بند کریں
خواتین مضامینبچے کی نگہداشتپھٹکیوں کی نوعیت کو بدلنا

مزید بچے کی نگہداشت

پچھلے مضامین - مزید مضامین
پھٹکیوں کی نوعیت کو بدلنا
ایک اونس دودھ میں ایک گرین سوڈیم سٹریٹ ڈال دیں،یہ شے بازار سے بہ آسانی مل جاتی ہیں اور کچھ مہنگی بھی نہیں ہوتی اور نہ ہی زہریلی شے ہے
پھٹکیوں کی نوعیت کو بدلنا:
اس کے لیے دودھ میں سوڈیم سٹریٹ ملائے یا دودھ ہلکا کرنے کے لیے پانی کی بجائے دوسرے سیال استعمال کریں مثلاً جو کا پانی یا چاولوں کی پیچھ یا جئی کا پانی وغیرہ،ایک اونس دودھ میں ایک گرین سوڈیم سٹریٹ ڈال دیں،یہ شے بازار سے بہ آسانی مل جاتی ہیں اور کچھ مہنگی بھی نہیں ہوتی اور نہ ہی زہریلی شے ہے،اس سے پھٹکیاں نرم ہوجاتی ہیں یا جوآش چائے کی چمچی کے برابر لیں اور ان کو اچھی طرح کوٹ چھان لیں اس میں تازہ پانی ملا کر لسی بنائیں اور اس میں دس اونس کے قریب اُبلتا ہوا پانی ڈالیں،اب اس امیرہ کو پانچ منٹ تک اُبالتے رہیں اور ساتھ ہی ساتھ پلاتے بھی جائیں۔چونکہ جوآش نشاستہ ہوتاہے اس لیے اسے زیادہ عرصے تک بچوں کو نہیں دیا جاسکتا اگرچہ یہ حقیقت ہے کہ یہ دودھ کو ہضم کرنے میں بڑی مدد دیتا ہے اور یہی حال چاولوں کے پانی کا ہے،یہ بالخصوص ان بچوں میں بڑا مفید ثابت ہوتاہے،جن کو اکثر قبض رہتا ہو،اور معلوم ہوتا ہے کہ نشاستے کے دانے انتڑیوں میں تحریک پیدا کرنے کا باعث بنتے ہیں،لیکن ان کو بڑی احتیاط سے استعمال کرنا چاہیے اس لیے کہ بعض بچوں کو ان سے دست آنے لگتے ہیں اور فائدے کی بجائے الٹا نقصان دہ ثابت ہوتے ہیں۔بسا اوقات دیکھا گیا ہے کہ تندرست بچوں کے لیے گائے کے دودھ کو ہلکا کرنے کی ضرورت نہیں ہوتی باوجود یکہ اس میں اجزا کا تناسب اور مقدار وہ نہیں ہوتی جو ماں کے دودھ میں ہوتی ہے اور اگر ضرورت پڑے تو ایک اونس دودھ میں سوڈیم سٹریٹ کا ایک گرین ڈال دیناپھٹکیوں کو مناسب نوعیت کا بنا دینے کے لیے کافی ہوتا ہے اور اس طرح یہ دودھ اور آسانی سے ہضم ہوجائے گا۔جس دودھ کو ہلکا کرکے ماں کے دودھ کے مطابق بنالیا گیا ہو اسے انسایا ہوا دودھ کہتے ہیں،انسایا ہوا دودھ جو ایک ماہ تک کے نوزائیدہ بچے کے لیے مناسب ہوگا اسے اس طرح بنایا جاسکتا ہے:گائے کا اُبلا ہوا دودھ نو اونس چونے کا پانی ایک اونس ابلا ہوا پانی دس اونس لیکٹوزیا دودھ کی کھانڈ چمچے گائے کے اُبلے ہوئے دودھ سے مراد وہ دودھ ہوتا ہے جس کی تین گنا مقدار لے کر اسے پانچ گھنٹے تک پرا رہنے دیں اور پھر اوپر کے نو اونس لے لیں اس میں مکھن کی مقدار تقریباً تین گنا زیادہ ہوجائے گی۔
