بند کریں
خواتین مضامینبچے کی نگہداشتڈی ہائیڈریشن - ہیموفیلس انفلوئنزا

مزید بچے کی نگہداشت

پچھلے مضامین - مزید مضامین
ڈی ہائیڈریشن - ہیموفیلس انفلوئنزا
ڈی ہائیڈریشن چاہے نواز ئیدہ بچے میں ہویابڑی عمر کے بچے میں ہوفوری توجہ اور علاج کامستحق ہوتا ہے ڈی ہائیڈریشن میں مبتلا شیرخوار بچوں کی مائیں اس بات کاخصوصی اہتمام کریں کہ وہ بچے کو تھوڑی تھوڑی دیر میں دودھ میں ضرور پلاتی رہا کریں ہیموفیلس انفلوئنزا کے شدید انفیکشن کاشکار ہونے والے بچے گردن توڑبخار اور حلق کے سوج جانے کے باعث سانس رُکنے کی خطرناک کیفیت سے دوچار ہوسکتے ہیں
ڈاکٹرسعدیہ عبداللہ:
نوعیت:
ڈی ہائیڈریشن اس وقت ہوتا ہے جب جسم میں پانی کی مقدارتشویش ناک حد تک کم ہوجائے۔
چھوٹے بچوں کے جسم میں تقریباََ 75فیصد پانی ہوا کرتا ہے اور اس کے بالغ ہوتے ہوتے اس کے جسم میں پانی کی مقدار 60فیصد تک رہ جاتی ہے۔
عمومی ڈی ہائیڈریشن میں بچے کے جسم میں موجود پانی کا 5فیصد حصہ ضائع ہوجاتا ہے۔ اس سے زیادہ کی صورت میں 10فیصد اور سب سے زیادہ کی صورت میں 15فیصد پانی ہوجاتا ہے۔
خوراک ودیگر غذائی مائعات کے ذریعے جسم میں پانی شامل ہوتارہتا ہے۔ اس کاتوازن قدرت نے اس طرح برقرار رکھا ہے کہ پیشاب تھوک اور پسینے وغیرہ کے ذریعے یہ پانی جسم سے خارج ہوکر اپنا توازن برقرار رکھتا ہے۔
صحت مند بچے کی پیاس بھی صحت مندانہ ہوتی ہے۔ اور وہ ضرورت کے مطابق ہی اسی کا اخراج کرتا رہتا ہے۔ لیکن اگر کسی وجہ سے بچہ مناسب مقدار میں پانی نہ پی سکے یااس کے جسم سے پانی کی زیادہ مقدار خارج ہوتی رہے تو پھر ایسی صورت میں وہ ڈی ہائیڈریشن کا شکار ہوجاتا ہے۔یہ صورت حال اس وقت پیش آتی ہے جب بچے کو الٹیاں ہورہی ہوں‘ا ُسے ڈائریا ہوگیا ہویاپھر اس وقت جب بچے کو بہت تیز بخار ہواور اس بخار کے سبب وہ پانی وغیرہ نہ پانی سکے۔
ڈی ہائیڈریشن چاہے شیرخوار بچے میں ہویا بڑی عمر کے بچے میں ہوفوری توجہ اور علاج کا مستحق ہوتا ہے۔ ڈی ہائیڈریشن میں مبتلابچے کی طرف سے غافل نہیں ہونا چاہئے بلکہ ایسی صورت میں بچے کو فوراََ ڈاکٹر کے پاس لے جائیں۔
بچے میں فوری طور پر ڈی ہائیڈریشن کا پتہ لگانا ذرا دشوار ہوجاتا ہے۔ یعنی اس صورتحال کا آسانی سے اندازہ نہیں لگایاجاسکتا لیکن آپ کو مندرجہ ذیل علامات پر دھیان دینا بہت ضروری ہے۔
آپ کی توجہ کیلئے (علامات) :
بچہ کسی بھی قسم کا مشروب ٹھیک طرح نہ پی پائے۔
ڈائریا۔اور اس کے ساتھ ہونے والی الٹیاں۔
کئی گھنٹوں تک بچے کو پہنائی جانے والی نیپی کا خشک رہنا یعنی دیر تک پیشاب کا نہ ہونا۔
