بند کریں
خواتین مضامینبچے کی نگہداشتبچوں کی نکسیر پھوٹنا

مزید بچے کی نگہداشت

پچھلے مضامین - مزید مضامین
بچوں کی نکسیر پھوٹنا
اس حالت میں برف چبانے کے لیے بھی دی جاسکتی ہیں بچے کو آرام سے بستر پر چت لٹا کر ناک پر ٹھنڈے پانی کی ٹکور کیجیے بچے کو خاموش اور پرسکون لٹائے رکھے
بچوں کی نکسیر پھوٹنا
اگر بچے کی نکسیر پھوٹ جائے تو فوراً برف کے پانی میں تولیہ بھگو کر اس کی ناک صاف کیجیے اور اس کے بعد نالو اور ناک پر ٹھنڈا پانی آہستہ آہستہ ڈالیے،اس حالت میں برف چبانے کے لیے بھی دی جاسکتی ہیں بچے کو آرام سے بستر پر چت لٹا کر ناک پر ٹھنڈے پانی کی ٹکور کیجیے بچے کو خاموش اور پرسکون لٹائے رکھے اورکوئی گرم چیز پینے کے لیے مت دیجیے۔
خارش یا سرخ دانے :چونکہ بچے کی جلد بہت نازک ہوتی ہیں اس لیے اکثر اس جگہ جہاں کلوٹ باندھا جائے سرخ دانے نکل آتے ہیں دانوں والی جگہ کو خشک رکھنے کے لیے کلوٹ باربار بدلنے چاہیے اس جگہ دانوں پر کیسٹر آئل اور جست یا مکھن میں چست ملا کر لگانے کے بعد پاؤڈر چھڑک دیا جائے تیز قسم کا صابن دانوں پر لگانا مضر ہے۔اگر دانے پھوٹ جائیں اور اس کے پاس کی جلد زیادہ سرخ ہوجائے تو اس جگہ زیتون کے تیل سے صاف کرنے کے بعد پاؤڈر چھڑک دیجیے اس جگہ کو پانی سے بچانے کے بعد کلوٹ اور پوتڑوں کو اُبلتے ہوئے پانی میں جوش دے کر پاک کرلینا اشد ضروری ہے دانوں والی جگہ پر صابن سوڈا اور اسی قسم کی دوسری تیز چیزیں لگانے سے بہتر کیا جائے۔اگر چھاتی یا بغلوں کے آس پاس سرخی مائل خراشیں سی نظر آئیں تو ان کی اور بچے کے کپڑوں کی صفائی کے علاوہ خراش والی جگہ پر پاؤڈر چھڑکنا ہی کافی ہوگا کیونکہ اس قسم کی شکایت عموماً پسینے کی وجہ سے پیدا ہوتی ہیں اور اس کے آثرات دور کردینے سے وہ شکایت بآسانی دفع ہوسکتی ہیں۔اگر چھاتی یا کان کے پیچھے خراشیں ہوں ناک بہہ رہی ہو اور ساتھ حرارت بھی محسوس ہو،تواس بچے کو اس وقت تک باقی بچوں سے الگ رکھنا چاہیے جب تک کہ ضرروی طبی امداد حاصل نہ ہوجائے عموماً اس قسم کی شکایت جراثیم کی وجہ سے پیدا ہوتی ہیں اور چھوت کے ذریعے یہ دوسرے بچوں تک بھی پھیل سکتی ہیں اس لیے اس کا علاج خود کرنے کے بجائے بچے کو ڈاکٹر کے پاس لے جانا زیادہ بہتر ہے۔
منہ یا زبان کا پک جانا: بعض اوقات دودھ پینے والے بچوں کا منہ پک جاتا ہے جس سے ان کی زبان پر چھالے نکل آتے ہیں یہ شکایت عموماً ان بچوں کو ہوتی ہیں جو بوتل سے دودھ پیتے ہوں اور اس کی وجہ عام طور پر گندی چسنیاں یا دودھ کی ناصاگ شیشیاں ہوتی ہیں چنانچہ اس قسم کی شکایت پیدا ہونے پر فوراً بچے کو دودھ پلانے والی چیزوں کی صفائی پر بطور خاص توجہ دینی چاہیے بچے کے منہ کو گلیسرین سے صاف کرنے کے علاوہ پسی ہوئی طباشیر اور سبز الائچی کے سفوف میں گلوکوز ملا کر تھوڑے تھوڑے وقفے سے ایک ایک چٹکی بچے کے منہ میں ڈالنے سے فائدہ ہوسکتا ہے۔
دانت نکالنا: دانت نکالنے کا زمانہ نہ صرف بچے کے لیے بہت نازک ہوتا ہے بلکہ والدین سے بھی بہت سخت احتیاط اور خصوصی توجہ کا تقاضا کرتا ہے عام طور پر صحت مند بچے دانتوں کی وجہ سے بہت کم بیمار ہوتے ہیں تاہم احتیاط اور توجہ ہر حال میں ضروری ہے دانتوں کی وجہ سے طبیعت خراب ہو نے پر بچہ کئی طرح سے اپنی تکلیف کا اظہار کرتا ہے مثلاً وہ بے چین اور بے قرار رہتا ہے۔منہ کے آس پاس یا کلوٹ باندھنے کی جگہ دانے سے یا سرخی مائل خراشیں سی پیدا ہوجاتی ہیں منہ سے رال بہنے لگتی ہے مسوڑھے سرخ اور پھولے پھولے سے نظر آتے ہیں اور بچہ بار بار منہ میں انگوٹھایا ہاتھ کی مٹھی ڈالنے کی کوشش کرتا ہے۔اپنے ہاتھ خوب اچھی طرح صاف کرنے کے بعد انگلی کی مدد سے بچے کے مسوڑھوں پر گلیسرین ملنے کے علاوہ اسے خوب سنکا ہوا توس کھانے کے لیے اور ہڈی جس کے سرے صاف اور ہموار ہوں، منہ میں ڈال کر چوسنے اور کھیلنے کے لیے دیجیے پینے کے لیے بچے کو پھلوں کا رس اور ابلا ہوا پانی دینا مفید ہے۔ان دنوں میں بچے کی فطری قوت مدافعت خاص کمزوری پڑجاتی ہے اس لیے اسے سردی وغیرہ سے بچانے کے لیے خاص احتیاط کی ضرورت ہے بچوں کے لیے مخصوص میگنیشیا ابلے ہوئے پانی میں ملاکر دینا خاصا سود مند ثابت ہوگا۔ان ایام میں لرزے کے ساتھ بخار اور گلے کی نالی میں ورم کی تکلیف بھی پیدا ہوسکتی ہیں اگر پہلی صورت ہو تو بچے کو گرم پانی میں نہلائے اور اس کا جسم اچھی طرح پونجھ دینے کے بعد بستر میں لٹا کر فوراً ڈاکٹر کو بلانے کا انتظام کرنا چاہیے اگر گلے کی نالی میں ورم کی شکایت ہوجائے تو بچے کو خوب گرم رکھیے اور اس کی چھاتی اور گلے پر کافور ملے ہوئے تیل کی مالش کیجیے ، ساتھ ہی باقاعدہ طبی امداد بھی حاصل کرنے کی کوشش ہونی چاہیے۔

(0) ووٹ وصول ہوئے