بند کریں
خواتین مضامینبچے کی نگہداشتبچے کی نیند

مزید بچے کی نگہداشت

پچھلے مضامین - مزید مضامین
بچے کی نیند
سوتے بچے کو اگر آپ منہ کے راستے سانس لیتے دیکھیں تو آہستگی سے ان کا منہ بند کردیجیے تھوڑی دیر منہ بند رہنے پر وہ خود بخود ناک کے راستے سانس لینا شروع کردے گا
بچے کی نیند:
عام طور پر صحت مند شیر خوار بچے دودھ پینے کے وقفوں میں سونے کے عادی ہوتے ہیں۔ سوتے بچے کو اگر آپ منہ کے راستے سانس لیتے دیکھیں تو آہستگی سے ان کا منہ بند کردیجیے تھوڑی دیر منہ بند رہنے پر وہ خود بخود ناک کے راستے سانس لینا شروع کردے گا،دودھ پلا کر فوراً بستر پر لٹانے کی بجائے آپ اسے کندھوں سے لگا کر کچھ دیر اس کی پیٹھ کو نرمی سے تھپتھپائیے تاکہ اس کے پیٹ کو ہوا خارج ہوجائے اب وہ چاہے جاگ ہی کیوں نہ رہا ہو اسے آہستہ سے کروٹ کے بل بستر پر لٹا دیجیے اور دوبارہ دودھ پلانے سے نصف گھنٹے پہلے تک ہرگز گود میں نہ لیجیے،زیادہ دیر تک گود میں لیے پھرنے سے نہ صرف اس کی عادتیں بگڑسکتی ہیں بلکہ اس کے نظام ہضم میں بھی خرابی پیدا ہوسکتی ہیں پیٹ بھر اہونے کے باوجود اگر بچہ خوب گہری نیند نہیں سوتا تو اس کی بے چینی اور بے خوابی کا باعث عام طور پر پیٹ میں ہوا یا ضرورت سے زیادہ پیٹ کا بھرا ہونا ہوتا ہے۔اس کے علاوہ گندا اور نم آلودہ بستر یا پوتڑے زیادہ گرمی اور گھر والوں کا لاڈ پیار میں اسے زیادہ اچھالنا اور جھلانا بھی بچے کی بے آرامی کا سبب بن سکتا ہے۔ابتدائی ہفتوں میں بچے کو ہوادار کمرے میں اور موسم غیر معمولی طور پر خوش گوار ہو تو برآمدے میں سلانا چاہیے تین چار ہفتوں کے بعد اسے کھلی ہوا میں لانے کی ہر ممکن کوشش کرنی چاہیے تاہم نچے کو تیز اور خشکہ ہوا اور کہر میں باہر نکالنے سے احتراز کرنا چاہیے۔
بچے کا رونا: بچے کا دن میں ایک آدھ مرتبہ رونا نہ صرف فطری بات ہے بلکہ اس کی صحت مندی کی نشانی ہے بعض اوقات تو بچے کا رونا بھی عین مقررہ وقت پر یوں ہوتا ہے جیسے اس نے رونے کا باقاعدہ ٹائم ٹیبل بنا رکھا ہو۔بچے کی عادات و اطوار پر نظر رکھنے سے آپ بہت جلد اس قابل ہوجائیں گی کہ بچے کے رونے سے یہ جان سکیں کہ ننھے میاں شرارتاً رو رہے ہیں،انہیں بھوک لگ رہی ہیں یا وہ کسی جسمانی تکلیف سے رونے پر مجبور ہوئے ہیں۔اگر روتا ہوا بچہ ماں کو دیکھتے ہی یا گود میں لینے پر چپ ہوجاتا ہے تو سمجھ لیجیے کہ اس کا رونا شرارت کے طور پر تھا،لمبے سر میں اونچی نیچی آواز سے رونے اور زور زور سے ہاتھ پیر مارنے کی وجہ عموماً پیٹ میں ہوا درد،بھوک اور بے چینی ہوتی ہیں ویسے عام طور پر ایک صحت مند بچہ اسی وقت روتااور چلاتا ہے جب زیادہ حدت یا خنکی،نم آلودہ پوتڑے یا کسی پن یا بٹن وغیرہ کی چبھن سے بے آرامی محسوس کررہا ہو۔آپ پریشان ہونے کی بجائے
رونے کا باعث معلوم کرکے اس کی تکلیف رفع یا ضرورت پوری کردیجیے وہ مطمن ہوتے ہی خاموش ہوجائے گا اگر آپ دیکھیں کہ وہ آپ کی موجودگی میں تو چپ کرجاتا ہے لیکن جونہی آپ اس کی نظروں سے اوجھل ہوتی ہیں وہ دوبارہ’الاپ“ شروع کردیتا ہے تویقین کرلیجیے کہ وہ اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے بالکل ٹھیک ٹھاک ہے آپ اس کی نظروں سے پرے جائیے لیکن اتنی دور بھی نہیں کہ اس کی آواز بھی آپ تک نہ پہنچ سکے۔اگر وہ شرارتاً رونے کا شوق کررہا ہوگا تو جلد ہی خود بخود خاموش ہوجائے گا۔

(0) ووٹ وصول ہوئے