بند کریں
خواتین مضامینبچے کی نگہداشتگاڑھا دودھ

مزید بچے کی نگہداشت

پچھلے مضامین - مزید مضامین
گاڑھا دودھ
دودھ بھی دو قسم کا آتا ہے ایک میٹھا کیا ہوااور دوسرا وہ جس میں کھانڈ نہیں ملائی گئی ہوتی بغیر کھانڈ ملا دودھ بہتر ہوتا ہے لیکن یہ جلد کھٹا ہوجاتا ہے
گاڑھا دودھ:
ڈبے میں بند گاڑھا کیاہوا دودھ بھی بازار میں ملتا ہے،اسے بھی عارضی طورپر بچے کی غذا بنایا جاسکتا ہے لیکن اپنے دودھ کا متواتر استعمال جائز نہ ہوگا خواہ بنانے والی کمپنیوں کے اشتہیار میں کچھ ہی کیوں نہ لکھا ہو،اس کے متواتر استعمال سے بچے کی ہڈیاں اکثر ٹیڑھی ہوجاتی ہیں اگرچہ اس دودھ پر بچہ اچھا خاصا موٹا تازہ معلوم ہوتا ہے یہ دودھ بھی دو قسم کا آتا ہے ایک میٹھا کیا ہوااور دوسرا وہ جس میں کھانڈ نہیں ملائی گئی ہوتی بغیر کھانڈ ملا دودھ بہتر ہوتا ہے لیکن یہ جلد کھٹا ہوجاتا ہے اس لیے عام طور پر کھانڈ ملا دودھ بہتر ہوتا ہے اس لیے عام طور پر کھانڈ ملا دودھ استعمال کیا جاتا ہے یہ دودھ چونکہ گاڑھا کیا ہوتاہے اس لیے اس میں تین گناہ پانی ملالیں،اب یہ گائے کے دودھ کے برابر ہوجائے گا اگر بچے کا دودھ ہلکا کرکے دینا مقصود ہوتو پھر اس کی مقدار کے برابر اور پانی ملالیں جیسا کہ پہلے بیان ہوچکا ہے اور ویسے ہی اس میں بھی بالائی اور کھانڈ کی مناسب مقدار ملانی پڑے گی۔جب بغیر کھانڈ ملے دودھ کو استعمال کیا جارہا ہو تو پہلے اس میں چار گناہ کھولتا ہوا پانی ملالیں اور دو چھٹانک دودھ میں ایک چمچی بالائی کی ملائیں اور اسی مقدار میں دودھ کی کھانڈ بھی ملالیں تاکہ یہ دودھ ماں کے دودھ کے برابر ہوجائے۔
خشک دودھ: یہ کئی ایک ناموں کے ماتحت بکتا ہے۔بالمعوم اس کی دو قسمیں ہوتی ہیں ایک وہ جو زیادہ درجہ حرارت پر خشک کیا جاتاہے اور اس میں یہ نقص پیدا ہوجاتا ہے کہ حرارت سے تمام حیاتین جو صحت اور زندگی کے لیے ضروری ہیں ختم ہوجاتی ہے اور دوسرا وہ دودھ ہوتا ہے جو کم درجہ حرارت پر خشک کیا جاتا ہے اس میں البتہ حیاتین کم وبیش برقرار رہتی ہیں اور اس کا مکھن بھی دودھیا کی شکل میں برقرار رہتا ہے لیکن اسے کیا کیا جائے کہ اس کا ذائقہ اچھا نہیں ہوتا اوروہ زود ہضم بھی نہیں ہوتا۔پس خشک دودھ صرف اس وقت استعمال کریں جب تازہ دودھ کسی صورت بھی دستیاب نہ ہوسکے مثلاً دور دراز کے سفر میں یا گرمیوں اور برسات کے موسم میں جب دودھ کوزیادہ دیر تک رکھا نہ جاسکتا ہو۔