بند کریں
خواتین مضامینبچے کی نگہداشتبچے کاماحول اور اس کے تقاضے

مزید بچے کی نگہداشت

پچھلے مضامین - مزید مضامین
بچے کاماحول اور اس کے تقاضے
ان کی پرورش اور ان کی تعلیم و تربیت اس طرح ہونی چاہیے کہ یہ بچے بڑے ہوکر معاشرے کے ذمہ دار افراد بنیں
بچے کاماحول اور اس کے تقاضے
قوم کے بچے وہ آئینہ ہیں جس میں قوم کی تمام تعمیری صلاحتیں جھلکتی ہیں ان کی پرورش اور ان کی تعلیم و تربیت اس طرح ہونی چاہیے کہ یہ بچے بڑے ہوکر معاشرے کے ذمہ دار افراد بنیں اور ملک و قوم کی طرف سے خود پر عائد ہونے والی ذمہ داریوں کی بہتر طور پر پورا کرسکیں۔
ماں: بچے کی تربیت گھر سے شروع ہوتی ہیں ،ایام طفلی میں بنے ہوئے نقش بڑے گہرے اور دیر پا ہوتے ہیں یہ نقش بچے کی ابتدائی زندگی میں اس کے مختلف تجربات و مشاہدات کی بنا پر بنتے ہیں لیکن بعد میں بھی یہ اس کی پوری شخصیت کی بنا پر بنتے ہیں لیکن بعدمیں بھی یہ اس کی پوری شخصیت کو محیط کرئے اور آئیندہ زندگی میں اس کے کردار پر اثر انداز رہتے ہیں ماں! بچے کی پہلی رفیق ،پہلی مونس و غم خوار ہے۔ماں کی گود وہ پہلا گہوارہ ہے جہاں بچہ نیکی،سعادت،اطاعت اور زندگی کا احسن اقدار کا پہلا سبق سیکھتا ہے عورت قوم کی ماں ہوتی ہیں ماں کی تربیت پوری قوم کی تقدیر ہوتی ہے اورماں کی سوچ پوری قوم کے کردار کو متاثر کرتی ہیں ایک پرسکون گھرمیں پلے ہوئے بچے جنہوں نے ہر لحاظ سے بھرپور زندگی گزاری ہو ہر طرح مکمل اور صحت مند شخصیت رکھتے ہیں اور زندگی کی دوڑ میں کسی سے پیچھے نہیں رہتے جب کہ وہ بچے جو غیر نارمل حالات کا شکار احساس تحفظ اور محبت سے محروم رہے ہوں۔کسی طور بھی مکمل انسان نہیں بن پاتے ماں یعنی وہ مشفق و مہربان ہستی جس کے قدموں تلے جنت ہیں اس کی اہمیت اور اس کے فرایض ظاہر کتنے اہم ہوں گے ماؤں کو چاہیے کہ وہ خود کو اس رتبے کا صحیح طور پر اہل ثابت کریں اور اپنے افعال و کردار اور حسن عمل سے اپنے گھروں کو جن میں معصوم بچے ننھے فرشتوں کی صورت میں آسمانی سعادتیں اور بہشتی مسرتیں لے کر اترتے ہیں جنت کا نمونہ بنادیں۔
بچے کی نگہداشت و پرورش: بچے کی نگہداشت و پرورش ماں کے اولین فرائض میں سے ہیں بچے کی سب سے پہلی بنیادی ضرورت خوراک ہیں پانچ سال کی عمر کو پہنچتے پہنچتے بچے کی ذائقے کی حسن خوب کام کرنے لگتی ہیں وہ کٹھی میٹھی چیزوں میں تمیز کرنے کے قابل ہوجاتا ہے اوراس کی پسند و ناپسند ظاہر ہونے لگتی ہیں جہاں تک غذا کا تعلق ہے ماں کو اس بات کا خیال رکھنا چاہیے کہ غذا چٹپٹی اور ذائقہ دار خواہ نہ ہو لیکن مفید ہو اور بچے کی غذائی ضروریات کے مطابق بھی بچے کو جسمانی آسائش اور ذہنی و روحانی آرام کا ماں کو ہر لحظہ خیال رکھنا چاہیے:
خوراک: غذا میں تقریباً چھ بنیادی اجزاء کا ہونا ضروری خیال کیا جاتاہے۔
۱۔کاربوہائیڈریشن یا نشاستہ دار غذائیں،۲۔فیٹس یا روغنیات،۳۔پروٹین یا اجزائے لحمیہ،۴۔پانی،۵۔نمکیات،۶۔حیاتین،
