بند کریں
خواتین مضامینبچے کی نگہداشتنومولود کایرقان

مزید بچے کی نگہداشت

پچھلے مضامین - مزید مضامین
نومولود کایرقان
عموماََ پیدائش کے چند دن بعد بچے کی جلد میں زردی نمایاں ہونے لگتی ہے، جویرقان کی علامات میں سے ایک ہے۔ معالجین اسے ایک عام سی بات سمجھتے ہیں اور نومولود کوکوئی دوا دینے سے گریز کرتے ہیں۔
شبینہ گل:
عموماََ پیدائش کے چند دن بعد بچے کی جلد میں زردی نمایاں ہونے لگتی ہے، جویرقان کی علامات میں سے ایک ہے۔ معالجین اسے ایک عام سی بات سمجھتے ہیں اور نومولود کوکوئی دوا دینے سے گریز کرتے ہیں۔ اس ضمن میں وہ بچے کو سورج کی روشنی میں لٹانے کامشورہ دیتے ہیں۔ اس کے علاوہ گھر کی تجربہ کار خواتین اپنے ٹوٹکے بھی آزماتی ہیں۔
پیدایش سے قبل بچے کے خون میں موجود ہیموگلوبن (HAEMOGLOBIN) یعنی خون کے سرخ ذرات توڑ پھوڑ کے عمل سے گزرتے ہیں۔ جگر میں موجود ایک رطوبت، جسے” بلی روبن“ (BILIRUBIN) کہاجاتا ہے، چکنائی کوہضم اور جذب کرنے کے لیے ضروری ہوتی ہے۔ پیدایش کے چوبیس گھنٹے بعدا یک صحت مند بچے کے خون میں ” بلی روبن“ کی سطح کافی حد تک بڑھ جاتی ہے۔ نومولود کے جگر میں بالغوں کے جگر کی مانند اس قدر زیادہ ” بلی روبن“ کوبرداشت کرنے کی صلاحیت نہیں ہوتی۔ بچے کے ایک لیٹر خون میں ” بلی روبن“ کی سطح 120 ملی گرام تک پہنچ جائے تو اس حالت کو یرقان سمجھا جاتا ہے۔ ایشیائی ممالک میں یرقان کی شرح نومولود میں زیادہ ہے۔
امریکی اکیڈمی برائے اطفال نے بچوں کے یرقان پر کافی تحقیق کی ہے اور اس ضمن میں ا نھوں نے دھوپ کے ذریعے سے علاج کوکامیاب قراردیاہے۔ دراصل ” بلی روبن“ سورج کی شعاعوں کو جذب کرلیتی ہے اور ایک ایسے مرکب میں تبدیل ہوجاتی ہے، جو مگر سے گزرے بغیرازخودجسم میں تحلیل ہوجاتا ہے۔
ماضی میں ماں کے دودھ کو یرقان کاسبب سمجھا جاتا تھا اور بچے کو ماں کادودھ دینا بند کردیاجاتاتھا۔ بعض اوقات یہ عمل وقتی طور پر اور بعض اوقات مستقلا کیاجاتا تھا۔
اس کے علاوہ بہت سے ماہرین صحت اس بات پر یقین رکھتے تھے کہ ماں کے دودھ کے ساتھ ساتھ بچے کو پانی اور کچھ مزید مشروبات دینے ضروری ہوتے ہیں، بصورت دیگر بچہ پانی کی کمی کاشکار ہوجاتا ہے۔ جدید تحقیق نے یہ ثابت کردیاہے کہ یہ تمام باتیں درست نہیں ہیں۔ پیدایش کے فوراََ بعد ماں بچے کو وقفے وقفے سے دودھ پلائے تو بچے کے جسم میں پانی کی ضروری سطح برقرار رہتی ہے، جس کے نتیجے میں اس کے جسم سے فضلہ صحیح طور سے خارج ہوتارہتا ہے۔ بچے کی آنتوں میں ” میکونیئم“ Meconium نامی سیاسی مائل مرکب ہوتا ہے، جسے بعداز پیدایش فضلے میں خارج ہوجانا چاہیے۔ اس مرکب میں تقریباََ 450ملی گرام ” بلی روبن“ موجود ہوتی ہے، جو کہ کافی زیادہ مقدار ہے اور اس کا بچے کے جسم سے بروقت خارج ہونا بہت ضروری ہوتا ہے، بصورت دیگر وہ آنتوں کے ذریعے سے جسم میں دوبارہ جذب ہو کر خون کا حصہ بن سکتی ہے، جو یرقان کاسبب بن جاتا ہے، اس لیے بچے کا فضلہ زیادہ سے زیادہ خارج ہونا، بلی روبن“ کی سطح کو کم رکھنے کے لیے بے حدضروری ہے۔ اس سلسلے میں امریکی اکیڈمی برائے اطفال کے ماہرین یہ مشورہ دیتے ہیں کہ ایک وقت میں زیادہ دیر تک دودھ پلاتے رہنے کے بجائے ماں کو چاہیے کہ وہ وقفے وقفے سے تھوڑا تھوڑا کرکے دودھ پلائے، تاکہ بچہ زیادہ سے زیادہ فضلہ خارج کرسکے۔ اس طرح چوبیس گھنٹے میں کم ازکم آٹھ سے دس مرتبہ دودھ پلایاجائے۔ پانی یاکسی اور مشروب سے یہ عمل ممکن نہیں ہے۔
نومولود کے یرقان کی دو اقسام ہوتی ہیں۔ جو قسم عام ہے، وہ بچے کی پیدایش کے دوسرے سے پانچویں دن کے دوران شروع ہوتی ہے اور دس دن تک قائم رہتی ہے۔ اس قسم کا یرقان کسی بھی ماں کے صرف پہلے بچے کو ہوتا ہے۔ ایسی حالت میں بچے کے فضلے کے اخراج کاعمل درست نہیں ہوتا۔ عام طور پر اس کے اسباب میں ماں کی چھاتی میں دودھ کی کمی، ماں کاکم دودھ پلانا یابچے کے فضلے کے اخراج میں کمی شامل ہیں۔ اگر ماں کی غذا اچھی نہ ہونے کی وجہ سے چھاتیوں سے دودھ کم اترتا ہے تو اس مسئلے کے حل کے لیے ماں کو بہتر غذادینے کے ساتھ اسے خاص قسم کے ضمیمے بھی کھلانے چاہییں۔ اگر مندرجہ بالا اسباب میں سے کوئی ایک سبب بھی معلوم ہوجائے تو اس کو دور کرنے کی کوشش یرقان کو ختم کرنے میں معاون ثابت ہوسکتی ہے، بصورت دیگر بچے کادھوپ کے ذریعے سے علاج کرناچاہیے۔
یرقان کی دوسری قسم بچے کی پیدایش کے پانچویں سے دسویں دن کے درمیان شروع ہوت ہے اور ماں کا کوئی سابھی بچہ اس میں مبتلا ہوسکتا ہے۔ یہ قسم پہلے بچے سے مشروط نہیں ہے۔ بچے کے فضلے کااخراج بھی نارمل ہوتا ہے اور اس کاتعلق ماں کے دودھ کی کمی سے بھی نہیں ہوتا، اس لیے اس قسم کے یرقان کاواحدعلاج سورج کی شعاعیں ہیں۔
احتیاطی تدابیر:
بچہ اگر چوبیس گھنٹے تک خارج نہ کرے تو اس کاحل ڈھونڈنا چاہیے۔ دودھ پلانے کا طریقہ کار وقفے وقفے سے اور تھوڑا تھوڑا ہو۔ پانی یاکوئی اور محلول دینے سے گریزکریں۔ بچے کے وزن کاخیال رکھیں اور ایک بات ہمیشہ یادرکھیں کہ نومولود کے یرقان سے یہ بات ہرگزثابت نہیں ہوتی کہ ماں کا دودھ خراب ہے یا اس میں کوئی بیماری ہے۔ اس لیے ماں کا دودھ نہ چھڑوائیں، البتہ اگر ماں کود یرقان کی مریضہ ہویاپہلے رہی ہو، ماں کا کوئی بچہ پہلے بھی یرقان کاشکار رہاہو، موجودہ بچے کے یرقان کو بھی دس دن سے زائد ہوچکے ہیں اور بلی روبن“ کی خون میں مقدار بھی حس سے تجاوز کرگئی ہوتو ایسی صورت میں معالج کے مشورے کے بعد ماں کادودھ چھڑوانا لازمی ہوجاتا ہے۔
نومولود کایرقان اگر مختصر میعاد تک رہے اورجو احتیاطی تدابیر اور علاج بتائے گئے ہیں، ان سے یرقان ختم ہوجائے تو یقینی طور پر یہ صورت حال خطر ناک نہیں ہوتی، البتہ میعاد کی زیادتی اور خون کے معائنے میں ” بلی روبن“ کی خطرناک سطح اس بات کو ظاہر کردے کہ یرقان خطرناک حد میں داخل ہوگیا ہے تو ایسی صورت میں گھریلو علاج کے بجائے فوراََ معالج سے رابطہ کرنا چاہیے۔

(0) ووٹ وصول ہوئے