بند کریں
خواتین مضامینبچے کی نگہداشتماں اور بچہ ، زچکی کا اہتمام

مزید بچے کی نگہداشت

پچھلے مضامین - مزید مضامین
ماں اور بچہ ، زچکی کا اہتمام
اس قدر خرچ برداشت کرنے کے قابل نہ ہو تو دائی جنانی کو یہ اشیاء اپنے پاس رکھنی چاہیں
ماں اور بچہ
زچہ کی زچگی کا اہتمام:
اس کا پہلا اور اہم ترین اصول یہ ہے کہ دائی جنانی ایسی ہونی چاہیے کہ جب اُسے بلایا جائے فوراًزچہ کے پاس آ جائے ہوسکتا ہے کہ چندگھنٹوں تک اسکی ضرورت نہ ہو لیکن اس پر بھروسہ نہیں کرنا چاہیے اگر وہ جلدآجائے تو زچہ کا مکمل معائنہ کرسکتی ہے اور طبعی یا غیر طبعی حالتوں کی اطلاع پاسکتی ہے اور حاملہ اس قدر خرچ برداشت کرسکے توجراثیم کش دوا مثلاًکاریولک لوشن،ڈوش کرنے والا بھبلا حقنہ کرنے کا سامان قینچی اور ناڑو کو باندھنے کے لیے مضبوط دھاگہ وغیرہ منگوا کر پاس رکھ لے،اگر وہ اس قدر خرچ برداشت کرنے کے قابل نہ ہو تو دائی جنانی کو یہ اشیاء اپنے پاس رکھنی چاہیں،ان کے علاوہ اس کے پاس یہ چیزیں بھی قابل استعمال حالت میں موجود ہونی چاہیں:ربڑ کے صاف ستھرے دستانے رودہ یا ریشمی دھاگے اور درد کو تسکین دینے والی کوئی دوا مثلاً باربی ٹون کی گولیاں وغیرہ یا کوئی اور دوسری دوا جو اس کا معمول ہو۔
زچہ کے بستر کا سلیقہ:چارپائی زیادہ چوڑی نہیں ہونی چاہیے بس اس قدر جس پر زچہ آسانی سے لیٹ سکے پلنگ نہیں ہونا چاہیے موم جامے کے دو ٹکڑے ہوں ان میں سے ایک کو ننگی چارپائی پر بچھا کر اس کے اوپر کمبل یا لٹھے کی چادر موسم کے اعتبار سے ڈال دیں اور دوسرے کو بستر کے دائیں طرف نچلے موم جامے کے اوپر اس طرح بچھائیں کہ اس کا ایک کنارہ چارپائی کے بازو سے ہوتا ہوا نیچے لٹکتا رہے اور اس لٹکتے ہوئے کنارے کے نیچے ایک بالٹی یا تسلہ رکھ دیں،یہ موم جامہ نکاس کا کام دے گا،اگر چارپائی ڈھیلی ہو یا حاملہ کے وزن سے اس کی اونت دب جاتی ہو تو اس کے نیچے کوئی تختہ رکھ دیں تاکہ زچگی کے دوران میں تھیلی کے پھٹ جانے سے پانی اور خون وغیرہ حاملہ کے جسم کے اردگرد جمع نہ ہوجائے اور خواہ مخواہ کی بدمزگی کی صورت نہ ہونے پائے اگر حاملہ اس قدر خرچ برداشت کرسکے تو دوسرے موم جامے کے اوپر جاذب روئی کی ایک موٹی تہہ بچھا دیں اور جب چاہیں اسے بدل دیں۔
ماں کا لباس: زچہ کے کپڑے بالکل ڈھیلے اور کھلے ہوں،دوسرے اور تیسرے درجے میں کرنے یا جبے کے اوپر لے جا کر بغلوں کے قریب ٹانک دیں تاکہ وہ گندا نہ ہونے پائے کولھے،فریج اور رانوں کو تولیوں یا چادروں سے ڈھانپے رکھیں اور یہ کپڑا بھی موسم کے اعتبار سے ہونا چاہیے۔اگر دائی جنائی کے پاس اس قدر فرصت نہ ہو کہ زچہ کے پاس غیر معین وقت تک ٹھہر سکے تو اندام نہانی میں انگلی ڈال کر معلوم کرے:
۱۔رحم کا منہ کس قدر کھلا ہے۔
۲۔دردکتنے وقفے سے آتے ہیں اور کس قدر قوت سے آتے ہیں پانی کی تھیلی گئی ہے یا نہیں اور ان معلومات کی بنا پر فیصلہ کرے کہ زچہ کے پاس کتنے وقت کی غیر حاضری مناسب ہوسکتی ہیں اس بات کا خیال رکھے کہ پلیٹھن میں وقت زیادہ لگتا ہے اور بچوں والی حسب عمر اور حسب ولادت۔ چنانچہ اگر رحم کا منہ نصف سے زیادہ کھلا ہوا ہو اور زچہ پلیٹھن ہوتو دائی کچھ وقت کے لیے غیر حاضر ہوسکتی ہیں لیکن بچوں والی میں ایسا نہیں ہوسکے گا اور اس وقت کا اندازہ تجربے کے سوائے صیح طور پر نہیں لگایا جاسکتا۔