ان چھ بنیادی اجزا کو بڑوں اور بچوں کی خوراک میں شامل ہونا تو چاہیے لیکن ان کا کچھ مخصوص تناسب عمر کے لحاظ سے بہتر رہتا ہے پانچ سال کی عمر وہ عمر ہے جب بچے میں توانائی یا انرجی کی بہتات ہوتی ہیں جسمانی حرکت،کھیل کود اور بھاگ دوڑ کے باوجود بھی توانائی کا وہ خزانہ خالی نہیں ہوتا جو بچوں کو ہر وقت مصروف کار رکھتا ہے بچوں کے بڑھتے ہوئے جسم کو جوان اور بوڑھے لوگوں کی نسبت تعمیری غذاؤں یعنی ان غذاؤں کی جو جسم کی نشوونما کرتی ہیں زیادہ ضرورت ہوتی ہیں مندرجہ بالا چھ بنیادی عناصر میں بچوں کی غذا میں پروٹین،نمکیات اور پانی زیادہ مقدار میں ہونے چاہیں روغنیات اور نشاستہ دار چیزیں کم مقدار میں دی جانی چاہیں اور اسی طرح وٹامن ایک مخصوص حد سے زیادہ نہیں۔
پروٹین یا اجزائے لحمیہ:
پروٹین یا اجزائے لحمیہ بچے کے جسم کی نشوونما کرتے اور گوشت وپوست کے غضلات و خلیات بناتے ہیں۔اجزائے لحمی حیوانی اور نباتاتی دو قسم کے ہوسکتے ہیں اور اس لحاظ سے ان کا حصول بھی ان پر دو ذرائع سے ممکن ہے۔حیوانی پروٹین گوشت انڈے مچھلی اوردودھ وغیرہ سے حاصل ہوتی ہیں اورنباتاتی پروٹین گیہوں کے آٹے چاول،دالوں اور بیشتر پھلی دار سبزیوں سے پروٹین جسم میں گوشت و پوست بنانے کے علاوہ کسی حد تک چربی اور حیوانی نشاستہ یعنی گلائکوجن بھی بناتی ہے اور جسم کے خون میں اکسیجن کے شمول کی رفتار کو بھی باقاعدہ رکھتی ہے بچے کی روزانہ خوراک میں کافی مقدار حیوانی پروٹین یا اگر یہ میسر نہ آسکے تو بناتاتی پروٹین ہونی چاہیے فائدے کے لحاظ سے حیوانی پروٹین نباتاتی پروٹین سے بہتر ہوتی ہیں۔
پانی: پانی جسم میں خون کو رفیق حالت میں رکھنا ہے اور اس طرح دوران خون صحیح طور پر قائم رہتا ہے اس کے علاوہ جسم کی تروتازگی کے لیے پانی انتہائی ضروری ہے جسم سے زہریلے مادوں کا اخراج اس وقت تک درست طریق پر نہیں ہوسکتا جب تک بچوں کی خوراک میں معقول مقدار میں پانی موجود نہ ہو۔جسم کے تیزابی مادوں مثلاً یوریا پیشاپ اور پسینے وغیرہ کے اخراج کو پانی ہی باقاعدہ رکھنا ہے بچوں کو اگر قبض کی شکایت ہو توپانی کی مقدار ان کی غذا میں بڑھادینی چاہیے۔
نمکیات: بچوں کی غذا میں نمکیات کی معقول مقدار شامل ہونی چاہیے بچوں کی نشوونما پاتی ہوئی ہڈیوں کو فاسفورس اور کیلشیم کے بیشتر نمکیات کی ضرورت ہوتی ہیں کیلشیم کلورائڈیعنی عام کھانے کا نمک بچوں کے لیے بہت زیادہ ضروری ہے۔یہ عام مشاہدہ ہے کہ بچے نمک کی چھوٹی چھوٹی ڈلیاں مٹھیوں میں دبائے پھرتے ہیں اور وقتاًفوقتاً انہیں چاٹتے رہتے ہیں جسم میں نمک کی کسی اور ضرورت انہیں فطری طور پر ایسا کرنے پر راغب کرتی ہیں کیلشیم،پوٹاشیم،میگنیشیم اور سوڈیم کے فاسفیٹ اور فولاد کے بیشتر نمک بچوں کی غذا میں شامل ہونے ضروری ہیں۔
کیلشیم انڈے دودھ،پنیر،مکھن،دہی سبز پتوں والی ترکاریوں ،میتھی اور چولائی وغیرہ میں ہوتا ہے بچوں کی روزانہ خوراک میں کم از کم ایک گرام کیلشیم ضرور ہونا چاہیے فولاد کے نمکیات خون کے سرخ ذرات کی تعداد کو خون میں باقاعدہ رکھتے اور سرخ و سفید ذرات کے درمیان تناسب برقرار رکھتے ہیں بچے کی عام جسمانی صحت و تندرستی اور طاقت و توانائی خون کے ان سرخ ذرات کی مقدار ہی پر منحصر ہے فولاد زیادہ تر اناجوں،دالوں،گوشت اور سبز پتوں والی ترکاریوں میں پایا جاتا ہے بینگن اور سیب میں اس کی مقدار خاص طور پر بہت زیادہ ہوتی ہیں،نمکیات غذا کے ہاضمے اور اس کے جزو بدن بننے میں مدد دیتے ہیں۔