عام غریب اور ان پڑھ لوگوں کے لیے جن کے وسائل بھی محدود ہوتے ہیں اس قسم کا دودھ بنانا بے حد مشکل ہوتا ہے،ان کو بس یہ کرنا چاہیے کہ دودھ میں اس کے برابر اُبلتا ہوا پانی ملا لیں اور دو چھٹانک دودھ میں چائے کی ایک چمچی کے برابر کھانڈ ملادیں، اس دودھ کو ایک بار پھر ابالیں اور پھر اس دودھ کو ٹھنڈا کرکے جلدی سے بچے کو پلائیں اور جلدی ٹھنڈا کرنے کا طریقہ یہ ہے کہ گرم دودھ کے گلاس کو ٹھنڈے یا تازے پانی کی دیگچی میں رکھ دیں،دودھ جلد ٹھنڈا ہوجائے گاجو دودھ بچ رہے اسے اچھی طرح ڈھانپ کر رکھیں تاکہ وہ دودھ دوبارہ بھی بچے کو دیا جاسکے اگر ہوسکے تو اس میں مچھلی کے تیل کے ایک یا دو قطرے بھی ملادیں۔گرمیوں کے زمانے میں بچوں کو تھوڑا سا پانی پلانا بھی ضروری ہوتا ہے کیونکہ دودھ کے ساتھ ان کی پیاس نہیں بجھتی اس کے لیے اُبلا ہوا پانی اگر استعمال میں لایا جاسکے تو بہتر ہوگا ورنہ تازہ نلکے کا پانی کنویں کا پانی اُبالے بغیر نہ دیں۔
گاہے ایسا بھی ہوتاہے کہ گائے کا بنایا ہوا دودھ بھی بچہ ہضم نہیں کرسکتا۔اسے اب دودھ کو پھٹا کر اس کا پانی پلائیں اور اس میں تھوڑی سی بالائی اور کھانڈ بھی ملادیں،اگر جلد ضرورت ہو تو دہی کا پانی لے لیں اور اس میں بالائی اورملاکر دیں،دودھ کو پھٹانے کا بہترین طریقہ یہ ہے کہ بیس اونس یعنی تقریباً دس چھٹانک دودھ میں ایک ٹکیہ رینٹ(Rennet) کی ملادیں اور دودھ کو معمولی حد تک گرم کریں،جب وہ جم جائے تو اسے خوب زور سے پھینٹیں اور پھر کچھ دیر پڑا رہنے دیں۔اس کا صاف پانی اب نتھار لیں،اس پانی کو اُبال لیں اور پھر بچے کو پلائیں،ابالنا ضروری ہوتا ہے تاکہ رینٹ کا مزید فعل ختم کردیا جائے یا دہی کا پانی لیں اس میں حسب مقدار بالائی اورکھانڈ ملا کر بچے کو پلائیں۔لیکن اسے بھی پہلے اُبال ضرور لیں اور یہ اس بچے ک لیے بڑا مفید ثابت ہوگا جو بدہضمی میں مبتلا ہوگیا ہو۔
پسپانا ہوا دودھ: یہ دودھ ان بچوں کو دیا جاتا ہے جن کے معدے کمزور ہوں یا ان کو بدہضمی کی شکایت رہتی ہو اور مناسب ہوگا کہ ان کو جلد ہضم ہوجانے والا دودھ دیا جائے۔یہ دودھ تھوڑے عرصے ہی کے لیے دینا چاہیے ورنہ معدے کو قدرے ثقیل چیزوں کو ہضم کرنے کی عادت نہ رہے گی،یعنی معدے کے اندر ہضم کرنے والامادہ اس قدر نہ بن سکے گا،جس سے غذا پوری ہضم ہوسکے۔اس کے لیے پپیانے والا سفوف بازار سے مل جاتا ہے اور اس دودھ کو بنانے کا طریقہ یہ ہے کہ دس چھٹانک دودھ میں دو چھٹانک پانی ملا کر گرم کریں،جب وہ خوب گرم ہوجائے تو اس میں وہ سفوف ملادیں اور اتار کر رکھ لیں،دس پندرہ منٹوں کے بعد اسے چھکیں اگر اس میں خفیف سی کڑواہٹ آگئی ہو تو اسے ابال لیں تاکہ سفوف کا عمل ختم ہوجائے اور پھر اسے جلدی ٹھنڈا کرلیں جیسا کہ اس کا طریقہ پہلے بیان کیا جاچکا ہے،اگر زیادہ دیر تک پڑا رہنے دیں گے تو کڑواہٹ بڑھ جائے گی اور بچہ دودھ پینے سے انکار کردے گا،اس دودھ کو بھی اسی مقدار میں دیں جو بچے کے لیے عام کی مقدار مقرر کی جاچکی ہے۔

(0) ووٹ وصول ہوئے