Mother And Son

ماں اور بچہ

Mother And Son
زچہ اور بچہ
حمل ایک طبعی اور قدرتی امر ہے اور اس سے مدعا نسل انسانی کی بقا ہے،جب انسانی جسم کے لیے موت ضروری ہے تو اس کی بقا کے لیے بھی کسی سلسلے کا ہونا لابدی تھا ورنہ نظام انسانی نہ وبالا ہوکر رہ جاتا،لیکن قدرت کو ایسا منظور نہ تھا۔حمل کے دوران میں بچہ اور رحم متواتر بڑھتے رہتے ہیں اور یہ سلسلہ آخری حیض آنے سے تقریباً دو سو اسی دن تک جاری رہتاہے۔

حمل کی موجودگی کا پتالگانا گاہے مشکل ہوتاہے بالخصوص اس کے ابتدائی ہفتوں میں لیکن عام حالات کے ماتحت حیض کا نہ آنا ہی حمل کی علامت سمجھی جاتی ہے اور بچہ پیٹ کے اندر حرکت کرنے لگے تو یہ حمل کی یقینی علامت ہوتی ہے۔
حمل چونکہ ایک طبعی امر ہے اس لیے اگر حاملہ حفظان صحت کے اصولوں کی پابند رہے تو پھر کسی مزید ہدایت کی ضرورت باقی نہیں رہتی۔

(جاری ہے)

البتہ یہ خیال رکھنا ضروری ہوگا کہ حمل کے دوران جسم کے تمام اعضاء اور احشاء پر پہلے سے زیادہ بوجھ پڑ رہا ہے،بالخصوص اس حاملہ میں جو پلیٹھن ہو،اس لیے بعض ایسی ہدایت پر عمل کرنا ضروری ہوگا جو آرام اور آسائش میں اس کی مدد کرسکیں اور اسے خستگی سے محفوظ رکھیں۔ہر اس عورت کو اپنا معائنہ اس مرکز میں ضرور کرانا چاہیے جو زچہ اور بچہ کی بہبود کے لیے قائم کیے گئے ہیں جب اس کے حمل پر ساڑھے سات مہینے گزر گئے ہوں تاکہ زچگی سے پہلے وہ تمام معلومات حاصل کرلی جائیں جو بچے کی صیح پیدائش کے لیے ضروری ہوتی ہیں۔


ماں کالباس:کھلے کپڑے پہننے چاہیں ایسے جو جسم پر تنگ نہ ہوں،انگیاں اگر پہنی جائیں تو وہ ایسی نہ ہوں جو سرپستان(بھٹی) پر دباؤ ڈالنے والی ہوں۔حمل کو جوں جوں وقت گزرتا جائے انگیاں بڑی کرتی جائیں۔بعض عورتیں انگیوں کے بغیر زیادہ آرام محسوس کرتی ہیں۔چونکہ اس زمانے میں دل پھیپھڑوں جگر اور گردوں کو زیادہ کام کرنا پڑتا ہے اس لیے چست اور تنگ لباس ان کے افعال میں رکاوٹ ثابت ہوگا۔


ماں کاکھانا پینا:حمل کے دوران میں غذا کی ضرورت بھی زیادہ ہوتی ہے اور حاملہ اسے ہضم بھی کرلیتی ہیں اس کے لیے بہتر ہوگا کہ گوشت دن میں صرف ایک بار استعمال کرے،البتہ اس میں پکائی ہوئی سبزیاں دونوں وقت کھانے میں کوئی مضائقہ نہیں،مرغن ثقیل اور زیادہ مرچ مسالے والی غذائیں نہ کھائی جائیں تو بہتر ہوگا۔گردوں کو صاف رکھنے اور ان کو اپنے افعال میں مدد دینے کے لیے ضروری ہوگا کہ پیاس کو کبھی نہ روکا جائے اور موسم کے اعتبار سے زیادہ پانی پیا جائے۔