لیکن اصول یہی ہونا چاہیے کہ زچہ کی بہتری اور دائی جنائی کی اپنی نیک نامی کے لیے اگر چند گھنٹے غیر ضروری طور پر بھی اسے زچہ کے قریب رہنا پڑے تو اس سے گریز نہ کیا جائے تاکہ ایسا نہ ہو کہ اس کی غیر حاضری میں بچے کی پیدائش ہوجائے اگر زچہ گھبراہٹ میں ہو یا ضعیف دل و دماغ کی مالک ہو تو پھر دائی جنائی کو چاہیے کہ زچہ کے پاس ہی اڈا جما کر نہ بیٹھ جائے بلکہ اس کے قریب اوٹ میں رہے تاکہ یہ وقت ضرورت فوراً حاضر ہوسکے۔درد زہ جب شروع ہی ہوا ہو تو زچہ کو حقنہ کریں تاکہ کل پاخانہ نکل جائے اور اس کی دبر خالی ہوجائے اگر زچہ کو پہلے پاخانہ نہ ہوچکا ہو تو حقنے کے پانی میں قدرے روغن ارنڈ ملالیں۔اس حالت میں اگر زچہ کو شیر گرم پانی سے غسل دیا جائے(موسم کا خیال رکھیں)تو اس سے راحت بھی پہنچے گی اور جسم کے مخصوص حصے بھی خوب اچھی طرح صاف ستھرے ہوجائیں گے۔اگر بچے کی پیدائش طبعی حالت پر ہورہی ہو تو زچہ کو اس کی اطلاع دے کر اچھی طرح باور کرادیں اور یہ بات اس کے لیے بے حد تسکین کا باعث ہوگی اور اسے تسلی دیں کہ اپنے وقت پر بچہ صیح سلامت پید اہوجائے گا یہ بات بڑی غلط ہوتی ہیں کہ وقت پیدائش کے متعلق خواہ مخواہ پیشن گوئیاں کی جائیں کیونکہ اس کا اندازہ لگانا بے حد مشکل ہوتاہے اور جب کہے ہوئے وقت پر پیدائش نہ ہو تو زچہ کے لیے یہ بڑی بے صبری اور تشویش کا باعث ہوتاہے اور ان ہونے توہمات اس کے دل میں گزرنے لگتے ہیں اور یہ بے چینی خود اس کے لیے مصیبت بن جاتی ہے۔اگر بچہ معمول کے مطابق ہورہا ہے تو پھر زچہ کو بستر پر لٹانے کی ضرورت نہیں ہوتی بلکہ چلنے پھرنے میں اس کے لیے فائدہ ہیں البتہ جب تھکاوٹ محسوس کرے یا ضرورت ہوتو قریبی کرسی،چارپائی یا صوفے پر بیٹھ جائے پانی کی تھیلی کا وزن اور بچے کے سر کا وزن دونوں مل کر رحم کو کھولنے میں مدد دیتے ہیں ابتدائی درجے میں زچہ کو بچے کے نیچے کی طرف آنے کا کوئی احساس نہیں ہوتا اس لیے وہ اکثر دل برداشتہ ہو کر گھبرانے لگتی ہیں اور مدد کے لیے پکارتی ہیں اور چاہتی ہے کہ خلاصی کی کوئی صورت جلد پیدا کی جائے۔اگر وہ بستر پر لیٹی ہوئی ہوگی تو یہ حالت اور بھی پریشانی کا باعث ہوگی البتہ چلنے پھرنے میں کم اس درجے میں درد کچھ زیادہ تیز نہیں آئے اگرچہ پلیٹھن میں یہ بہت زیادہ تکلیف کا باعث ہوتی ہیں اور گاہے قے بھی آجاتی ہے بالخصوص جب رحم کے منہ نے کھلنا شروع کیا ہو اس ابتدائی حالت میں زچہ سے یہ کہنا کہ نیچے کی طرف زور لگانے بالکل بے سود ہوتا ہے بلکہ الٹا نقصان ہوتا ہے کیونکہ اس طرح بے سود زور لگاتے رہنے سے زچہ تھک جاتی ہے اور وقت آنے پر وہ اپنا پورا زور نہیں لگاسکتی درد کے دوران میں اگر کمر کے نچلے حصے پر مالش کی جائے یا دبایا جائے تو بعض عورتیں راحت و آرام محسوس کرتی ہیں۔اس درجے میں بار بار پیشاپ کرنے کی بھی حاجت ہوتی ہیں اگر مثانہ پُر ہوجائے اور زچہ پیشاپ نہ کرسکے تو پیشاپ خارج کر دیں کیونکہ پیشاپ سے مثانے کا پُر ہونارحم کو سکڑنے سے روکتاہے زچہ کو ہلکی سی غذا کھانے کو دیں مثلاً چائے،دودھ،ڈبل روٹی،کے توس چاول کھیچڑی وغیرہ اگر وہ تھک گئی ہے تو نیند آنے لگے گی۔اسے آرام کرنے دیں پیشاپ کراچکنے کے بعد مخصوص حصوں کو اچھی طرح دھو کر صاف کریں بالخصوص کانڈی لوشن سے۔

(0) ووٹ وصول ہوئے