جب خشک دودھ استعمال کریں تو اسے بھی معیادی دودھ بنالینے کے بعد ہی استعمال کریں،جس کا طریقہ مفصل طور پر پہلے بیان کیا جاچکا ہے۔خشک دودھ میں یہ فائدہ ہوتا ہے کہ یہ صرف پانی میں ملا لینے سے تیار ہوجاتا ہے البتہ اس میں حیاتین(وٹامن) بہت ہی کم رہ جاتی ہیں لیکن دوسری قسم کے بنائے ہوئے دودھ میں ایک تو مکھن کم ہوتا ہے اور دوسرے اس میں نباتاتی لحمیات ملادی جاتی ہیں بہر حال بنے بنائے دودھ جہاں تک ممکن ہوسکے نہ پلائیں جائیں اور وہ دودھ جس میں نشاستہ پڑا ہوا ہو اسے ایک سال سے کم بچوں کو ہرگز نہ پلائیں کیونکہ کم عمر کا بچہ نشاستہ کو ہضم نہیں کرسکتا۔البتہ جس بچے کو ہمیشہ قبض کی شکایت رہتی ہو اس کے دودھ میں دن میں ایک یا دو بار ایسا دودھ ملا دینا جس میں نشاستہ پڑا ہوا ہو مفید ثابت ہوگا۔
انڈے کی سفیدی کا پانی: یہ پانی کے اندر کچے انڈے کی سفیدی کو پھینٹ کر بنایا جاتا ہے تقریباً ایک پاؤ پانی میں ایک انڈے کی سفیدی پھینٹ لیں اور اس میں قدرے چینی بھی ملالیں۔اب یہ بھی ایک اچھی خوراک بن جاتی ہیں اور یہ آسانی سے ہضم بھی ہوجاتی ہے اور بالخصوص ان بچوں کو دی جاتی ہیں جو قے کررہے ہو اور دودھ کو ہضم نہ کرسکتے ہوں۔اس میں بالائی اور چینی بھی ملا لیا کریں،لیکن اس طرح کے پہلے بہت قلیل مقدار میں ملائیں اور پھر اسے بتدریج زیادہ زیادہ کرتے جائیں حتیٰ کے وہ معیاری ہوجائے یا اس حد تک ملائیں کہ بچہ اسے ہضم کرلے وہ اسے اگلنے لگے تو فوراً ان کی مقدار کم کردیں،حتیٰ کہ وہ اسے نہ اگلے۔
دودھ بنانے کا طریقہ:جو دودھ بازار سے حاصل کیا جاتا ہے اس کے اندر بے شمار جراثیم ہوتے ہیں اور تجربات سے یہ بات پایہ ثبوت تک پہنچ گئی ہے کہ بچوں کے اکثر امراض کا باعث یہی دودھ ہوتا ہے اور اکثر دق وسل یا سوجھے کا مرض بھی اسی قسم کے دودھ کے استعمال سے لاحق ہوجاتا ہے پس ضروری ہے کہ بچے کو بازاری دودھ دینے سے پہلے اس کے اندر موجود جراثیم کو بے ضرر بنادیا جائے اور اس کے لیے تین طریقے استعمال ہوتے ہیں:
۱۔جراثیم کو ہلاک کردینے سے۔
۲۔پاسچورانے سے۔
اُبالنے سے۔ جراثیم کو ہلاک کرنے کے لیے دودھ کو بوتل میں ڈال کر اسے کھولتے ہوئے پانی میں ایک گھنٹہ تک پڑے رہنے دیں اس سے تمام جراثیم ہلاک ہوجاتے ہیں اور کیسین بھی زود ہضم بن جاتی ہیں لیکن وہ شے جو دودھ کے اندر پائی جاتی ہے اور بچے کی ہڈیوں کو ٹیڑھا ہونے سے بچاتی ہیں وہ بالکل بربا د ہوجاتی ہے اس لیے اگر یہ دودھ زیادہ عرصے تک بچے کو پلایا جائے تو اس مرض کے لگ جانے کا خطرہ ہوگا۔
