Chote Bachoon Ko Thande Mausam Se Mehfooz Rakhain - Child Care & Baby Care Articles

چھوٹے بچوں کو ٹھنڈے موسم سے محفوظ رکھیں - بچے کی نگہداشت

جمعہ 18 دسمبر 2020

Chote Bachoon Ko Thande Mausam Se Mehfooz Rakhain
بچے بھلا کسے اچھے نہیں لگتے،گھر کی رونق بچوں کے دم سے ہی ہوتی ہے۔بچوں کی زندگی کا ابتدائی زمانہ کس قدر دلچسپ ہوا کرتا ہے،اس سے سارے والدین اچھی طرح واقف ہیں۔بچے کی ہر ہر ادا دل کو بھاتی ہے،اسی طرح اس کی چھوٹی سی تکلیف پر بھی دن رات کا آرام و سکون ختم کر دیتی ہے۔
ویسے تو ہر موسم میں بچوں کی دیکھ بھا ل کی ضرورت ہوتی ہے،کیونکہ موسم کے اُتار چڑھاؤ بچوں پر جلد اثر انداز ہوتے ہیں۔

تاہم سردیوں کا موسم بچوں کی صحت پر دیگر موسموں کے مقابلے میں زیادہ اثر انداز ہوتا ہے۔سردیوں میں نزلہ،زکام،کھانسی اور بخار جلد ہی ان پر حملہ آور ہو جاتے ہیں۔سردیوں میں ناک بند ہونا،الرجی،خارش اور نمونیا جیسے امراض میں شدت آجاتی ہے۔زیادہ ٹھنڈک کی وجہ سے ناک،کان، حلق،ٹانگوں اور پسلیوں کی تکلیف میں بھی اضافہ ہو جاتا ہے۔

(جاری ہے)

چھوٹے بچے سرد موسم کی سختی کو برداشت نہیں کرپاتے،لہٰذا والدین کو چاہیے کہ وہ موسم سرما کے آنے سے پہلے ہی ایسی احتیاطی تدابیر اختیار کی جائیں،جن کے سبب ان بیماریوں کی روک تھام ممکن ہو سکے۔

نزلہ بخار کی شدت کی وجہ سے نمونیا ہو سکتاہے،جس کی وجہ سے بچوں کی پسلیاں چلنے لگتی ہیں اور انہیں سانس لینے میں پریشانی کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔
چھوٹے بچوں کے پاؤں،سر اور سینے کو خاص طور پر گرم کپڑوں سے ڈھانپ کر رکھنا چاہیے۔بڑے بچوں کو بھی اسی احتیاط کی ضرورت ہوتی ہے کہ انہیں مناسب گرم کپڑے پہنائے جائیں۔انھیں ٹھنڈے پانی کے ستعمال سے دور رکھا جائے،بازار کی اشیاء جیسے کہ پاپڑ،ٹافیوں اور چاکلیٹ وغیرہ سے دور رکھا جائے کیونکہ اس سے گلے اور سینے میں انفیکشن ہو سکتاہے۔

جب بچوں کو نہلانا ہو تو نیم گرم پانی سے نہلائیں۔ اس موسم میں شہد کا استعمال بھی مفید ہے۔اُبلے ہوئے انڈے کی زردی بھی فائدہ مند ہے۔چھوٹے بچوں کو انڈے کی کچی پکی زردی چٹائی جائے اور بڑے بچوں کو اُبلے ہوئے انڈے کے ساتھ نیم گرم دودھ دیا جائے۔
کوشش کی جائے کہ شروع ہی سے ایسی احتیاطی تدابیر اختیار کی جائیں کہ اینٹی بائیوٹک دینے کی نوبت ہی نہ آئے۔

زیادہ اینٹی بائیوٹک دوائیں بچوں کی قوت مدافعت کو مزید کمزور کر دیتی ہیں،جس سے بیماریوں کے خطرات مزید بڑھ جاتے ہیں۔
بچوں کو سوتے وقت شہد دینا انہیں بیماریوں سے محفوظ رکھتا ہے جبکہ سردیوں میں کھجوروں کا استعمال سردی کے اثرات کو کم کرنے میں مفید ہے۔
یوں تو ہر موسم میں ہی بچوں کی مالش پابندی سے کرنی چاہیے،لیکن موسم سرما میں بچوں کی جلد کو اضافی توجہ اور دیکھ بھال کی ضرورت ہوتی ہے ۔