پیشاب کی تھوڑی مقدار لیکن اس کی رنگت گہری ہو۔
بے چینی ۔ جو واضح طور پر محسوس ہوجائے۔
اگر دی ہائیڈریشن کی نوعیت خراب ہوجاتی ہے تو پھر ایسی صورت حال میں مندرجہ ذیل علامات واضح طور پر محسوس کی جاسکتی ہیں۔
اگر آپ بچے کی جلد کو دباتی ہیں تو اس کی جلد دوبارہ اپنی اصل حالت واپس آنے میں وقت لگائے۔
آنکھوں کی پتلیاں ایک جگہ نہ ٹھہریں یعنی آنکھیں ڈوبتی ہوئی محسوس ہوں اور ان میں آنسو نہ ہوں۔
چہرہ اور ہونٹ خشک دکھائی دیں۔
شروع شروع میں بچہ پیاسا اور بے چین دکھائی دے۔ لیکن بعد میں خاموش اور پرسکون ہوجائے۔
کیا کرنا چاہئے:
فوری طور پر اپنے ڈاکٹر سے رجوع کریں۔
اگر علامات زیادہ شدید نہیں ہیں اور بچہ پانی یا دوسرے مشروبات پی رہا ہے توممکن ہے کہ ڈاکٹر ایسی صورت میں ڈی ہائیڈریشن کے سدباب کے لئے کوئی چیز پینے کے لئے تجویز کردے۔
ڈاکٹر کے تجویز کردہ مشروبات تیار کرتے ہوئے اس کے پیکٹ پر لکھی ہوئی ہدایات پر ضرور غور کریں اور احتیاط برتیں۔
پانی اُبال کراور ٹھنڈا کرکے پلائیں۔
بڑے بچوں کے لئے پاؤڈر کوپانی میں ملا کراستعمال کرایا جاسکتا ہے یا سفوف کی جگہ ٹیبلیٹ استعمال کروائی جاسکتی ہیں۔ اگربچہ مشروب کی پوری مقدار نہ پی سکے تو اس مشروب کو سنبھال کر چوبیس گھنٹے تک فریج میں رکھ سکتی ہیں۔
شیر خوار بچوں کی مائیں اس بات کا خصوصی اہتمام کریں کہ وہ بچے کو تھوڑی تھوڑی دیر میں دودھ ضرور پلاتی رہاکریں۔ اس کے علاوہ اگر چھوٹا بچہ ڈی ہائیڈریشن کا شکارہوگیا ہے تو ڈاکٹر کے تجویز کردہ Rehydrationمشروبات بھی بچے کو چمچے یاسرنج کے ذریعے پلانے کا خصوصی اہتمام بھی کریں۔
ڈاکٹر کے آنے تک یاطبی امداد ملنے تک بچے کو موسمبی‘ سیب یاانناس کارس دیاجاسکتا ہے یا پھر ابالا ہوا ٹھنڈا پانی استعمال کرتی رہیں۔
بچے کو ہر ایک آدھے گھنٹے بعد مشروب پلادیا کریں۔یاد رکھیں کہ ڈی ہائیڈریشن کی صورت میں اسے مشروب کی زیادہ مقدار کی ضرورت ہوا کرتی ہے۔
ضمنی دوائیں اور علاج:
ڈی ہائیڈریشن کی صورت میں بچے کو فوری طورپر طبی امداد کی ضرورت پیش آتی ہے۔ لیکن اس سے پہلے آپ اسے ضمنی دوائیں بھی دے سکتی ہیں۔ جواس وقت فوری طورپر مہیا ہوجائیں۔ جیسے بچے کو فوری طور پر او۔ آر۔ ایس کا تیار شدہ مشروب پلایا جائے۔ شیرخوار بچے کو دودھ پلانے کے وقفوں میں کمی کرکے فیڈنگ کے دورانیے کو بڑھادیاجائے۔ دوسال سے زائد عمر کے بچوں کو سکنجین پلانے سے بھی ڈی ہائیڈریشن کی شدت میں کمی کی جاسکتی ہے لیکن اس بات کا ہمیشہ خیال رکھیں کہ ضمنی دوائیں وعلاج محض اس وقت تک کے لئے ہی مئوثر ہوتا ہے جب تک مرض کاباقاعدہ کسی مستند ڈاکٹر سے علاج نہ کروایا جائے کیونکہ یہ ضمنی دوائیں وعلاج مریض کو ابتدائی طبی امداد کے طور پر دیئے جاتے ہیں تاکہ ڈاکٹر تک پہنچے تک مرض مزید بگڑنہ جائے۔لہٰذا اپنے گھر میں اسے ادویات کا ذخیرہ اور ان کے استعمال کے بارے کے بارے میں معلومات ضرور رکھیے مگر اسے شافی علاج تصور کرکے ان پر انحصار ہرگز نہ کریں بلکہ ڈاکٹر تک پہنچنے کی جلد ازجلد کو شش کریں۔
