بند کریں
خواتین مضامینبچے کی نگہداشتنوزائیدہ کے غسل کا طریقہ

مزید بچے کی نگہداشت

پچھلے مضامین - مزید مضامین
نوزائیدہ کے غسل کا طریقہ
بچے کو نہلاتے وقت آپ اچھی طرح سنبھلنا نہ سیکھ جائیں اگر ٹب لوہے کا بنا ہوا ہو تو اس کے اندر تولیہ بچھا لینا چاہیے بچے کو اس طرح تھامے رکھے کہ اس کے سر کو آپ کی کلائیاں سہارا دے رہی ہوں
نوزائیدہ کے غسل کا طریقہ:
پہلے پہل ٹب میں زیاہ پانی نہ ڈالیے تاوفتیکہ بچے کو نہلاتے وقت آپ اچھی طرح سنبھلنا نہ سیکھ جائیں اگر ٹب لوہے کا بنا ہوا ہو تو اس کے اندر تولیہ بچھا لینا چاہیے بچے کو اس طرح تھامے رکھے کہ اس کے سر کو آپ کی کلائیاں سہارا دے رہی ہوں اور آپ کی انگلیاں اُس کی بغلوں کے نیچے ہوں سب سے پہلے بچے کا منہ دھلائیے اور اس کام کے لیے صاف ستھری صافی پانی میں بھگو کر استعمال کیجیے سر میں صابن ہفتے میں دو ایک بار لگانا کافی ہے منہ اور سر صاف کرنے کے بعد باقی جسم پر آرام سے صابن ملیے،نہلاتے وقت بچے کو زیادہ ہلانا جلانا یا الٹ پلٹ کرنا درست نہیں،اس سے بچہ گھبراہٹ اور غصے کا شکار ہو کر نہانے سے متفر بھی ہوسکتا ہے لہٰذا بچے کو نہایت آرام پیار او ر نرمی سے غسل دینا چاہیے اگر بچہ پانی کے تسلے میں بیٹھنے یا لیٹنے سے ڈر یا لیٹنے سے ڈر یا گھبراہٹ محسوس کرتا ہو تو منہ اور سر صاف کرنے اور صابن لگانے کا کام آپ بچے کو اپنی گود میں لٹا کر بھی کرسکتی ہیں گود کے علاوہ اس مقصد کے لیے چھوٹی میز یا چوکی بھی استعمال کی جاسکتی ہیں لیکن آپ کو یہ کام ہر ممکن عجلت سے ختم کرنے چاہیں تاکہ بچے کو سردی نہ لگ جائے جسم پر صابن لگانے کے بعد اسے تسلے یا ٹب میں بٹھا کر خوب مل مل کر صاف کیجیے۔ بچے کا بدن صاف کرنے کے لیے ملائم روئیں دار تولیہ استعمال کیجییہ اور سردیوں کے موسم میں اسے آگ پر سینک کر گرم کرلینا چاہیے جسم خشک کرتے وقت تولیہ رگڑنا نہیں چاہیے بلکہ آہستہ آہستہ دبا کر اور تھپتھپا کر صاف کرنا چاہیے۔اگر بچے کی نال ابھی خشک ہوکر گری نہ ہو تو اسے نہایت احتیاط سے خشک کرکے اس پر مرہم لگانے کے بعد پاؤڈر چھڑک دیجیے سارے جسم پر بلاوجہ پاؤڈر چھڑکنا فضول ہے پاؤڈر بچے کی جانگگ بغلوں اور ٹھوڑی کے نیچے ہلکا سا لگانا چاہیے اگر زیادہ پاؤڈر تھاپا جائے تو ہوا اور سانس کے راستے وہ بچے کے جسم میں بھی جاسکتا ہے اور اس سے نہ صرف سانس کی نالیوں بلکہ پیٹ میں کوئی خرابی پیدا ہوسکتی ہیں۔دو برس کی عمر میں بعض بچے نہانے سے ڈرنے لگتے ہیں اس ڈر کی وجہ ٹب میں پھسل کر گرنا بھی ہوسکتی ہیں اور آنکھوں میں صابن لگنا بھی،جھاگ کو آنکھوں میں جانے سے روکنے کے لیے آپ سر کے بالوں کو اتنا گیلا ہونے ہی نہ دیجیے کہ ان سے پانی اور جھاگ ٹپکنے لگے۔اگر بچہ ٹب میں لیٹنے سے ڈرتا ہے تو اسے ایک ہاتھ سے سہارا دیے رکھیے اس پر بھی اگر وہ ٹھہرنے پر مائل نظر نہ آئے تو اسے مجبور نہ کیجیے اور اس کا ڈر دور کرنے کے لیے چند روز تک اس کے جسم کو صافی اور استفنج سے صاف کرتی رہیے چند روز بعد غسل کی ابتدا ٹب کی بجائے تسلے سے کیجیے اور جیسے جیسے ہو مانوس ہوتا جائے آہستہ آہستہ اسے دوبارہ ٹب کی طرف لے آئیے درجہ بدرجہ برتن بدلنے کے ساتھ پانی کی مقدار بھی آہستہ آہستہ بڑھائیے پہلے ایک انچ گہرے پانی سے شروع کرکے آہستہ آہستہ پانی کی گہرائی ضرورت کی جاسکتی ہیں۔غسل کے بعد جسم سکھانے اور پاؤڈر لگاتے وقت اگر آپ کو بچے کے جسم پر کہیں کوئی گرمی دانہ یا سوزش کی سرخی نظر آئے تو اس پر جست کیسٹر آئل کے آمیزے کا مرہم لگادیجیے اس سے فارغ ہوکر بچے کو کپڑے پہنائیے اور شال میں لپیٹ دیجیے اب آپ بچے کو پیٹ بھر کر دودھ پینے کے بعد خوب گہری نیند سونے کے لیے تیار پائیں گی۔
نوزائیدہ کے پوتڑوں کی صفائی: ہمارے گھروں میں عام طور پرپوتڑوں اور رومالیوں کی صفائی پر بہت کم توجہ دی جاتی ہے۔ زیادہ سے زیادہ انہیں ایک مرتبہ سابن لگانے کے بعد پانی میں کھنگال کر سوکھنے کے لیے ڈال دیا جاتا ہے حالانکہ شیر خوار بچے کی ان چیزوں کی اہمیت بھی دودھ کی شیشی اور چسنی وغیرہ کو بار بار پاک و صاف کرنے سے کس طرح کم نہیں۔ دن بھر میں جمع ہوجانے والے پوتڑوں اور رومالیوں کو خوب اچھی طرح دھونے کے بعد انہیں ابلتے ہوئے پانی میں ڈال کر پاک و صاف کرنا اشد ضروری ہے اس سے ایک تو وہ دیکھنے میں بھلے معلوم ہوتے ہیں اور دوسرے ان سے چھوت چھات کے ذریعے بچے کی صحت کو کوئی خطرہ لاحق نہیں ہوسکتا۔

(0) ووٹ وصول ہوئے