بند کریں
خواتین مضامینبچے کی نگہداشتجریان خون بند کرنے کا طریقہ

مزید بچے کی نگہداشت

پچھلے مضامین - مزید مضامین
جریان خون بند کرنے کا طریقہ
بیرونی شے زخم کے اندر گھس گئی ہوں یا زخم اس قدر ہوکہ انگلی یا انگوٹھے اس مقام پر دباؤ نہ ڈالا جاسکتا ہو تو پھر اس شریان کو دبانا چاہیے جس کے ذریعے اس مقام پر خون پہنچ رہا ہوں
جریان خون بند کرنے کا طریقہ:
جس مقام سے خون بہہ رہا ہو،وہاں انگلی سے دبا کر اسے فی المفور عارضی طور پر بند کردیا جائے لیکن جب ہڈی ٹوٹ گئی ہو یا کوئی بیرونی شے زخم کے اندر گھس گئی ہوں یا زخم اس قدر ہوکہ انگلی یا انگوٹھے اس مقام پر دباؤ نہ ڈالا جاسکتا ہو تو پھر اس شریان کو دبانا چاہیے جس کے ذریعے اس مقام پر خون پہنچ رہا ہوں ا ور شریان کے اس حصے پر دباؤ ڈالنا چاہیے جو دل کے زیادہ نزدیک ہو اور بالخصوص اُس مقام پر جہاں یہ شریان کسی ہڈی پر سے گزرتی ہو تاکہ آسانی سے دبائی جاسکے،اور اُس مقام پر جہاں سے دبایا جاتا ہے اُسے”فشاری نقطہ“ یا دباؤ ڈالنے والا مقام کہتے ہیں دباؤ ڈالتے وقت یہ خیال رکھیں کہ انگلی یا انگوٹھا ٹیڑھا پڑا ہوا نہ ہو اور نہ ہی ناخن یا پور چھبنے پائیں اور جس قدر ہوسکے دباؤ کا یہ مقام اُس مقام کے نزدیک تر ہو جہاں سے خون بہہ رہا ہوتا ہے تاکہ ضروریات سے زیادہ حصے کا دوران خون بند نہ ہونے پائے نیز جہاں تک جلد ممکن ہو انگلی کے دباؤ کو دوسری قسم کے دباؤ سے بدل دیں کیونکہ انگلیاں جلد تھک جاتی ہیں۔
فشاری نقطے:
۱۔جب خون گردن سے بہہ رہا ہوں تو پہلے گردن کو دوسری طرف موڑ کر وہ لکیر معلوم کریں جو پہلی طرف کے ایک گوشت(عضلہ) کے تن جانے سے اُبھر آتی ہیں پھر گھنڈی کے نچلے حصے کے بالمقابل اس لکیر پر انگوٹھے سے اس طرح دباؤ کا رخ اور باہر کی طرف ہو،اگر خون سیاہی مائل ہو تو گردن کے زخم کے بالائی حصے پر دباؤ ڈالنے کی ضرورت ہوگی اس سے خون رک جائے گا۔
۲۔اگر خون ہونٹ رخسار،ناک یا آنکھ کے نچلے حصے سے بہہ رہا ہو تو نچلے جبڑے کے زاویے سے دو انچ آگے ٹھوڑی کی طرف دبائیں یعنی اس عضلے کے اگلے کنارے سے آگے جو دانتوں کو بھینچنے سے اُبھر آتا ہے۔
۳۔جب کنپٹی کے اردگرد کہیں خون بہہ رہا ہو تو اُس رگ کو دبائیں جو کنپٹی پر دھڑکتی ہوئی محسوس کی جاسکتی ہیں۔
۴۔جب سرکے نچلے حصے سے جریان خون ہورہا ہو تو گُدی پر دبائیں یہ مقام بالعموم کان سے چار انگلی کے قریب پیچھے ہوتا ہے اور اکثر اس مقام کو معلوم کرنا مشکل ہوتا ہے اس لیے اس حالت میں یہی بہتر ہوگا کہ زخم سے نیچے گدی رکھ کر دباؤ ڈالا جائے۔
۵۔جب خون کندھے یا بازو سے بہہ رہا ہو تو سینے اورگردن کے بالائی حصے سے کپڑے اُتار ڈالیں اور بازوؤں کو جسم کے متوازی رکھیں،امداد دینے والا شخص ایک ہاتھ سے شریان کو دبائے اور دوسرے ہاتھ سے انگلیوں کو کندھے کے پیچھے رکھے اور مجروح کی گردن کو کندھے کی طرف رکھیے اور مجروح کی گردن کو کندھے کی طرف جھکائے اور پیچھے رکھے ہوئے ہاتھ کے ا نگوٹھے کو ٹھیک۔ ہنسلی کی ہڈی کے اوپر پچھلی طرف گہرائی میں رکھ کر انگوٹھے سے دبائے۔
۶۔جب خون بازو کے نچلے حصے یا آستین سے بہہ رہا ہو تو بازو کی اندرونی طرف اس کے وسط میں جو رگ دھڑکتی ہوئی محسوس ہوتی ہے اس کو دبائیں۔
۷۔جب ہاتھ یا کلائی کے اردگرد خون بہہ رہا ہو تو کلائی سے ایک انچ اونچا اور بیرونی کنارے سے آدھ انچ کے قریب اندر کی طرف ہڈی کے بالمقابل دبائیں اس مقام پر شریان دھڑکتی ہوئی محسوس ہوگی اوراسی شریان کی دھڑکن کو نبض کہتے ہیں۔
