بند کریں
خواتین مضامینبچے کی نگہداشتبچوں میں فاسٹ فوڈ کی رغبت!

مزید بچے کی نگہداشت

پچھلے مضامین - مزید مضامین
بچوں میں فاسٹ فوڈ کی رغبت!
کھانے پینے کی غیر معیاری اشیا صحت کے لئے انتہائی نقصان دہ ہیں۔کیا اسکول کی کنٹینوں میں کھانے پینے کی اشیا کو تیار کرتے وقت صفائی اور معیار کا خیال رکھا جاتا ہے؟زیادہ تر اسکول ایسے ہیں جہاں صفائی ستھرائی کا خیال نہیں رکھا جاتا ۔
مظہر حسین شیخ:
صحت عامہ کی معیاری سہولتوں کی فراہمی حکومت کی اولین ذمہ داری ہے،اس میں کوئی شک نہیں کہ موجودہ حکومت اس سلسلہ میں ترجیحی بنیادوں پر کام کررہی ہے لیکن حکومت کے ساتھ ساتھ ہمارا بھی فرض ہے کہ اپنی صحت کا خاص خیال رکھیں اس وقت بچوں پر خاص توجہ دینے کی ضرورت ہے کیونکہ بچے ہی ہمارا مستقبل ہیں اور مستقبل کے معماروں کے لئے جہاں تعلیمی ادارے تعمیر کئے جارہے ہیں وہاں صحت کے مراکز کا ہونا بھی وقت کی اہم ضرورت ہے، اگر تھر میں صحت کے مراکز قائم ہوتے تو سینکڑوں بچے موت کی اغوش میں نہ جاتے۔
کھانے پینے کی غیر معیاری اشیا صحت کے لئے انتہائی نقصان دہ ہیں۔کیا اسکول کی کنٹینوں میں کھانے پینے کی اشیا کو تیار کرتے وقت صفائی اور معیار کا خیال رکھا جاتا ہے؟زیادہ تر اسکول ایسے ہیں جہاں صفائی ستھرائی کا خیال نہیں رکھا جاتا ۔صحت مند جسم کیلئے صحت مند خوراک کا ہونا لازمی ہے۔ معیاری اور اچھی غذا نہ صرف جسم کو تندرست و توانا اورصحت مند رکھتی ہے بلکہ اس سے ذہنی نشو نما بھی ہوتی ہے،صحت مند جسم سے مراد موٹاپا نہیں۔ موٹاپا کئی بیماریوں کو جنم دیتا ہے۔ صحت مند جسم سے مراد تندرست اور توانا جسم ہے اور صحت مند خوراک سے یہ مطلب بھی ہرگز نہیں کہ ہروقت کھایا جائے ضرورت سے زیادہ کھانا بھی صحت کیلئے نقصان دہ ثابت ہوتا ہے۔ کھانا اتنا ہی اچھا جو بھوک رکھ کر کھایا جائے یہ سنت نبوی بھی ہے۔
یوں تو ہر دور میں نئی سے نئی ایجادات کا سلسلہ جاری رہا ہے دور خاضر کی ایجادات نے بچوں کا رحجان کھانے پینے میں کم کمپیوٹر اور موبائل فون کی طرف زیادہ کر دیا ہے اوراس دور میں جسمانی ورزش والے کھیل ختم تو نہیں ہوئے لیکن اس طرف بچوں کا رجحان کم ضرور ہوا ہے۔ کھیل ایسے ہونے چاہئیں جس سے پورا جسم حرکت میں آئے، ایسے کھیل جس سے جسمانی نشوونما نہیں ہو پاتی اسے ترک تو نہیں کرنا چاہئے لیکن کم ضرور کرنا چاہئے ،موبائل یا کمپیوٹر پر چپکے رہنا کہاں کی عقلمندی ہے ان کو ضرور استعمال میں لائیں لیکن جب اس کا کام ہو۔ بلاوجہ ان کے ساتھ کھیلنا خطرے سے خالی نہیں ماہرین کے مطابق کمپیوٹر کے مانیٹر سے نکلنے والی شعاعیں آنکھوں کیلئے نقصان دہ ثابت ہوسکتی ہے۔ اس لئے اسے ضرورت کے وقت ہی استعمال میں لایا جائے تو بہتر ہے۔
کہاوت مشہور ہے کہ جان ہے تو جہان ہے۔ اچھی صحت کیلئے خوراک تو ضروری ہے ہی لیکن اس بات کا بھی خیال رکھیں کہ وقت پر کھانا کھانے سے صحت بھی اچھی رہتی ہے۔ یہ نہیں ناشتہ بارہ بجے ، دوپہر کا کھانا چار بجے کھایا جائے اور رات کے کھانے کا بھی وقت مقرر نہیں۔شہروں میں رات گئے تک ہوٹل کھلے رہتے ہیں بچوں اور بڑوں کا جم غفیر دیکھنے میں آتا ہے۔ اتنی تاخیر سے کھانا کھانے کے بعد کھانا وقت پر ہضم نہیں ہوتا اور جب کھانا وقت پر ہضم نہیں ہو گا تو صحت کیسے اچھی رہ سکتی ہے۔ موجودہ دور میں فاسٹ فوڈ بچوں میں بڑا مقبول ہے، بچے تو کیا بڑے بھی اسے شوق سے کھاتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ جدید دور میں ”جدید“بیماریاں جنم لے رہی ہیں اور ایسی بیماریاں جس کا نام ماضی میں کبھی نہیں سنا تھااور یہ بھی حقیقت ہے کہ آج کل کے بچے چپس، ٹافیاں اور چٹ پٹی بازاری اشیاء بڑے شوق سے کھاتے ہیں جس کا صرف ذائقہ ہی اچھا ہوتا ہے ان میں طاقت نہیں ہوتی۔ بچے جتنے پیسے ان چیزوں پر خرچ کرتے ہیں اگر اتنے پیسوں میں پھل فروٹ کھایا جائے تو ان سے بچوں کی نشوونما تیزی سے ہوگی۔ نظام قدرت ہے کہ چاند ستارے، سورج کا طلوع و غروب ہونے کا وقت مقرر ہے جبکہ کھانے کا بھی وقت مقرر کیا گیا ہے۔ نماز فجر کے بعد ناشتہ، نماز ظہر سے قبل دوپہر کا کھانا اور عشاء کی نماز سے قبل رات کا کھانا ، لیکن روشنیوں کے شہروں میں اس پر عمل نہیں کیاجاتا جبکہ دیہی علاقوں میں آج بھی اس پر عمل کیا جاتا ہے یہی وجہ ہے ہمارے دیہاتی بھائی جو گاوٴں میں رہائش پذیر ہیں ان کی صحت بھی اچھی رہتی ہے وہ صبح سویرے منہ اندھیرے اٹھ جاتے ہیں اور ناشتہ کے بعد اپنے کام میں لگ جاتے ہیں۔ دن کا ناشتہ ڈبل روٹی نہیں بلکہ پراٹھا سالن اور لسی ہوتا ہے اوروہاں دیسی گھی استعمال کیا جاتا ہے، جبکہ شہروں میں معاملہ اس کے برعکس ہے۔ دیہی علاقوں میں رہنے والے ہمارے بہن بھائی اپنی صحت پر خاص توجہ دیتے ہیں۔ وہاں فاسٹ فوڈ کا نام و نشان نہیں۔ شہروں میں برگر، پیزا، سینڈوچ، پراٹھا رول، شوارما اور بیکری کی دوسری اشیاء جو حفظان صحت کے اصولوں کے مطابق تیار نہیں کی جاتیں بلکہ صرف ذائقہ میں اچھی لگتی ہیں اور ذائقہ ان میں ڈالے گئے مصالحہ جات کا ہوتا ہے بچے ، بڑے بھی انہیں شوق سے کھاتے ہیں اسی وجہ سے بچوں کی صحت کا گراف تیزی سے گررہا ہے۔ دیہی علاقوں میں پھل فروٹ پر خاص توجہ دی جاتی ہے۔یہ حقیقت ہے کہ موسمی پھل صحت کے لئے بہت مفید ہیں۔ ارد گرد نظر دوڑائیں تو یہ جاننے میں دشواری پیش نہ آئے گی کہ موسمی پھل کھانے والوں کی صحت قابل رشک ہوتی ہے ،اس لئے بچوں کوکھانے کے بعد موسمی پھل ضرور کھلائیں۔
اللہ تعالیٰ نے پھلوں میں بڑی شفا دی ہے۔ موسمی پھل غذا بھی ہیں خوراک بھی۔ اسی طرح سبزیاں اور دالیں بھی وٹامنز سے بھرپور ہوتی ہے۔ لہسن، شہد، گھیا کدو، زیتون کا تیل، کھجور، گاجر، جو، ستو، آلو بخارہ، گڑ اللہ تعالیٰ نے ان اناج، سبزیوں اور پھلوں میں انمول طاقت عطا کی ہے۔ اس لئے موسمی پھل اور سبزیاں ضرور کھانی چاہئیں۔
ہر سال اپریل کے پہلے ہفتے یعنی 7اپریل کو صحت کا عالمی دن منایا جاتا ہے اس دن کو منانے کا مقصد یہ ہے کہ بچوں کی صحت پر خاص توجہ دی جائے جو ہمارے ملک کا سرمایہ ہیں۔ بچوں کو تعلیم کے ساتھ ساتھ کھیل کود میں بھی حصہ لینا چاہیے۔ کھیل کود سے ذہنی جسمانی نشوونما ہوتی ہے۔ بچے ایسا کھیل کھیلیں جس سے سارا جسم حرکت میں آئے۔ یقینی بات ہے کہ کھیل کود کے بعد بھوک بھی زیادہ لگے گی اور جب کھیل کے بعد مناسب خوراک کھائی جائے تو یقیناً صحت پر اس کے اچھے اثرات مرتب ہوں گے اور بچوں کی قوت مدافعت بھی بڑھے گی۔ تو ننھے منے دوستوں اپنی صحت کا خاص خیال رکھیں کیونکہ جان ہے تو جہان ہے۔

(0) ووٹ وصول ہوئے