بند کریں
خواتین مضامینبچے کی نگہداشتنوزائیدہ بچے کی دیکھ بھال کرنا

مزید بچے کی نگہداشت

پچھلے مضامین - مزید مضامین
نوزائیدہ بچے کی دیکھ بھال کرنا
قدرت کا منشاء یہ ہوتا ہے کہ بچہ زندگی کے پہلے دو یاچار دن دودھ کا انتظار کرے
نوزائیدہ بچے کی دیکھ بھال کرنا:
بچے کی بے چینی اور اس کے چلانے کی وجہ عام طور پر بدہضمی ہوتی ہے یا سردیوں کے موسم میں بہت زیادہ گرم کپڑے پہنا دینے کے باعث اسے سانس لینے میں تکلیف ہوتی ہیں اس لیے اکثر لاڈلے بچے چلاتے رہتے ہیں کیونکہ ماں،لواحقین اور تیمادار اسے آرام کرنے کی فرصت ہی نہیں دیتے جو آتا ہے اس سے کھیلنا چاہتا ہے اسے گود میں اٹھائے پھرنے سے اپنی محبت اور خوشی کا اظہار کرتا ہے۔لیکن بچے کے لیے نیند حرام کردیتا ہے۔اگر بچہ بدہضمی میں مبتلا ہے تو اس کی اکثر وجہ بچے کا زیادہ دودھ پی لینا ہوتا ہے۔اس لیے پہلے یہ دیکھیں کے کتنی بار دودھ پلایا جارہا ہے اور کتنے عرصے کے لیے تو آپ کو معلوم ہوجائے گا کہ بچے کی تکلیف کا باعث بچے کا زیادہ دودھ پی لینا بھی ہے بالخصوص پہلے ایک دو مہینوں میں،قدرت کا منشاء یہ ہوتا ہے کہ بچہ زندگی کے پہلے دو یاچار دن دودھ کا انتظار کرے اور جب دودھ پینا شروع کرے تو اس کو بتدریج بڑھائے اور اس عرصے میں اس کے اعضائے ہضم اسے ہضم کرنے کے قابل ہوجائیں،چنانچہ پہلے دو دن اسے کچھ نہیں دینا چاہیے اور تیسرے دن زیادہ سے زیادہ چار سے چھ اونس دودھ پلائیں،اور چوتھے دن چھ سے آٹھ اونس کے قریب اور پانچویں دن بارہ اونس کے قریب حتیٰ کہ ایک ہفتے میں کے بعد اس کی مقدار پندرہ کے قریب ہوجائے گی دو ہفتے کے بعد اس کی مقدار بیس اونس کے قریب ہوجانی چاہیے۔ان اعداد پر غور کرنے کے بعد معلوم ہوگا کہ بچہ اپنی خوراک کی مقدار جلد بڑھا لیتاہے۔البتہ جب اس کے اعضائے ہضم ابھی کمزور ہوں تو اس مقدار میں بھی وہ دودھ اگلنے لگتا ہے یا اسے بدہضمی کی شکایت ہوجاتی ہے اور اسے دست آنے لگتے ہیں اور پیٹ میں درد کی وجہ سے چلاتا رہتا ہے۔پس ایسی حالت میں دودھ کی مقدار فوراً کم کردیں پیدائش کے وقت بچے کا جو وزن ہوتا ہے پہلے دو دنوں میں اس سے کم ہوجاتا ہے اور اس خیال سے کہ بچہ وہ وزن دوبارہ حاصل کرے اسے دودھ پلانے کی کوشش کی جاتی ہے،یہ طرز عمل اس کے لیے بدہضمی کا باعث بن جاتا ہے۔جب معلوم ہوکہ بچے کو دودھ زیادہ پلایا جارہا ہے تو بہتر یہ ہوگا کہ ہر موقع پر دودھ کی مقدار کم کردی جائے لیکن دودھ کی باری میں فرق نہ آنے پائے۔اگر دودھ کم آرہا ہو تو پھر بھی ہر موقع پر دودھ کی مقدار نہ بڑھائیں بلکہ ایک باری زیادہ کردیں یعنی ہر چار گھنٹے کے بعد پلانے کی بجائے ہر تین گھنٹے کے بعد پلائیں۔

(0) ووٹ وصول ہوئے