ماں کیلیے ورزش:حاملہ کا عام رجحان آرام کی طرف ہوتا ہے بالخصوص جب دن پورے پونے کے قریب آجائیں اس رجحان کا ایک حد تک مقابلہ کرنا چاہیے اس حالت میں حاملہ کے لیے چلنا پھرنا ضروری ہوتا ہے۔عام گھریلو عورتوں کو اپنے روزمرہ کے کام سے جی نہیں چرانا چاہیے۔البتہ اس حد تک بھی نہیں جانا چاہیے جس جسے تھکاوٹ محسوس ہونے لگے،یہ صرف اس لیے ضروری نہیں کہ عام صحت بحال رہے بلکہ اس لیے بھی کہ جسم کو اس وقت کے لیے تیار کیا جائے جب بچے کی پیدائش کے وقت اسے بہت زیادہ جسمانی مشقت برداشت کرنا پڑے گی۔

البتہ شدید قسم کی ورزشوں سے پرہیز ضروری ہوگا بالخصوص وہ جو تیز و تند ہونے کے علاوہ تھکا دینے والی بھی ہوتی ہیں،ان سے حمل کے گرجانے کا خطرہ ہوگا،مثلاً گھوڑا سواری،ناچنا کودنا،چھلانگیں لگانا وغیرہ،حمل کے ابتدائی ایام میں بالخصوص اس کا خیال رکھیں اور ان دنوں میں بھی جو حمل کی صورت نہ ہونے میں ایام حیض ہو،کیونکہ ام ایام میں حمل کے گر جانے کا اندیشہ زیادہ ہوتا ہے،اگر حاملہ کسی قسم کی ورزش کی عادی ہوتو ان ایام میں اسے کم کردینا مناسب ہوگا،چلنا پھرنا اور کھلی ہوا میں سیروتفریح کرنا ہر ایک کے لیے ضروری ہے،جب کسی عذر کی بناپر ایسا کرنا ممکن نہ ہو تو پھر اگر حالات اجازت دیں ،بدن پر ہلکی مالش کرائی جائے۔


ماں کے لیے غسل اور صفائی:روزانہ غسل ضروری ہوگا بالخصوص گرمیوں کے موسم میں تاکہ جلد کے مسام پسینے کے لیے کھلے رہیں،بعض عورتیں حمل کے دوران میں نہانے کے بعد تھکاوٹ محسوس کرتی ہیں ، ان کے لیے بہتر ہوگا سونے سے پہلے غسل کریں اور پھر بستر میں لیٹ کر سوجائیں،اپنے مخصوص اعضا کی صفائی کا بھی خیال رکھیں،
ماں کے پیٹ کی صفائی:
حاملہ کے لیے قبض بڑا تکلیف دہ ہوتاہے اس لیے ہر حالت میں اس سے بچنے کی کوشش کریں،کیونکہ حمل پیدا ہونے والے زہروں کے اثرات کو بڑھانے میں یہ بڑی مدد کرتی ہے۔

البتہ تیز جلاب سے پرہیز کرنا ضروری ہوگا،کیونکہ اس کے استعمال سے حمل کے گر جانے کا خطرہ بڑھ جاتا ہے اول تو غذا کی طرف خاص توجہ دینے سے اگر قبض دور ہوسکے تو یہ بہترین عمل ہوگا چنانچہ غذا میں سبزیوں کی مقدار بڑھادیں اور پھل بھی اکثر استعمال میں لائیں بشرطیکہ وہ بدہضمی اور ہوا پیدا نہ کریں۔اگر اس سے کام نہ چلے تویہ اشیاء استعمال کریں مثلاً گل قند،ملٹھی،ہڑکا مربہ وغیرہ،
ماں کی متلی:حاملہ میں صبح کے وقت جی متلانا اور قے کا آنا عام ہوتا ہے بالخصوص پلیٹھن میں اکثر طبعی سمجھا جاتا ہے البتہ جب زیادہ ہوجائے اور غیر معمولی حالت اختیار کرجائے جس سے حاملہ کی غذا اور صحت پر برا اثر پڑنے لگے تو باقاعدہ علاج کرائیں،اگر کسی وجہ سے بر وقت طبعی امداد میسر نہ آسکے تو میٹھا سوڈا(سوڈا بائیکارب) چائے کی چمچی کے ایک چوتھائی حصے کے برابر پانی میں حل کرکے دن میں تین چار مرتبہ استعمال کرتے رہیں یا سوڈا منٹ کی ٹکیاں استعمال کریں۔


