسم پر زیتون یا خالص سرسوں کے تیل کی نرم ہاتھوں سے مالش کرنی چاہیئے، غذا دینے اور تیل مالش کا کام آرام کے وقفے یہ ایک وقت مقرر کر کے کرنے سے بچے اور ماں دونوں کو کافی راحت اور آرام ملتا ہے۔
بچے کو کبھی بھی نہ سلائیں، تکیہ گھر میں اس طرح کابنائیں کہ اس کے درمیان کا حصہ نسبتاً گہرا ہو اور تکیہ کے کنارے اونچے ہوں، ورنہ بچے کا سر ایک جانب سے چپٹا ہو جائے گا۔ بچے کو کچھ دیر دائیں کروٹ پر سلائیں، بچے کے رونے کی آواز اور کیفیت کو سمجھنے کی کوشش کیجئے، کسی تکلیف کی وجہ سے بچہ اگر روتا ہے تو ہاتھ اس تکلیف کے مقام پر بار بار لے جاتا ہے۔ بچے کے پیٹ میں گیس تکلیف کا سبب بن سکتی ہے، قبض ،پیشاب کا نہیں ہونا، کان میں تکلیف، چیونٹی یا کسی اور حشرات کے کاٹنے جیسے اسباب بھی تکلیف کا سبب بن سکتے ہیں۔ بچہ پیشاب یا پاخانہ کرنے کے بعد گیلے بستر پر رہنا نہیں چاہتا اس کے رونے کا سبب بستر کا گیلا ہونا بھی ہو سکتا ہے، بچے کے اوڑھنے، بچھانے، منہ صاف کرنے کے کپڑوں کو روزانہ صابن سے دھونا نہایت ضروری ہے۔ بچوں کی انگلیوں کے دومیان، گلے اور بازو میں اکثر ماوٴں کے لمبے بال پھنس جاتے ہیں، ان سے جسم کٹ سکتا ہے اور زخمی ہو سکتا ہے۔ بچے کا منہ ڈھک کر نہ سلائیں اگر ایسا ضروری ہو تو باریک کپڑے کا ٹکڑا یا چھوٹی مچھر دانی کا استعمال کریں۔ نیپی کو صابن سے اچھی طرح دھویا کریں۔ موسم کے اعتبار سے بچوں کے کپڑے ڈھیلے اور نرم استعمال کریں جس سے بچہ آرام محسوس کرے، ربڑ کی بیلٹ اور ٹائٹ پاجامہ و دیگر لباس کا استعمال نہ کریں ،ربڑ کمر پر خون کی گردش کو روک دیتا ہے۔ ہلکے ازار بند یا بٹن والے کپڑوں کا استعمال کریں۔ بچہ جب چھ ماں سے بڑا ہو جائے تو خصوصی خیال رکھیں۔ ہلکی غذا دینا شروع کر دیں، اس کو دال کا پانی، سبزیوں کا سوپ، کھچڑی اور نرم چاول کھلانے کی عادت ڈالیں۔ سات ماہ کے بعد عام طور پر بچوں کے دانت نکلنے کا عمل شروع ہو جاتا ہے۔ اس وقت بچوں کو قے اور دست کی بیماریاں عام طور پرہوتی ہیں، بچوں کو ڈائریا اور دست کی بیماری سے بچاناضروری ہے اس کے لیے دانت نکلنے کے دوران دواوٴں اور پیس ٹیتھر کا استعمال کیا جانا چاہئے۔
بچہ جب چلنے کے لائق ہو جائے تو اس کے آس پاس کسی ایسی چیز کو نہ رہنے دیں جس سے بچے کو نقصان ہو۔ مثلاً جلتا ہوا لیمپ، گرم پانی کی بوتل، قینچی، چھری، چاقو یا پتھر اور اینٹ کے ٹکڑے وغیرہ۔ اس عمر میں بچے تمام اچھی بری چیز کو منہ میں ڈال لیتے ہیں، اس لئے اس بات کا خصوصی خیال رکھیں۔ بچہ منہ میں کوئی ایسی چیز نہ رکھے جو اس کے لیے نقصان دہ ہو۔ چھوٹے بچوں کو پرام میں اگر باہر لے جائیں تو دونوں بازووٴں میں تکیہ لگا دیں تاکہ وہ جھٹکے سے دائیں بائیں ہچکولے نہ کھائے ایسے میں گردن میں موچ آسکتی ہے۔ پرام کو فٹ پاتھ پر یا لان میں تنہا مت چھوڑیں، بچے کو باتھنگ ٹپ اور کچن میں یا چولہے کے پاس اکیلا چھوڑنا خطرناک ہو سکتا ہے۔ بچہ جب اپنے پیروں پر کھڑا ہونے لگے تو چیزوں کو اس کے ہاتھ کی پہنچ سے دور رکھیں۔

(7) ووٹ وصول ہوئے