بند کریں
خواتین مضامینبچے کی نگہداشتبچوں میں خناق

مزید بچے کی نگہداشت

پچھلے مضامین - مزید مضامین
بچوں میں خناق
اس بیماری کی احتیاطی تدابیر دوسری بیماری کی طرح کرنی چاہیں۔احتیاطی ٹیکے اگر بچے کی پیدائش کے کچھ مدت کے بعد لگوالیے جائیں تو بچہ اس خوفناک بیماری سے محفوظ ہوجائے گا۔

بچوں میں خناق
خناق بھی ایک خطرناک بیماری ہے اور بچوں کے فالج یا پولیو کا سبب بن سکتی ہیں بچوں میں چونکہ قوت مدافعت کم ہوتی ہیں اس لیے ان پر یہ بیماری جلد غالب ہوجاتی ہیں،خناق کا پہلا مرحلہ حلق پرہوتا ہے اورحلق انسانی زندگی میں جسم کا بہت اہم حصہ ہے جو کھانا کھانے اور سانس لینے کا ذریعہ ہے گویازندگی کو برقرار رکھنے کے لیے حلق کی بڑی اہمیت ہے گویا خناق کا حملہ جسم کے ایک اہم ترین حصے کی کارکردگی کو بری طرح متاثر کرسکتا ہے،خناق کا حملہ ہونے پر گلے میں ورم ہوجاتا ہے اور اس کے ساتھ ہی ایک جھلی سی بن جاتی ہیں جو بچے کو خوراک نگلنے اور سانس لینے میں دشواری پیدا کرتی ہے اس بیماری کی احتیاطی تدابیر دوسری بیماری کی طرح کرنی چاہیں۔احتیاطی ٹیکے اگر بچے کی پیدائش کے کچھ مدت کے بعد لگوالیے جائیں تو بچہ اس خوفناک بیماری سے محفوظ ہوجائے گا۔
بچوں میں خسرہ: خسرہ بھی ایک بین الاقوامی بیماری ہے جو بعض ترقی یافتہ ملکوں میں خاصی حد تک ختم ہوچکی ہے اگر بین الاقوامی حفاظتی تدابیر کی طبی تحریکیں اس کے خلاف اس طرح کوشش کرتی رہیں تو چیچک کی طرح اس بیماری پر بھی خاصی حد تک قابو پایا جاسکتا ہے۔خسرے کے جراثیم بہت زود اثر ہوتے ہیں اگر ایک بار کسی مریض کے جراثیم دوسرے کے جسم میں داخل ہوجائیں تو پندرہ دنوں کے اندر ہی اس بیماری کی علامات ظاہر ہونا شروع ہوجاتی ہیں۔یہ بیماری ہر موسم میں شروع ہوسکتی ہیں لیکن عام طور پر موسم بہارکے شروع میں اور موسم سرما کے آخری مہینوں میں اس بیماری کے پھیلنے کے امکانات بڑھ جاتے ہیں،خسرہ ایک خاص قسم کے جرثومے سے پھیلتا ہے جس کو وائرس کہا جاتا ہے یہ جرثومہ اتنا باریک ہوتا ہے کہ عام خوردبین سے بھی نہیں دیکھا جاسکتا یہ بھی ایک متعدی بیماری ہے جس کے جراثیم تیزی سے ایک مریض سے دوسرے میں منتقل ہونے کے خدشات ہوتے ہیں یہ بیماری عام طور پر بچوں کی فوری طور پر اپنی لپیٹ میں لے لیتی ہیں اگرچہ بڑے بھی اس بیماری کا شکار ہوسکتے ہیں۔اس بیماری کے جراثیم سانس کی نالیوں میں کروڑوں کی تعداد میں موجود ہوتے ہیں جو سانس لینے،چھینکنے یا کھانسی کے ذریعے فضا میں پھیل کر تندرست افراد کے جسموں میں داخل ہوجاتے ہیں۔خسرے کی ابتدا بھی بخار سے ہوتی ہیں بخار کے ساتھ مریض کو چھینکیں آناشروع ہوجاتی ہیں یا نزلہ اور زکام ہوجاتا ہے آنکھوں سے پانی بہنے لگتا ہے بخار کے علاوہ سانس کی نالیوں میں سوزش پیدا ہوجاتی ہیں اس کے علاوہ کھانسی بھی ہوسکتی ہیں کھانسی کی زیادتی کی وجہ سے پھیپھڑے بھی متاثر ہوتے ہیں۔