ماں کے پیشاپ کا معائنہ:پہلے آٹھ مہینوں میں حاملہ کے پیساپ کا معائنہ مہینے میں ایک بار ضرور کرائیں اور نویں مہینے پر پندرہ دن کے بعد۔اور دسویں مہینے پر ہفتے کے بعد معائنہ کے دوران میں پیشاپ کے اندر زلال (البیومن) کی موجودگی کا پتا چلے گا جو حمل کے دوران میں گاہے آنے لگتی ہے اور اگر بر وقت مناسب علاج نہ کیا جائے تو عورت کے لیے موت کا پیغام ہوتی ہیں۔

حاملہ کو ہدایت کردینی چاہیے کہ جب وہ پیشاپ کی مقدار میں کمی سر درد اور آنکھوں کے سامنے اندھیرا آتا محسوس کرے تو فوراً ڈاکٹر سے مشورہ کرے اور اس میں کوتاہی نہ کرے اس قسم کے سر درد میں اسپرین یا دیگر گھریلو ادویات کا استعمال خطرناک ثابت ہوسکتا ہے۔
ماں کی ذہنی کیفیت:حاملہ عورت اپنے آپ کو جہاں تک ہوسکے تمام فاسد خیالات،ہیجان اور پریشانیوں سے دور رکھنے کی کوشش کرے اور اس کا بہترین طریقہ یہ ہوتاہے کہ اپنے آپ کو ہر وقت کسی نہ کسی کام میں مصروف رکھے اور آرام کے بہانے فارغ بیٹھنے کی کوشش نہ کرے ،گاہے بے خوابی حاملہ کی طبیعت پر بہت برا اثر ڈالتی ہے۔

ذہنی کیفیت درست رکھنے کے لیے یہ بھی ضروری ہوگا کہ حاملہ کی طرف سے اگر کوئی اعتراض ہو یا کسی خدشے کا اظہار کیا جائے تو اسے نہایت خوش آئندہ اور ملائم الفاظ میں حقیقت حال میں مطلع کردیا جائے اکثر دیکھا گیا ہے کہ جب حاملہ کو یہ تسلی دے دی جائے کہ کسی قسم کی غیر طبعی حالت موجود نہیں اور قدرت کی منشاء کے مطابق حالت درست جارہی ہیں تو اس کے ذہن سے بہت سے توہمات خود بخود دور ہوجاتے ہیں اور وہ اپنے آپ کوصحت مند تصورکرنے لگتی ہے اور کئی قسم کی بے کار اور نقصان دہ پریشانیوں سے اسے نجات مل جاتی ہے اور اگر خدانخواستہ کوئی غیر طبعی حالت موجود ہو مثلاً پیشاپ صیح نہ آرہا ہو،اندام نہائی سے کوئی بدبودار رطوبت خارج ہورہی ہو ،رحم کے اندر بچے کی وضع درست نہ ہو حاملہ کے کولہے کا ناپ چھوٹا ہو تو ان کا علاج فوراً یا مناسب موقع پر کیا جاسکتاہے تاکہ عین موقع پر ناقابل حل مصیبت کا سامنا نہ کرنا پڑے،حمل کی صورت میں عورت کی طبع اور بھی زیادہ نازک ہوجاتی ہیں۔

ہیجان زیادہ ہوتاہے اورمتلون مزاجی کا کوئی ٹھکانا نہیں ہوتا،پریشانی اور تشویش جو وہمی خطرات اور خیالات کا نتیجہ ہوتی ہیں اکثر لاحق رہتی ہے ہمدردانہ برتاؤ سے اس کا تدراک کیا جاسکتا ہے اس لیے حاملہ عورت کو کبھی اکیلا نہیں چھوڑنا چاہیے ورنہ توہمات کے زیر اثر وہ اپنے آپ کونقصان پہنچا لے گی۔
ماں کے دانت:حمل کی حالت میں دانت بالخصوص خراب اور خستہ ہونے لگتے ہیں ان کی طرف خاص توجہ دینا ضروری ہوگا،اگر وہ پہلے سے خراب ہو یا ان کے ارد گرد ماسخورہ ہوتو ان کا مناسب علاج کریں،یہ صرف اس لیے ضروری نہیں کہ حاملہ کی صحت پر اس کا برا اثر پڑتا ہے بلکہ اس لیے بھی کہ ائندہ یہ بیماریوں کا مرکز بن جاتا ہے دانتوں کے علاوہ مسوڑھوں اور گلے کا بھی معائنہ کرائیں اور جس قدر جلدی ہوسکے اس مرض کو دور کرنے کی کوشش کریں۔