ہیموفیلس انفلوئنزاB(Hib)
نوعیت:
Haemophilusدراصل وہ طفیلی جرثومہ ہے جو خطرناک قسم کے انفیکشنز کاسبب بنتا ہے اور عمومی طور پر چھوٹے بچوں کو بے حد متاثر کرتا ہے۔ ایسے بچے جو ہیموفیلس انفلوائنزا B( Hib) کے شدیدا نفیکشن کاشکار ہوتے ہیں۔ یہ جرثومہ ان کی دماغی جھلی پر اثرانداز ہو کر 10میں سے 6بچوں کو گردن توڑ بخار (Meningtis) میں مبتلا کرسکتا ہے۔ اس کی وجہ سے برمزمار(Epiglottis) زبان کے پیچھے کا ٹیج کا پتلاپتے نما طلپ جونکلنے کے دوران لیرنکس کی طرف جانے والے سوراخ کو ڈھکتا ہے‘ حلق کی جانب سے اس قدر سوج جاتا ہے کہ سانس لینے میں دشواری ہونے لگتی ہے اور بچے کی سانسیں رکنے لگتی ہیں۔
Hibبیکٹیریم خون کے انفیکشن کاسبب بھی بن جاتا ہے اور ہڈیوں اور جوڑوں کوبھی تباہ کرکے رکھ دیتا ہے۔ یہاں تک کہ مرض کی شدید قسم بچے کو Arthritisاور Osteomyelitis میں مبتلا کرسکتا ہے۔
اس کے جراثیم عام طور پر ناک اور گلے میں ہوا کرتے ہیں۔ اور سانسوں کھانسی اور چھینک کے ساتھ ایک سے دوسرے فرد میں منتقل ہوجاتے ہیں۔ان جراثیم کاکم سے کم نقصان یہ ہے کہ بچوں کے کانوں میں انفیکشن پیداکردے۔
Hibعام طور پر دوسال تک کے بچوں میں بیماریوں کاایک بہت بڑا سبب ہے۔ تین ماہ سے کم عمر کے اور چار برس سے زیادہ عمر کے بچوں کو اس مرض کا شکار بہت کم دیکھا گیا ہے۔ عام طور پر دس سے گیارہ ماہ تک کے بچوں کے لئے اس مرض میں مبتلا ہونے کا خطرہ زیادہ ہواکرتا ہے۔
Hibسے بچاؤ کے ٹیکے 1992میں متعارف ہوئے اس کے بعد اس مرض کے شکاربچوں کی تعداد بہت کم ہوگئی ہے۔ (جن بچوں کو اس کے ٹیکے لگائے گئے)
علامات:
Hibکے مرض میں مبتلا بچے غنودگی کے عالم میں رہتے ہیں۔ انہیں جگانا بہت مشکل ہوجاتا ہے۔کھانے پینے سے انکارکردیتے ہیں۔ الٹیاں کرتے رہتے ہیں اور چھوٹے سے رونے لگتے ہیں۔ انہیں اکثر بخار رہتا ہے اور روتے ہوئے ان کی آواز بھی بہت بدلی ہوئی محسوس ہوتی ہے۔
ایسے بچوں کو سردرد اور جوڑوں کادرد بھی ہوسکتا ہے ۔ روشنی سے بچانے کے لئے ان کی آنکھوں کو کسی کپڑے سے چھپادیں۔ طبیعت زیادہ خراب ہونے کی صورت میں بچے کی گردن اکڑ جاتی ہے اور بچے کے سرکانرم گوشہ پھڑکنے لگتا ہے۔