چکنائی،کاربوہائیڈریشن اور حیاتین: چکنائی حیوانی اور نباتاتی دوبانوں ذرائع سے حاصل ہوتی ہیں حیوانی چکنائی دودھ،گھی،مکھن اور مچھلی کے تیل وغیرہ سے اور نباتاتی تیلوں مثلاً سرسوں مونگ پھلی،تل اور بنولے وغیرہ سے حاصل ہوسکتی ہیں بناسپتی گھی بھی نباتاتی چکنائی ہی ایک مثال ہے چکنائی اگرچہ جسم میں قوت و حرارت اور توانائی کا ذریعہ ہے لیکن چونکہ یہ جگر کے لیے مضمر ہے اور نظام ہضم کو سست کرتی ہیں اس لیے بچوں کی خوراک میں اس کا زیادہ شمول درست نہیں چکنائی دراصل بڑی ثقیل غذا ہے اوراس کا ہضم ہونا قدرے دشوارہوتا ہے۔
کاربوہائیڈریشن یا نشاستہ دار غذائیں بھی جسم میں توانائی اور حرارت پیدا کرتی ہیں۔یہ گندم،چاول چنا آلو اور شکر قند وغیرہ میں پائی جاتی ہیں ان کا تناسب بچے کی خوراک میں اس لیے کم ہونا چاہیے کہ بچوں میں توانائی کا تناسب بڑوں کی نسبت زیادہ ہوتی ہیں اور انہیں کاربوہائیڈرشن کی اتنی زیادہ ضرورت نہیں ہوتی حیاتین یاوٹامنز مختلف پھلوں ،سبزیوں وغیرہ میں پائے جاتے ہیں یہ جسم میں حیاتیاتی افعال کو درست رکھتے ہیں یعنی جسم غذا کا فائدہ اُس وقت تک درست طریقے پر نہیں اٹھاسکا غذا کا فائدہ اس وقت تک درست طریقے پر نہیں اٹھاسکتا جب تک اس میں کافی مقدار میں حیاتین موجود نہ ہوں بچوں کی غذا میں حیاتین نسبتاً کم مقدار میں ہونے چاہیں کیونکہ بچپن میں تمام نظام ویسے ہی بہت تیز ہوتے ہیں اور جسم کی فعالیت عروج پر ہوتے ہیں۔
لباس: بچے کے لباس کے لیے کپڑا منتخب کرتے وقت ماں کے پیش نظر دو چیزیں ہونی چاہیں:
۱۔لباس خوش رنگ ہو،۲۔لباس کسی طرح بھی جسم کے لیے تکلیف دہ نہ ہو۔
رنگ کا انتخاب کرتے وقت یہ چیزیں ذہن میں رکھنی چاہیں کہ بچے مدھم اور ماند رنگوں کو ناپسند کرتے اور شوخ رنگوں خوبصورت پھولدار کپڑوں کو یا ایسے کپڑوں کو جن پر پرندوں یا پالتو جانوروں کی تصویریں بنی ہوئی ہوں بہت پسند کرتے ہیں کپڑا منتخب کرتے وقت یہ ضرور دھیان رکھنا چاہیے کہ بعض کپڑے از قسم پروکیڈ،یا گوٹے کے تار والے کپڑے بچوں کے جسم کے لیے قطعاً مناسب نہیں ہوتے کیونکہ ان میں چبنے والے تار ہوتے ہیں جو ان کی نازک جلد کو تکلیف پہنچاتے ہیں،ظاہری شان و شوکت اور تکلیف کو بچوں کے آرام پر قربان چاہیے اور ان کے لباس کے لیے وہ کپڑا منتخب کرنا جو ان کی نازک جلد کو نقصان نہ پہنچائے لباس تیار کرتے وقت بھی ماں کے پیش نظر یہ چیز ہونی چاہیے کہ لباس ڈھیلا ڈھالا ہو جس سے جسمانی نشوونما پر برابر اثر نہ پڑے،تنگ جیکٹ والے فراک بچوں کو کبھی نہیں پہنانے چاہیں ان سے سینہ اور پسلیاں بھنچ جاتی ہیں لیکن ڈھیلے لباس کا یہ مطلب بھی نہیں کہ یہ لباس بچے کی عام جسمانی حرکت اور کھیل کود میں حارج ہوں۔بچوں کے لباس میں جیب ضرور لگانی چاہیے پانچ چھ سال کے بچوں میں ذخیرہ اندوزی کی جبلت بہت زیادہ نمایاں ہوتی ہیں لباس میں جیب لگا کر آپ ان کی ضروریات اورکھیل کی چیزیں ان کے قریب رہنے کا ایک اچھا ذریعہ فراہم کردیتی ہیں یہ چیزیں کھانے پینے کی اشیاء مثلا ٹافی،گولیاں اور بسکٹ بھی ہوسکتی ہیں اور کھیل کود کی چیزیں مثلاً ڈھکنے،ڈبیاں اور چھوٹے موٹے کھیل کھلونے بھی،کچھ نہ ہو توزمین سے چن کر چھوٹی موٹی کنکریاں ہی وہ اپنی جیب میں بھر سکتے ہیں اور اس طرح اپنی ذخیرہ کرنے والی جبلت کو تسکین دے سکتے ہیں۔

(0) ووٹ وصول ہوئے