پاسچورایا ہوا دودھ: اس کے بنانے کا طریقہ یہ ہے کہ پہلے دودھ کو خوب گرم کریں لیکن اُبالے نہیں یعنی ۱۶۰ درجہ تک گرم کریں اور بیس منٹ تک اس کو اسی حالت پر رکھیں۔اس عرصے میں اکثر جراثیم ہلاک ہوجاتے ہیں اگرچہ چند جراثیم ایسے بھی ہوتے ہیں جو اس طرح مردہ نہیں ہوتے۔اس کے بعد اسے فوراً ٹھنڈا کریں اور اس کا طریقہ پہلے بیان ہوچکا ہے اور اس دودھ کو بوتل میں ڈال کر محفوظ کرلیں۔جب بچے کو دودھ پلانا ہوتو اس میں سے حسب منشالے کر اسے اُبال لیں اور بچے کو پلادیں۔
دودھ اُبالنا: یہ طریقہ عام طور پر استعمال کیا جاتا ہے چنانچہ دودھ کو اُبال لیں لیکن صرف ایک ہی دفعہ ابالا آنے دیں اور پھر اسے چولہے سے اتار کر فوراً ٹھنڈا کرلیں۔اس سے تمام جراثیم ہلاک ہوجاتے ہیں اور ہڈیوں کو ٹیڑھا ہونے سے بچانے والی شے بھی ضائع نہیں ہوتی۔دودھ کو صاف اور جراثیم سے پاک کرنے کی تمام کوششیں اور احتیاطیں بے کار ثابت ہوگی اگر اس کے ساتھ دودھ پلانے والی بوتل اور نپل کو بھی اچھی طرح صاف ستھرا نہ کرلیاہو بوتل ایسی استعمال کرنی چاہیے جس کے دونوں طرف منہ ہوں تاکہ دودھ پلانے کے بعد اسے اچھی طرح دھویا جاسکے اور پھر اس بوتل اور نپل کو ایک ایسے پانی میں ڈبوئے رکھیں جس میں سہاگہ ڈالا ہوا ہو۔بوتل سے دودھ پلاتے وقت بوتل کو تکیہ پر نہ رکھیں بلکہ اسے ہاتھ میں پکڑ کر دودھ پلائیں بچے کو ایک بوتل ختم کرنے کے لیے کم از کم پندرہ منٹ لگ جانے چاہیں اگر بچہ تیزی سے پی رہا ہے تو اسے ٹھہر ٹھہر کر پلائیں یاایسا نپل لگائیں جس کا سوراخ چھوٹا ہو۔جب بچہ آہستہ آہستہ دودھ پیتا ہے تو وہ صرف اس قدر پیئے گا جس قدر اسے درکار ہوگا لیکن تیزی سے دودھ پینے والا بچہ وہ تمام دودھ پی جائے گا جو اسے مہیاہوسکتا ہے۔دودھ پلانے کے دوران میں ویسے بھی ایک یا دو دفعہ بوتل ہٹا کر وقفہ دینا چاہیے اور بچے کو بٹھائیں تاکہ اسے ڈکار آجائے اور دودھ ختم کرنے پر اسے فوراًنہ سلائیں بلکہ اسے کچھ وقفے کے لیے بٹھائیں تاکہ کھل کر ڈکاریں آجائیں اس سے بچہ بالکل تندرست اور ہوشیار رہے گا بچے کو دودھ وقت پر دیں۔ اگر عین وقت پر سویا ہوا ہو تو جانے میں کوئی مضائقہ نہیں کم از کم چھ مہینے تک بچے کو سوائے دودھ کے اور کچھ نہ دیں کیونکہ ابھی تک اس کے معدے کے اندر سوائے دودھ کے اور کچھ ہضم نہ ہوسکے گا۔

(0) ووٹ وصول ہوئے