Hibمیں زیادہ بے چینی ہوجاتی ہے۔ ان کی سانس لینے کے عمل سے تکلیف دہ آوازیں آنے لگتی ہیں۔ کیونکہ بچہ سانس لینے میں دشواریاں محسوس کیاکرتا ہے۔ اس طرح تکلیف کے سبب اس سے تھوک بھی نگلا نہیں جاتا۔ اپنی گردن تکلیف دہ حالے میں ادھراُدھر کرتا رہتا ہے۔ مجموعی طور پر یہ ایک خطرناک مرض ہے۔
آپ کوکیا کرنا چاہئے:
دیر کئے بغیر اپنے ڈاکٹر یاہسپتال پہنچ جائیں اور ساری صورت حال اس پر واضح کردیں اور ڈاکٹر کی ہدایات پر پوری طرح عمل کریں۔ ہوسکتا ہے کہ آپ ڈاکٹر کے پاس جائیں وہ بچے کو فوری طور پر ہسپتال میں داخل کرنے کے لئے کہے ایسی صورت میں دیر کئے بغیر اسے ہسپتال میں داخل کرادیں۔
علاج:
بچے کے ہسپتال پہنچنے کے بعد اس بات کی تصدیق کی جاتی ہے کہ وہ واقعی Hibمیں مبتلا ہے۔ پھر ڈاکٹر فوری طور پر آپ کے گھر کے ان تمام بچوں کو ٹیکے لگانے کے لئے کہے گا جن کی عمر چار دسال سے کم ہے اور جن کو ابھی تک اس مرض کے ٹیکے نہیں لگے۔
بڑے لوگوں یابڑے بچوں کو اس کے ٹیکے تو نہیں لگائے جاتے لیکن ڈاکٹر ہر ایک گھنٹے کے بعد اینٹی بایوٹک کی خوراک احتیاط کے طور پر استعمال کراتے ہیں تاکہ یہ مرض ادھر اُدھر نہ پھیل سکے۔یہ دوائیں احتیاط کے لئے دی جاتی ہیں۔ یعنی یہ ایسی بیماری ہے کہ جس میں مبتلا بچے کا علاج تو ہو ہی رہا ہے لیکن اس کے ساتھ گھر کے دوسرے افراد کو بھی دوائیں استعمال کرنی پڑتی ہیں۔
ٹیکے:
Hib کے ٹیکے ان تمام بچوں کو لگائے جاتے ہیں جن کی عمر دو تین اور چارماہ کی ہو۔
یہ ٹیکے دوسری بیماریوں کے ٹیکوں کے ساتھ ساتھ لگائے جاتے ہیں۔ جیسے Diphtheiaٹیٹنس اور کالی کھانسی وغیرہ۔
اس ٹیکے 95فیصد تک موثر اور مفید پائے گئے ہیں۔ اور اس سلسلے میں ان کی کارکردگی کاریکارڈ بہت شاندار ہے۔ عام طور پر جس جگہ اس کا انجیکشن لگایا جاتا ہے وہاں بچے کی جلد پر ایک سرخ دائرہ سانمودار ہوجاتا ہے۔ لیکن یہ دائرہ چوبیس گھنٹوں کے بعد خود بخودختم ہوجاتا ہے۔
بارہ مہینے سے کم عمر کے بچوں کو اس موذی مرض میں مبتلاہونے کا خطرہ بہت شدید ہوتا ہے۔ اگر انہیں معمول کے ٹیکے نہ لگے ہوں تو کسی بھی وقت اس مرض کا شکار ہوسکتے ہیں۔
ضمنی دوائیں:
ہومیوپیتھک دوائیں مفید ثابت ہوتی ہیں۔ جب بچے کو بہت شدید تکلیف ہو اس وقت اسے (Aconitum Napellus) Aconite 30C دیاجاتا ہے اور جب بچے کو شدید پیاس محسوس ہواور اس کابدن بخار سے جل رہاہو۔ اس وقت اسے(Atropa Belladonna) Belladonna30Cکی خوراک دی جاسکتی ہے۔
اس کے علاوہ چائینز طریقہ علاج میں ایکوپنکچر بیماری سے صحت یاب ہونے کے بعد کسی آفٹر افیکٹ سے محفوظ رکھنے میں معاون ثابت ہوتا ہے۔

(0) ووٹ وصول ہوئے