بند کریں
خواتین مضامینبچے کی نگہداشتبچوں کی عادتیں

مزید بچے کی نگہداشت

پچھلے مضامین - مزید مضامین
بچوں کی عادتیں
کھانے پینے اور سونے کی بنیادی جسمانی عادتیں بچے کو زندگی کے پہلے چند مہینوں میں پڑ جاتی ہیں بچے میں ان عادتوں کو راسخ کرتے وقت والدین کی لاپرواہی یا کسی قسم کے تادیبی ضبط و نظم کی شدت سے اختیار کرنا بہت مضر ثابت ہوتا ہے

رفع حاجت کے لیے بیٹھنے،وقت پر کھانا کھانے اورسونے جاگنے میں باقاعدگی کی عادت ڈالنے میں یہ خیال رکھنا چاہیے کہ بچہ اس ابتدائی تربیت سے کسی قسم کا بوجھ یا دباﺅ محسوس نہ کرے اس کی آئندہ ذہنی اور جسمانی صحت کا انحصار انہی اولین عادتوں کے مناسب نشو و ارتقا پر ہے۔بعض اوقات اچھے بھلے بچے صحت و صفائی سیکھتے سیکھتے بگڑ جاتے ہیں ان کے بگڑنے کے بے شمار اسباب ہوسکتے ہیں نئے بہن بھائی کی پیدائش پر لاڈ پیار میں پلے ہوئے بچے کو بھاری ذہنی صدمہ پہنچتا ہے لہٰذا ایک مدت تک صفائی کا پابند رہنے کے بعد اب وہ پھر گندی عادتوں کی طرف مائل ہونا شروع ہوجاتا ہے اس کا یہ رجحان والدین کی شفقت میں کمی اور نوزائیدہ بچے کی طرف ضرورت سے زیادہ توجہ کے خلاف ایک فطری احتجاج ہے اسے یہ احساس ستانے لگتا ہے کہ والدین اب اسے نہیں چاہیے والدین کو اپنی طرف متوجہ کرنے کے لیے اسے انوکھے طریقے اختیار کرنا پڑتے ہیں اگر بچہ والدین کی سکھائی ہوئی عادتوں سے جان بوجھ کر لاپرواہی کا اظہار بھی کرنے لگے تو والدین کو ایسا رویہ اختیار کرنا چاہیے جس سے یہ ظاہر ہو کہ اس طفلانہ حرکت کو کوئی خاص اہمیت نہیں دیتے اگرچہ وہ بچوں کو کچھ سمجھانا بجھانا بھی چاہییں تو ڈرا دھمکا کر یا ڈانٹ ڈپٹ کر نہ سمجھائیں بلکہ نرمی سے سمجھانا چاہیے کہ اچھے بچے ایسا نہیں کیا کرتے،بستر پر پیشاپ خطا ہونا بھی چھوٹے بچوں میں عام ہے اس کے متعدد اسباب ہیں مگر ان میں خوف کو بہت دخل ہے عموماً ڈراﺅنے خواب دیکھ کر بچوں کا پیشاپ خطا ہوجاتا ہے بعض گھروں میں بچے جن بھوت اور چڑیل کے قصے سنتے ہیں اور پھر گھر کے تاریک کونوں میں ان کے خیالی عکس دیکھ کر خوف زدہ ہوجاتے ہیں اس لیے بچوں کو ایسی صاف ستھری اور دلچسپ کہانیاں سنانی چاہییں جن سے انہیں خوف نہ آئے بلکہ دلیری اور حوصلہ کی روح بیدار ہو،دودھ چھڑانے کے بعد بچے میں بہت عرصے تک یہ خواہش رہتی ہے کہ ماں ہی اسے کھلاتی پلاتی رہے عمر بڑھنے کے ساتھ ساتھ بچوں کو آہستہ آہستہ خود اپنے ہاتھ سے کھانے کا عادی بتانا چاہیے ماں باپ کے ساتھ بچوں کے سونے کی عادت کو جس قدر ختم کیا جائے اتنا ہی اچھا ہے بلکہ ہوسکے تو بچوں کو علیحدہ کمرے میں سونے کی عادت ڈالنی چاہیے رات کو جلد سوجانا اور صبح سویرے اٹھنا بچوں کے لیے بے حد مفید ہے چھوٹے بچوں میں بہت عرصے تک انگوٹھا چوسنے کی عادت بھی رہتی ہے طبی نقطہ نگاہ سے انگوٹھا چوسنا نقصان دہ ہے کیونکہ اس عادت سے مسوڑھوں کی مناسب نشوونما پر برا اثر پڑتا ہے نفسیاتی پہلو سے بھی یہ عادت اچھی نہیںلہٰذا بچے کی یہ بری عادت چھڑانے کے لیے تحمل سے کام لینا چاہیے اگر ذرا بڑا ہوکر بھی بچہ اس عادت کو نہ چھوڑے تو بچوں کی نفسیات کے ماہر سے مشورہ کرنا چاہیے اور بچے کی نفسیاتی تجزیہ کرنا چاہیے،دانتوں سے ناخن کترنے کی عادت زیادہ تر ان بچوں میں ہوتی ہے جو غیر معمولی اضطراب اور ناخوشگوار ذہنی تناﺅ کے شکار ہوتے ہیں ان بچو ں کو سمجھانا چاہیے کہ ناخنوں کی میل کچیل سے ان کی صحت پر برا اثر پڑسکتا ہے بعض بچوں میں جھوٹ بولنے کی عادت بھی ہوتی ہے اس بری عادت کا علاج بہت ضروری ہے تربیت کے اس اہم پہلو سے غفلت ایک اخلاقی جرم ہے جھوٹ بولنے والا بچہ کسی صورت میں بھی مہذب شہری نہیں بن سکتا ہے اس کی یہ بری عادت اسے جرم پسند اور خطرناک شہری بنانے میں بہت نمایاں حصہ لے سکتی ہے ماہرین نفیسات نے اس خطرناک ذہنی بیماری کے علاج کے لیے متعدد طریقے تجویز کیے ہیں جب کہ ذہنی تعلیم بھی اس ذہنی عارضے کا ایک کامیاب علاج ہے جو انسان اخلاقی اور کردار سنوارنے کا بہترین ذریعہ ہے مذہب سچ بولنے کی تلقین کرتا ہے لہٰذا بچے کو پیار سے مذہبی تعلیمات کی طرف راغب کرنا چاہیے دل چسپ انداز میں مذہب کی چیدہ چند اصولوں کی صحیح تعلیم بچے کے لیے اکسیر اعظم ثابت ہوگی اور مہذب اور راست گو شہری بننے میں بہت مدد دے گی۔

(0) ووٹ وصول ہوئے