بند کریں
خواتین مضامینبچے کی نگہداشتبچوں کی گروہی سرگرمیاں

مزید بچے کی نگہداشت

پچھلے مضامین - مزید مضامین
بچوں کی گروہی سرگرمیاں
بچہ فطرتاً خود غرض ہوتا ہے مگر چونکہ اس کی اپنی خواہشیں دوسروں کے ساتھ مل کر ہی پوری ہوتی ہے اس لیے وہ اپنی انفرادی ترک کرکے گروہی سرگرمیوں کی طرف مائل ہوتا ہے

وہ جوں جوں بڑا ہوتا ہے سزا و جزا اور معاشرتی تحسین و تضحیک سے ڈر کر اپنی ذات میں گم رہنے کی عادت ترک کرتا چلا جاتا ہے اسے یہ احساس ہونا شروع ہوجاتاہے کہ زندگی کے حقیقی فرحت بخش لمحے وہی ہیں جن میں وہ دوسروں کے ساتھ مل جل کر بیٹھتا کھیلتا اور ہنستا بولتا ہے خود پسندی کے منافی ہوتے ہوئے بھی وہ معاشرتی استحسان کے لالچ سے اجتماعیت کی طرف مائل ہوجاتا ہے دوسروں پر انحصار ان سے تعاون اوران کے احترام کا احساس جو بچپن میں تقریباً غائب ہوتا ہے اب اجاگر ہونے لگتا ہے۔معاشرے کا مہذب رکن بننے کے لیے بچوں کو معاشرتی مطابقت کی تعلیم دینا بھی بے حد ضروری ہے انہیں دوسرے بچوں سے اچھا سلوک اور ان کے حقوق اور دلچسپیوں کا احترام کرنا سکھانا چاہیے،کھیل کا میدان بچے کی بہترین تربیت گاہ ہے بچے کے معاشرتی ارتقا کا انحصار بڑی حد تک اس کے کھیلوں پر ہے وہ بچے جنہیں کھیل میسر نہیں آتااورجو اندرون بینی میں الجھے رہتے ہیں یا ایسے بچے جو اپنے ماحول میں ہم عصر ساتھیوں کے میسر نہ آنے کی وجہ سے صرف بڑوں ہی کی صحبت میں پلے بڑھے ہوں اپنے ہم جولیوں کے ساتھ کھیلنے سے محروم رہنے کی وجہ سے وہ جذبہ رفاقت سے بھی نا آشنا رہتے ہیں کھیل کی دلچسپیاں ہی بچے کی آئندہ ذہنی اورمعاشرتی زندگی کی بنیادی استوار کرسکتی ہے بچے کو اپنے ہم عصر بچوں سے میل جول رکھنے اور کھیلنے کی اشد ضرورت ہے معقول نشوونما کے لیے ہر بچے کو چند مناسب اور ہمعصر ہمجولی میسر آنے چاہییں جن سے بے تکلف ہو کر وہ کچھ کہہ سکے کچھ سن سکے،
بلوغت کی تبدیلیاں:
دوسروں کے لیے جو محبت بچہ ابتدائی دور میں محسوس کرتاہے وہ عموماً خودستائی کی محبت ہوتی ہے مگر اوائل بلوغت میں بچہ مقابل جنس کی طرف طبعی کشش ہلکے ہلکے جھٹکے محسوس کرتا ہے بچے کی معاشرتی ماحول میں ایک نئی وسعت پیدا ہوتی ہے اوروہ ایسے معاشرتی مسائل میں گم ہونے لگتا ہے جن میں پہلے اسے کوئی دلچسپی نہیں ہوتی اس کے ساتھ اس کی اجتماعیت پسندی بھی بڑھتی جاتی ہے اب وہ گروہ کے مفاد اور اپنے ساتھیوں کی خاطر لڑنے بھڑنے کے لیے بھی جلد آمادہ ہوجاتا ہے اس وقت بچے کو قیادت خدمت اور اطاعت کے اصولوں سے آگاہ کرنا بھی بہت ضروری ہوتا ہے اگر وہ دوسروں کو متاثر نہیں کرسکتا تو وہ معاشرے کے لیے پتھر ہے،بچے میں معاشرتی کشش کا ہونا بھی لازمی ہے اسے صفائی پسندی اورمیانہ روی کی تعلیم دینا ضروری ہے مکتب کے مشاغل میں اس کی دلچسپی میں کمی واقع ہونا خطرناک علامت ہے اسے زیور تعلیم سے محروم اور اصول شہریت سے بے بہرہ رکھنا خطرے سے خالی نہیں معاشرتی بلوغت مناسب معاشرتی ماحول ہی میں پروان چڑھتی ہے بچے کے ماحول کے چند مخصوص عناصر معاشرتی شعور کی نشوونما کے لیے راستہ صاف کرتے ہیں معاشرتی نظام بچے کے شعور کو مخصوص سانچوں میں ڈھالنے میں نمایاں حصہ لیتا ہے۔

(0) ووٹ وصول ہوئے