بخار کے تین چار دنو ں کے بعد اگر بچے کے منہ کو کھول کر دیکھا جائے تو اس کے منہ کے اندرونی حصوں میں سرخ باریک سے دانے نظر آئیں گے۔اس کے تین چار دانوں کے بعد بخار بھی بہت تیز ہوجاتا ہے اس کے ساتھ ہی ماتھے کنپٹیوں اورمنہ کے اوپر بھی باریک سے دانے نمودار ہوجاتے ہیں آہستہ آہستہ یہ باریک سرخ دانے پھیلتے پھیلتے سارے جسم پر نکل آتے ہیں اس دوران میں بچے کی بے چینی پڑھ جاتی ہیں ایسی کیفیت کے بعد بچے کو کمزوری محسوس ہونے لگتی ہیں،چھوٹے بچوں کو عام طور پر اس بیماری سے نمونیہ ہوجاتا ہے اور بعض بچوں کو الٹیاں اور دست آنے شروع ہوجاتے ہیں جوکہ جان لیوا بھی ہوسکتے ہیں۔خسرے کی یہ حالت میں جب بچے کو دست یا قے آنے لگے تو آپ کو فوراً کسی مستند ڈاکٹر سے رجوع کرنا چاہیے کیونکہ جب بچہ اس سٹیج پر پہنچ جاتا ہے تو اس حالت میں بچے کی موت بھی واقع ہوسکتی ہے۔مریض کو کسی روشن کمرے میں رکھنا چاہیے اس کے علاوہ مریض کے استعمال میں آنے والے برتن،تولیے یا بستر وغیرہ علیحدہ کردیں اگر سردی کا موسم ہو تو مریض کو سردی سے بچانے کے لیے اس کمرے کو جہاں تک ہوسکے گرم رکھا جائے اس بیماری کے حفاظتی ٹیکے خاص طور پر بہار کے آغاز میں اور موسم سرما کے اختتام پر بچوں کو ضرور لگوانے چاہیں۔
تشنج: یہ بیماری بھی انہیں بیماریوں میں شامل ہے جو مہلک ہیں اور خصوصاً بچوں پر جلد حملہ آور ہونے والی ہوتی ہیں تشنج کے زہریلے اثرات دماغی اعصاب اور رگوں پر پڑتے ہیں جس کی وجہ سے پٹھوں میں کھنچاؤ پیدا ہوجاتا ہے اور سارا جسم اکڑنے اور دکھنے لگ جاتاہے اس مرض کے حملے سے مریض کا منہ کھنچاؤ کی وجہ سے بند ہوجاتا ہے اور اس کی مرگی جیسے دورے پڑنے لگتے ہیں یہ بیماری اکثر و بیشتر جان لیوا ثابت ہوتی ہیں۔یہ بیماری اکثر اوقات بدن کے زخموں پر گندگی لگ جانے سے یا وضع حمل کے وقت گندے اوزار یا ناصاف سامان استعمال کرنے سے ہوجاتی ہیں،تشنج سے بچاؤ کے لیے حفاظتی ٹیکے لگوانے کے بعد اس بیماری کے حملہ آور ہونے کے امکانات ختم ہوجاتے ہیں ۔
بچوں کے حفاظتی ٹیکے لگوانے کا پروگرام:
پیدائش کے فوراً بعد نوزائیدہ بچے کے لیے: بی۔سی۔جی کا ٹیکہ،
تین ماہ سے چار ماہ کے بچوں کے لیے: ڈی۔پی۔ٹی اور پولیو(پہلی خوراک)
پانچ ماہ سے چھ ماہ کے بچوں کے لیے: ڈی۔پی۔ٹی اور پولیو(دوسری خوراک)
سات ماہ سے نو ماہ کے بچوں کے لیے: ڈی۔پی۔ٹی اور خسرہ(تیسری خوراک)
۱۔یہ ٹیکے بچوں کو پیدائش سے لے کر پانچ سال کی عمر تک لگائے جاتے ہیں۔
۲۔ٹیکوں کا درمیانی وقفہ صرف دو ماہ ہونا چاہیے۔
۳۔جن بچوں کو ٹیکے لگوانے چاہیں ان کا صحت مند ہونا ضروری ہے۔
۴۔ان حفاظتی ٹیکوں کے علاوہ معیادی بخار ہیضہ اور وبائی پھیلاؤ کو روکنے والے وقتی ٹیکے بھی لگوائے جاتے ہیں ٹیکے لگوانے کی مدت اور وقفوں میں ردوبدل کے متعلق ڈاکٹر سے مشورہ کرنا چاہیے۔

(0) ووٹ وصول ہوئے