۸۔ایک شریان کلائی سے ایک انچ موٹی اوراندرونی کنارے سے آدھ انچ اونچی کے قریب باہر کی طرف دھڑکتی ہوئی محسوس ہوتی ہیں اسے بھی ہڈی کے بالمقابل دبائیں،سات اور آٹھ پر اسی وقت دباؤ ڈالا جاتا ہے جب ہتھیلی سے خون بہہ رہا ہو اور جب انگلیوں سے خون بہہ رہا ہو تو زخم پر چھوٹی سی گدی رکھ کر اسے بند کیا جاسکتا ہے۔
۹۔جب ٹانگوں یا پاؤں سے خون بہہ رہا ہو تو ناف کے نیچے ہڈی کے کناروں کو دبائیں یہ شریان بڑی اور گہری ہوتی ہیں اس لیے اس پر دباؤ ڈالنے کے لیے ایک مددگار کی ضرورت ہوگی،چنانچہ کنج ران میں ایک انگوٹھے کو دوسرے انگوٹھے پر رکھ کر اس طرح دبائیں کہ دونوں ہاتھ ان کو تھامے ہوئے ہوں جلدی تھک جانے کی صورت میں اس مقام پر گدی رکھ کر پٹی باندھ دیں۔
وریدی جریان خون: جب جریان خون کسی ورید سے ہورہا ہو تو زخم کے قریب اس طرف پٹی باندھیں یا دباؤ ڈالیں جو دل سے دور ہو۔
۱۱۔جب جریان خون ٹانگوں یا بازوؤں سے ہورہا ہو خصوصاً ٹانگوں سے تو جہاں تک ہوسکے اس حصے کو دل کی سطح سے اونچا رکھیں کیونکہ وریدوں کے خالی ہونے سے شریانیں بھی سکڑ جاتی ہیں اور خون کا بہنا بند ہوجاتا ہے۔
۱۲۔مجرح حصے کو ٹھنڈک پہنچائیں اور اس مقصد کے لیے برف سر د پانی اور اُڑ جانے والے لوشن لگائیں ٹھنڈی ہوا بھی اس مقصد کو حاصل کرنے میں مدد دیتی ہے اور یہ طریقہ اس وقت زیادہ مفید ہوتا ہے جب خون کسی کھوکھلی جگہ آرہا ہو مثلاً منہ وغیرہ سے۔
۱۳۔گہرے اور متخلخل اور پلپلے اعضاء سے خون کو بند کرنے کے لیے بعض اوقات بھی استعمال کی جاسکتی ہیں ان کا سفوف بنا کر زخم پر چھڑک دیں :مثلاً پھٹکری،انزورت،مازوپھل، ہلدی یہ ادویات خون کو منجمد کرکے اس کا بہنا روک دیتی ہے البتہ ان ادویات کے استعمال سے پہلے زخم کی سطح کو اچھی طرح دھو کر اور جہاں تک ہوسکے خشک کرلیں پھر کسی کپڑے یا جالی کو پانی میں اُبال کر نچوڑ لیں اور اس پر ان ادویات کا لگا کر زخم پر رکھ دیں یا چھڑک دیں مریض کو باقاعدہ طبی امداد کے لیے ہسپتال پہنچائیں۔
عروقی جریان خون: جب بہت سی باریک رگیں(عروق)کٹ گئی ہو تو ہر ایک پر دباؤ ڈالنا مشکل بلکہ ناممکن ہو جاتا ہے فوری ضرورت ایک رومال سے بھی پوری کی جاسکتی ہیں چنانچہ رومال کو ٹانگ یا بازو کے ارد گرد ڈھیلا لپیٹ کر گرہ لگادیں اور فشاری نقطہ پر ایک مضبوط گدی پر رکھ دیں،پھر لکڑی درخت کی ٹہنی،پنسل یا اسی قسم کی کوئی شے جو درخت کی ٹہنی پنسل یا اسی قسم کی کوئی شے جو بھی پاس موجود ہو اسے رومال کے نیچے رکھ کر اس طرح گھمائیں کہ بندھے ہوئے رومال پر بل پڑنے لگیں اور وہ بدستور کستا چکا جائے۔گدی اس کے نیچے شریان کو دباتی ہوئی خون کو بہنے کو روک دے گی اب لکڑی یا جوشے بھی استعمال کی گئی ہو اسے بندھے ہوئے رومال کے سروں کے ساتھ باندھ دیں یا دوسرا کپڑا اس کے اور متعلقہ عضو کے گرد لپیٹ دیں تاکہ وہ اپنی جگہ پر قائم رہے اور کھسکے نہ پائیی اگر مناسب گدی مہیا رومال اور پنسل کے ذریعے جریان خون روکنے کا طریقہ دائرہ فشاری نقطے پر رکھی ہوئی گدی کو ظاہر کرتا ہے۔نہ ہوسکے تو رومال کے وسط میں ایک گرہ دے لیں اور گرہ ابھار کو ”نقطہ فشار“پر رکھیں یا کوئی پتھر کارک وغیرہ رومال میں لپیٹ کر بطور گدی استعمال کریں ہر بیس منٹ کے بعد اس کو ڈھیلا کردیں تاکہ غیر مجروح حصے میں تازہ خون دوڑ سکے۔

(0) ووٹ وصول ہوئے