پس حاملہ پر یہ اچھی طرح واضح ہوجانا چاہیے کہ مندرجہ ذیل حالتوں میں سے کوئی ایک بھی جب ظاہر ہوتو اپنے ڈاکٹر سے فوراً مشورہ حاصل کرے اور اس میں کبھی کوتاہی سے کام نہ لے۔
۱۔پیشاپ کم آنا،۲۔متواتر سر درد،۳۔انکھوں کے سامنے اندھیرا ٓنا یا بینائی کا دھندلا ہونا،۴۔چہرے یا ٹخنوں پر سوجن ہوجانا،۵۔

خون آنا۔حمل کے دوران میں ٹانگوں کی وریدیں یعنی نیلی نالیاں اکثر پھول جاتی ہیں بالخصوص ان عورتوں میں جنہوں نے کئی ایک بچے جنے ہوں اور یہ حالت حمل کے اخیری ایام میں اکثر دیکھی جاتی ہیں اس کی ابتداء پنڈلی سے ہوتی ہیں جو بڑھتے بڑھتے ران تک پہنچ جاتی ہیں اور اندام نہانی بھی اس سے متاثر ہوئے بغیر نہیں رہتی اس کا نتیجہ یہ ہوتاہے کہ شفران پھول کر بڑے بڑے ہوجاتے ہیں ،جب تک عورت حاملہ ہوکسی قسم کی جراحتی دست اندازی کی ضرورت نہیں ہوتی اس کا علاج بس یہی ہوتا ہے کہ حاملہ اپنی ٹانگوں کو اٹھائے ہوئے آرام کرے اور پھولی ہوئی وریدوں کو سہارا دینے کے لیے مخصوص پٹیاں لپیٹ لے۔


ماں کی اینٹھن:حمل کے آخری ہفتوں میں پنڈلی کے اندر اکثر اینٹھن ہوجاتی ہے اور شدید درد کا باعث ہوتی ہیں ایسا کام کاج کرتے وقت بھی ہوجاتا ہے اور آرام کرتے ہوئے بھی۔گاہے یہ پنڈلی سے بڑھ کر ران تک جاپہنچتی ہیں،اس کا آسان اور فوری علاج یہ ہے کہ پنڈلی کو گھٹنے کے جوڑ پر زیادہ سے زیادہ پھیلادیں اور پاؤں کو زمین پر رکھ کر اسے ٹانگ کے ذریعے زور سے نیچے کی طرف دبائیں اور پنڈلی کے گوشت پر مالش کریں،
ماں کے پیشاپ کی زیادتی: حمل کے ابتدائی ہفتوں میں پیشاپ زیادہ آنے لگتا ہے اور اسی طرح حمل کے آخری ہفتوں میں بھی،حاملہ کے لیے درست نہیں ہوتا کہ پیشاپ کو کم کرنے کے لیے اپنی پیاس روکتی شروع کردے یا پانی پینا کم کردے،اس سے پیشاپ کی زیادتی پر کوئی اثر نہیں ہوتا،بلکہ اسے موسم کے اعتبار سے زیادہ سے زیادہ پانی پینا چاہیے،ابتدائی ایام میں اس کا سبب بڑھے ہوئے رحم کا دباؤ ہوتا ہے اور اخیری ایام میں بچے کے سر کے دباؤ سے ،اگر یہ حالت تکلیف نہ حد تک پہنچ جائے تو اپنے ڈاکٹر سے مشورہ کریں۔

تاریخ اشاعت: 2017-10-11

Your Thoughts and Comments

Special Child Care article for women, read "Mother And Son" and dozens of other articles for women in Urdu to change the way they live life. Read interesting tips & Suggestions in UrduPoint women section.