بند کریں
خواتین مضامینبچے کی نگہداشتبچوں میں طاعون

مزید بچے کی نگہداشت

پچھلے مضامین - مزید مضامین
بچوں میں طاعون
بہت تھوڑے مریضوں میں یہ نمونیا کی شکل اختیار کرلیتا ہے اور عام نمونیا سے اس کا فرق کرنا مشکل ہوتا ہے اس سے بھی کم تعداد کے مریضوں میں زہرباد ہوجاتا ہے
بچوں میں طاعون:
ایک دہشت انگیز مرض ہے جس کی عام علامات یہ ہیں:
۱۔تیز بخار ۲۔ہذیان، ۳۔کمزوری، ۴۔جلد کے نیچے سرخ دانوں کا ظاہر ہونا، ۵۔دوسرے یا تیسرے دن بغل یا کنج ران میں گلٹی کا نمودار ہونا،
بہت تھوڑے مریضوں میں یہ نمونیا کی شکل اختیار کرلیتا ہے اور عام نمونیا سے اس کا فرق کرنا مشکل ہوتا ہے اس سے بھی کم تعداد کے مریضوں میں زہرباد ہوجاتا ہے،یہ مرض دراصل چوہوں کا مرض ہے جو چوہا پسو کے ذریعے ان میں پھیل جاتا ہے،جب چوہے مقام مرض سے بھاگ جاتے ہیں تو یہ پسو اپنی خوراک کے لیے انسانوں کو ڈستے ہیں اور مرض کے جراثیم کو انسانی جسم میں داخل کردیتے ہیں تحقیقات سے ثابت ہوچکا ہے کہ انسان میں گلٹی دار طاعون خودمتعدی نہیں ہوتا نیز گندگی اور صحت کے منافی ماحول کا اس مرض کے ساتھ کوئی تعلق نہیں،سوائے اس کے کہ ایسی صورت میں چوہوں کا اپنا گھربنانے کے لیے کافی جگہ مل جاتی ہیں یہ بھی معلوم ہوگیا ہے کہ ایک شہر سے دوسرے شہر میں طاعون پھیلنے کا سبب بھی چوہا پسو ہوتے ہیں جومسافروں کے کپڑوں اور اسباب میں ایک جگہ سے دوسری جگہ پہنچ جاتے ہیں اور اکثر یہ مسافر خود اس مرض میں مبتلا نہیں ہوتے،ہوتا یوں ہے کہ چوہوں نے کسی نہ کسی جگہ اپنے گھر بنائے ہوئے ہوتے ہیں جب انہیں یہ مرض لاحق ہوتا ہے تو ان کے گھروں میں چوہا پسو کافی تعداد میں پائے جاتے ہیں جب چوہے اس مرض سے مرنے لگتے ہیں تو اپنی عادت کے مطابق وہ اس جگہ سے بھاگ جاتے ہیں اور اپنے مرُدوں اور چوہا پسوؤں کو وہیں چھوڑجاتے ہیں چونکہ ان پسوؤں نے مریض چوہوں کا خون چوسا ہوا ہوتا ہے اس لیے ان کے اندر یہ جراثیم موجود ہوتے ہیں،چوہوں کے بھاگ جانے سے پسو اپنی خوراک حاصل کرنے کے لیے اس مکان میں بسنے والے انسانوں کو ڈستے ہیں اور خون چوستے وقت جراثیم کو انسان کے خون میں داخل کردیتے ہیں،چنانچہ معلوم یہ ہوا کہ طاعون کے مریض سے چھوت نہیں لگتی اس لیے اس سے ڈرنے کی کوئی وجہ نہیں اور دوسرے اس مرض سے بچاؤ کا مسئلہ ایک گھریلو مسئلہ ہے چنانچہ گھر میں کوڑا کرکٹ اور بے کار اشیا کو جمع نہ ہونے دیں تاکہ ان کے پیچھے چوہے اپنا گھر نہ بناسکیں اور نہ ہی کھانے پینے کی اشیا کو اس طرح بکھرا پڑا رہنے دیں جس سے چوہے ان کی طرف دوڑیں الغرض ایسی صورت حال پیدا نہ ہونے دیں جس سے چوہے گھر کے اندر پالتو جانوروں کی طرح رہنے لگیں،اب رہا یہ مسئلہ کہ مسافر ان پسوؤں کو اپنے کپڑوں بستروں اور سامان کے ساتھ ایک شہر سے دوسرے شہر میں نہ لے جائیں تو یہ بھی کوئی مشکل بات نہیں کیونکہ یہ چوہا پسو دھوپ میں بہت جلد ہلاک ہوجاتا ہے،پس تمام ایسی اشیا کو دھوپ میں ڈال دیں اور ان امور کا خیال رکھیں:
۱۔ایسی جگہ کا ا نتخاب کریں جہاں دھوپ سارا دن رہتی ہو،
۲۔زمین کی سطح ہموار ہو اور ہاں گھاس پتھر یا کنکر وغیرہ نہ ہوں جہاں پر ان پسوؤں کو چھپنے کی جگہ مل جائے۔
۳۔اس زمین پر باریک ریت کی تین انچ موٹی تہہ بچھادیں۔
۴۔کپڑوں کو کھول کر علیحدہ علیحدہ پھیلادیں اور کم از کم ایک گھنٹے تک دھوپ میں پڑے رہنے دیں لحاف اور اس قسم کی دیگر موٹی اشیا کو اس دوران میں ایک دو دفعہ الٹ پلٹ دیں۔
۵۔کپڑوں کو ریت کی تہہ کی حدود سے تین فٹ تک اندر رکھیں۔
۶۔پالتو اور دیگر جانوروں کو ریت کی تہہ کی حدود کے اندر ہرگز نہ آنے دیں۔
ان تدابیر پرعمل کرنے سے یقینا طاعون سے بچا جاسکتا ہے۔

(0) ووٹ وصول ہوئے