بند کریں
خواتین مضامینبچے کی نگہداشتبچے دیر سے کیوں بولتے ہیں؟

مزید بچے کی نگہداشت

پچھلے مضامین - مزید مضامین
بچے دیر سے کیوں بولتے ہیں؟
جب بچہ اشاروں سے اپنی کوئی ضرورت بتائے تو آپ ناسمجھ بن جائیں، اس طرح وہ ٹوٹے پھوٹے لفظوں میں ضرور کچھ نہ کچھ بولنے کی کوشش کرے گا تاکہ آپ کو اپنی بات سمجھا سکے
مسز حمیرا:
مسز حمیر ادریس نے جی سی یونیورسٹی لاہور سے کلینیکل سائیکالوجی میں ماسٹرز کے بعد پنجاب یونیورسٹی سے کلینیکل سائیکالوجی میں ایڈوانس ڈپلومہ حاصل کیا۔ انہوں نے سپیچ تھراپی میں بھی اسپشلا ئزیشن کیا۔ اس وقت مسز حمیرا چلڈرن ہسپتال لاہور میں بطور سپیچ تھراپسٹ خدمات سرانجام دے رہی ہیں۔
اگر فیملی چھوٹی ہو، ماں اور باپ دونوں ہی جاب کرتے ہوں، بچے کی مکمل دیکھ بھال دادا‘ دادی یا نانا‘ نانی کے سپردہویا پھر بچوں کی پرورش ڈے کیئر سنٹر میں ہورہی ہوتو بھی بچے دیر سے باتیں کرنا سیکھتے ہیں۔
2 سال کا بچہ چھوٹے چھوٹے بولنے لگتا ہے جیسے میرے بابادور․․․․ ماماباہر وغیرہ․․․ اورپھر تین سال کی عمر میں بچے مکمل جملے بولنے لگتے ہیں ۔ جب بچہ اشاروں سے اپنی کوئی ضرورت بتائے تو آپ ناسمجھ بن جائیں اس طرح وہ ٹو ٹے پھوٹے لفظوں میں کچھ بولنے کی کوشش کرے گاتاکہ آپ کواپنی بات سمجھا سکے۔ سائنسی علوم کے مطابق اس بات میں کوئی صداقت نہیں کہ لڑکیاں لڑکو ں کی نسبت جلد بولناشروع کردیتی ہیں بچوں کے دیرے سے یاجلد بولنے میں صرف ان کے اردگرد کا ماحول ہی اثراندازہوسکتا ہے کیونکہ قدرتی طور پر لڑکے اور لڑکی کی ذہنی نشوونما یکساں ہوتی ہے۔عموما پہلا بچہ گھر کے سبھی افراد کی آنکھ کا تارا بن جاتا ہے اوراسے لاڈپیار کے ساتھ توجہ بھی زیادہ ملتی ہے۔ ممکن ہے اسی لئے آپ کی بیٹی جلدی باتیں کرنا سیکھ گئی ہو جبکہ بیٹے کو اس طر ح توجہ نہ ملی ہو۔ دراصل دوسرے بچے کی پرورش ایک طے شدہ طریق کار کے تحت ہوتی ہے گھر کے سبھی لوگ ایک خاص معمول کے عادی ہوچکے ہوتے ہیں اس لئے بھی دوسرے بچے کوزیادہ توجہ نہیں ملتی۔ اس کے علاوہ اگر دوسرے بچے میں وقفہ کم ہوتو بھی ایک بچے کو مکمل توجہ نہیں ملتی۔ اگر فیملی چھوٹی ہو ماں اور باپ دونوں ہی جاب کرتے ہوں، بچے کی مکمل دیکھ بھال دادا‘دادی یا نانا‘ نانی کرتے ہوں یا پھر بچوں کی پرورش ڈے کیئر سنٹر(Day care centre) میں ہو تو بھی بچے دیر سے باتیں کرنا سیکھتے ہیں۔ جن بچوں کا وزن عمر سے زیادہ ہو ‘ وہ بھی ذہنی طور پر ست ہی سمجھے جاتے ہیں اس لئے آپ اپنے بیٹے کی خوراک میں بھی توازن رکھیں اوراسے ایسی خوراک نہ دیں جس سے اس کا وزن بڑھنے کا اندیشہ ہو۔ جہاں تک بادام کھانے کا تعلق ہے تواس سے ذہن تیز ہو تا ہے اور مسلز مضبوط ہوتے ہیں مگرقوت گویا پر کوئی اثر نہیں ہوتا۔ حقیقت تویہ ہے کہ دنیامیں کوئی بھی ایسی دوا نہیں ہے جسے کھا کربچے بولنا سیکھ جائیں۔ ذہنی طور پرکمزور بچے اکثر4 سے5 سال کی عمر تک بولنا شروع کرتے ہیں۔چونکہ آپ کی بڑی بیٹی جلد بولنا سیکھ گئی تھی۔وہ اپنے بھائی کو بولنا سکھانے میں آپ کی بہتر مدد کر سکتی ہے۔ ایک دوسرے کے ساتھ زیادہ وقت گزارنے اور مختلف تفر یحی سر گرمیوں کی وجہ سے بھی جلد بولنا سیکھ جاتے ہیں۔

(3) ووٹ وصول ہوئے