Nomoloodoon Ki Ghaza

نومولودوں کی غذا

جمعرات فروری

Nomoloodoon Ki Ghaza
پروفیسر ڈاکٹر سید اسلم ایف آر سی پی(ایڈنبرا)ایف اے سی سی (امریکا)
ایک صحت مند عورت کے دودھ کی مقدار چوبیس گھنٹوں میں تیس اونس سے زیادہ نہیں ہوتی ۔یہ مقدار چھے ماہ کی عمر تک کے بچوں کے لئے کافی ہوتی ہے ،لیکن جو بچے اوپر کا دودھ پیتے ہیں ان میں بھی دودھ کی جو زیادہ سے زیادہ مقدار ہضم ہو سکتی ہے،اس کا اندازہ بھی تیس اونس لگایا گیا ہے ۔

چھے ماہ سے زیادہ عمر کے بچوں کی جسمانی ضروریات اس مقدار میں پوری نہیں ہوتیں،اس لئے اس عمر میں بچے کو اضافی غذا دینی ضروری ہوتی ہے۔جن بچوں کو عمر کے اس مرحلے پر پہنچنے کے بعد اضافی غذا نہیں دی جاتی،ان کی نشوونما متاثر ہوتی ہے،وزن کم ہو جاتا ہے اور وہ کمزور ہو جاتے ہیں۔
اس عمر میں جو غذا دی جاسکتی ہے،اس کے بارے میں چند مشورے اس غرض سے پیش کیے جارہے ہیں،تاکہ ماؤں کو یہ معلوم ہو سکے کہ بچے کے بڑھتے ہوئے جسم کی ضروریات کی مناسب تکمیل کس طرح ممکن ہے۔

(جاری ہے)


جس طرح اس عمر میں اضافی غذا نہ دینے سے بچے کی نشوونما متاثر ہوتی ہے،اسی طرح نا مناسب غذا بھی نقصان دہ ہوتی ہے۔بڑھتے ہوئے جسم کی زیادہ لحمیات(پروٹینز)کی ضرورت زیادہ تر دودھ کے ذریعے پوری ہو جاتی ہے،لیکن نو ماہ کے بعد تھوڑا سا اُبلا ہوا گوشت اور کبھی کبھی مچھلی دی جا سکتی ہے۔نو دس مہینے تک کی عمر کے بچے کی غذا کا بڑا حصہ دودھ ہی ہونا چاہیے ،لیکن اضافی غذا کے لحاظ سے اس میں نشاستہ (کاربوہائیڈریٹ) شامل کرنا ضروری ہوتاہے،تاکہ ہاضمے پر ناخوش گوار بار نہ پڑے۔

اس کا مناسب طریقہ یہ ہے کہ پہلے دودھ پلایا جائے اور اس کے بعد اضافی غذا دی جائے۔
چھے ماہ کی عمر کے بچے کو نشاستے دار غذا،مثلاً ہلکے بسکٹ جن میں شکر اور چکنائی بہت زیادہ نہ ہو ،ساگودانہ ،چاول کی کھیر یا نرم پکے ہوئے نمکین چاول وغیرہ دیے جاسکتے ہیں،لیکن یہ غذائیں تھوڑی مقدار میں دینی چاہئیں،کیونکہ ان غذاؤں کی زیادتی سے پیٹ پھولنے لگتاہے۔

جس بچے کے دانت نکلنے لگے ہوں،اسے اچھی طرح سینکی ہوئی ڈبل روٹی کا ٹکڑا دیا جا سکتاہے۔اسے چبانے سے بچے کے مسوڑوں کی ورزش بھی ہو جاتی ہے۔اس بات کا خیال رکھنا چاہیے کہ ایسی چیزیں صرف مقررہ وقت پر ہی دی جائیں۔
یہ عادت اچھی نہیں کہ بچہ ذرا رویا اور اُسے کھانے کو کچھ دے دیا۔اس طرح بے وقت کھانے سے بچہ کا ہاضمہ کمزور ہو جاتاہے اور اس کی بھوک جاتی رہتی ہے۔

کھانے میں وقت کی پابندی کی عادت اگر شروع سے ڈال دی جائے تو اس سے آگے چل کر بچے کو ہمیشہ وقت پر بھوک لگتی ہے اور جب وہ بھوک کے وقت کھاتا ہے تو غذا کی ضروری مقدار جزو بدن ہو جاتی ہے اور اس کے بعد اگلے وقت تک وہ کھیلتا اور آرام کرتا رہتاہے،لیکن جن بچوں کو وقت بے وقت کھانے کو ملتا ہے ،وہ ہضم کی خرابی کے شکار ہو جاتے ہیں۔انھیں وقت پر بھوک نہیں لگتی، اس لئے ہر وقت روتے اور ضد کرتے رہتے ہیں۔

اگر ماں خود کو اوقات کا پابند بنالے تو بچہ بھی اس کو اپنا لیتا ہے۔چٹورپن کی عادت جو آگے چل کر بچے کو بیماریوں میں مبتلا کرتی ہے،زیادہ تر نا سمجھ ماؤں کے بے جالا ڈپیار کا نتیجہ ہو تی ہے۔
بچے کو لحمیات ،شکر اور چکنائی کے ساتھ معدنی اجزاء اور کیلسیئم ،فاسفورس اور فولاد وغیرہ کی ضرورت بھی ہوتی ہے ۔ان میں کیلسیئم اور فاسفورس تو دودھ کے ذریعے حاصل ہو جاتے ہیں،لیکن دودھ میں فولاد کی مقدار بہت کم ہوتی ہے۔

اس کمی کو پورا کرنے کے لئے چھے ماہ کی عمر کے بعد بچوں کو تازہ اُبلی ہوئی سبزیاں اور تھوڑی مقدار میں پھل کھلانے چاہییں ۔مذکورہ بالا غذائی اجزاء کے ساتھ بچے کے جسم کو حیاتین بھی درکار ہوتی ہیں ،جن کی کمی سے بچے کی جسمانی اور ذہنی نشوونما متاثر ہوتی ہے اور بعض بیماریاں بھی پیدا ہو جاتی ہیں۔
بچوں کو حیاتین کی ضرورت دودھ،مچھلی کے تیل،تازہ پھلوں اور سبزیوں اور خاص کر سردی کے موسم میں تھوڑی دیر دھوپ میں بیٹھانے سے پوری ہو جاتی ہے۔

ایک اور اہم چیز پانی ہے ،دودھ کے مقررہ وقت کے درمیان بچے کو تھوڑی تھوڑی مقدار میں پانی پلاتے رہنا چاہیے،اس لئے پانی غذا کے ہضم میں مدد دیتاہے ،جسمانی حرارت معتدل رکھتاہے اور فضلات کو بدن سے خارج کرنے میں مدد دیتاہے ۔بچوں کو پانی اُبال کر اور ٹھنڈا کرکے دینا چاہیے ۔اضافی غذا شروع کرانے پر اس بات کا خیال رکھنا چاہیے کہ کسی خاص غذا یا اس کی مقدار کی وجہ سے بچے کو کوئی تکلیف تو نہیں ہو رہی ہے۔
تاریخ اشاعت: 2020-02-06

Your Thoughts and Comments

Special Child Care & Baby Care Articles article for women, read "Nomoloodoon Ki Ghaza" and dozens of other articles for women in Urdu to change the way they live life. Read interesting tips & Suggestions in UrduPoint women section.