نیم گرم پانی سے غسل کے بعد سرسوں کے تیل سے بچوں کی مالش کی جائے،یہ مالش ان کی جلد کو قوت بخشے گی۔جلد جسم کا حساس ترین حصہ ہے اور بچوں کی جلد تو بہت ہی نرم و نازک ہوتی ہے،اسی لئے شروع سے اس کی حفاظت کی جائے۔بچپن سے ہی ان باتوں پر توجہ دینے کے نتیجے میں بچے صحت کے مختلف مسائل میں مبتلا ہونے سے محفوظ رہیں گے۔ذرا سی توجہ کی بدولت ابتدا ہی میں کئی مسائل سے بچا جا سکتا ہے۔

بچوں کی مالش پانچ سال کی عمر تک باقاعدہ کی جانی چاہیے۔
جو مائیں بچوں کو دودھ پلاتی ہیں،انہیں خود بھی بہت احتیاط کی ضرورت ہوتی ہے۔لہٰذا وہ سردیوں میں ٹھنڈے پانی،ٹھنڈے مشروبات اور ٹھنڈی چیزوں سے گریز کریں۔مائیں خود بھی گرم کپڑے پہنیں اور خشک میوہ جات کو اپنی خوراک کا حصہ بنائیں کیونکہ ماں تندرست رہے گی تو بچہ بھی تندرست رہے گا۔


سردیوں میں اس بات کا بھی خصوصی خیال رکھنا ضروری ہے کہ بچے کا بستر زیادہ دیر گیلا نہ رہے،ورنہ وہ بیمار پڑ سکتا ہے۔اس کے لئے ضروری ہے کہ بچے کی نیند کے دوران اس کا ڈائپر دیکھتی رہیں،اگر وہ گیلا ہو گیا ہو تو اسے تبدیل کر دیں۔سرد ہواؤں اور جاڑوں میں فقط تھوڑی سی احتیاطی تدابیر کے ذریعے ماں بچے کو بیمار ہونے سے بچا سکتی ہے۔ذیل میں اسی حوالے سے کچھ کارآمد ٹپس بتائی جا رہی ہیں جنہیں اپنا کر مائیں بچوں کو سردی سے محفوظ اور صحت مند رکھ سکتی ہیں۔


بچے کو روزانہ صاف ستھرا کریں۔سردیوں میں بچے کو نیم گرم پانی سے نہلائیں۔اس سے قبل کسی معیاری بے بی آئل سے بچے کے جسم کا اچھی طرح مساج کریں۔
غسل کے بعد بچے کو کچھ دیر کے لئے دھوپ میں بٹھائیں۔
بچے کو وقفے وقفے سے نیم گرم پانی دیتی رہیں،تاکہ جسم میں پانی کی کمی نہ ہو۔
ٹھنڈ سے بچانے کے لئے بچے کو تھوڑی مقدار میں شہد دیں۔


ہر وقت ہیٹر آن نہ رکھیں۔اس سے بچے کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔
رات میں بچے کو خشک ڈائپر پہنائیں۔
سردیاں اور بچے کی جلد کی حفاظت
سرد موسم میں جلد کی حفاظت کے لئے بچے کی ایکسٹرا کیئر کرنی ضروری ہے۔سرد موسم جلد کو خشک کر دیتا ہے،جس کی وجہ سے جلد میں خارش ہونے لگتی ہے اور جلد میں نمی کم ہو جاتی ہے۔کچھ حفاظتی تدابیر اپنا کر مذکورہ بالا مسائل سے بچا جا سکتا ہے۔


غسل اور موئسچرائزنگ
بچے کو غسل دینے کے بعد فوراً باہر لے کر نہیں جائیں۔غسل کے بعد بچے کے پورے جسم پر موئسچرائزر کا استعمال کریں،تاکہ بچے کے جسم میں نمی کی کمی نہ ہو۔سر سے پاؤں تک لوشن کا استعمال کریں۔
بچے کے ملبوسات
سرد موسم میں بچے کو گرم ملبوسات پہنانا چاہیے،مگر یہ اس قدر گرم نہ ہوں کہ پسینہ آنے لگے۔بے بی جلد کی مناسبت سے نرم،گرم ملبوسات صحیح رہتے ہیں،کیونکہ سرد موسم میں بچے کی جلد اور بھی نرم ہو جاتی ہے۔
تاریخ اشاعت: 2020-12-18

Your Thoughts and Comments

Special Child Care & Baby Care Articles article for women, read "Chote Bachoon Ko Thande Mausam Se Mehfooz Rakhain" and dozens of other articles for women in Urdu to change the way they live life. Read interesting tips & Suggestions in UrduPoint women section.