بند کریں
خواتین مضامینفلاحِ عامہ و خاصملکہ خیز ران

مزید فلاحِ عامہ و خاص

-
ملکہ خیز ران
ملکہ خیزران تیسرے عباسی خلیفہ مہدی کی چہیتی بیوی تھی۔ وہ بڑی دانشمند ،نیک طینت اور مخیر خاتون تھی۔ اپنے اوصاف حمیدہ کی بدولت اپنے شوہر کے مزاج پر پوری طرح حاوی تھی۔
ملکہ خیزران تیسرے عباسی خلیفہ مہدی کی چہیتی بیوی تھی۔ وہ بڑی دانشمند ،نیک طینت اور مخیر خاتون تھی۔ اپنے اوصاف حمیدہ کی بدولت اپنے شوہر کے مزاج پر پوری طرح حاوی تھی۔ اس کی سفارش پر خلیفہ مہدی نے بنی امیہ کے بہت سے معتوب امیروں کی ضبط شدہ جاگیریں واپس دے دیں۔ غیریبوں، محتاجوں، ضرورت مندوں کی دل کھول کر مدد کرتی تھی۔ اسی لیے وہ عوام الناس میں بے حد ہر دلعزیز تھی اور اس کا نام احترام سے لیا جاتا تھا۔
ملکہ خیز ران کی زندگی کا ایک دلچسپ واقعہ جسے کئی موٴرخین نے بیان کیا ہے یہ ہے:
ایک دن ملکہ خیزران ایک محل میں بیٹھی تھی کہ ایک لونڈی نے آکر عرض کیا۔”ملکہ عالم! محل کی ڈیوڑھی کے دروازے پر ایک نہایت شکستہ حال غریب عورت کھڑی ہے اور آپ کی خدمت میں حاضر ہو کر کچھ عرض کرنا چاہتی ہے۔“
ملکہ نے کہا۔ اس عورت کا حسب نسب دریافت کرو اور یہ بھی معلوم کرو کہ اسے کس چیز کی ضرورت ہے؟“
لونڈی نے باہر آکر اس عورت سے بہتیراپوچھا لیکن اس نے اپنے نسب وخاندان کی پتہ دیا اور نہ یہ بتایا کہ وہ ملکہ سے کیوں ملنا چاہتی ہے۔ اس کا بس ایک ہی جواب تھا کہ وہ جو کچھ کہنا چاہتی ہے خود ملکہ سے زبانی کہے گئی۔
لونڈی نے اندر آکر ملکہ کو اس عورت کا جواب سنایا تو وہ بہت حیران ہوئی۔ اس وقت حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ کی پڑپوتی زینب سلیمان بھی اس کے پاس بیٹھی تھیں۔ وہ بنو عباس کی خواتین میں بہت دانا تسلیم کی جاتی تھیں۔ ملکہ نے ان سے مشورہ کیا کہ اس عورت کو اندر آنے دوں یا ملنے سے انکار کردوں۔
انہوں نے کہا کہ ضرور بلواوٴ، بھلا دیکھیں تو وہ کیا چاہتی ہے؟
چنانچہ ملکہ نے لونڈی کو حکم دیا کہ اس عورت کو اندر لے آوٴ۔
تھوڑی ہی دیر میں ملکہ کے سامنے پھٹے پرانے کپڑوں میں ملبوس ایک انتہائی شکستہ حال عورت کھڑی تھی۔اس کے دلکش خدوخال سے معلوم ہوتا تھا کہ کوئی شریف زادی ہے لیکن میل کچیل اور بوسیدہ کپڑوں نے اس کی حالت گداگروں سے بھی بدتر بنا رکھی تھی۔ وہ عورت پہلے تو ملکہ کا کروفر دیکھ کر ٹھٹکی مگر پھر فوراََ ہی جرأت کر کے ملکہ کو سلام کیا اور کہنے لگی۔”اے ملکہ! میں مروان بن محمد کی بیٹی مزنا ہوں جو خاندانِ بنوامیہ کا آخری تاجدار تھا۔“
جو نہی اس عورت کے منہ سے یہ الفاظ نکلے ملکہ خیزران کا چہر غضب سے سرخ ہو گیا اور اس نے کڑک کر کہا۔” کیا تو نہیں جانتی کہ تیرے اہل خاندان نے عباسیوں پر کیسے خوفناک مظالم ڈھائے ؟ اسے سنگدل! کیا تو وہ دن بھول گئی جب بنو عباس کی بوڑھی عورتیں تیرے پاس یہ التجا لے کر گئی تھیں کہ تو اپنے باپ سے سفارش کر کے میرے شوہر (مہدی) کے چچا امام محمد بن ابراہیم عباسی کی لاش دفن کرنے کی اجازت لے دے۔ کم بخت عورت! خدا تجھے غارت کرے، تو نے ان معزز اور مظلوم خواتین پر ترس کھانے کے بجائے انہیں ذلیل کر کے محل سے نکلوا دیا۔کیا تیری یہ حرکت انسانیت کی توہین نہیں تھی ؟ مانا کہ آپس میں دشمنی تھی لیکن پھر بھی ایک بے بس اور لاچار دشمن کے ساتھ ایسا سلوک جائز نہ تھا۔ خدا کا شکر ہے کہ اس نے تم سے حکومت چھین لی اور تمہیں ذلیل کیا۔ مزنا ،خیریت اسی میں ہے کہ تم یہاں سے فوراََ دفع ہو جاوٴ۔“
مزنا ملکی کی باتین سن کر بالکل مرعوب نہ ہوئی ملکہ اس نے ایک زور کا قہقہہ لگایا اور بولی۔ ” بہن اپنے آپے سے باہر نہ ہو۔ جو کچھ میں نے کیا خدا سے اس کی سزا پالی ۔ خدا کی قسم، جو کچھ تم نے کہا ہو سچ ہے اسی کی پاداش میں خدا نے مجھے ذلیل وخوار کر کے تمہارے سامنے لا کھڑا کیا ہے۔کیا تمہیں معلوم نہیں کہ کسی وقت میں تم سے زیادہ شوخ اور شریر تھی۔ دولت اور حشمت میرے گھر کی لونڈی تھی۔ مجھے اپنے حسن پرناز تھا اور تکبر نے مجھے اندھا کر رکھا تھا مگر تم نے دیکھا کہ جلد ہی زمانے نے اپنا ذوق الٹ دیا۔ خدا نے اپنی تمام نعمتیں مجھ سے چھین لیں۔ اب میں ایک فقیر سے بدتر ہوں۔ کیا تم چاہتی ہو کہ تمہارے ساتھ بھی یہی کچھ ہو۔اچھا خوش رہو،میں جاتی ہوں۔“
اتنا کہہ کر مزنا نے تیزی سے باہر کارخ کیا لیکن چند قدم بھی نہ جانے پائی تھی کہ خیزران نے دوڑ کر اسے پکڑ لیا اور چاہا کہ گلے سے لگا لے لیکن مزنا نے پیچھے ہٹ کر کہا۔” خیزران تم ملکہ ہو اور میں غریب اور بے کس عورت، میرے کپڑے بوسیدہ اور غلیظ ہیں۔ میں اس قابل نہیں کہ ایک ملکہ مجھ سے بغل گیر ہو۔“
خیزران نے آبدیدہ ہو کر لونڈیوں کو حکم دیا کہ مزنا کو نہلا دھلا کر اعلیٰ درجے کی پوشاک پہناو اور پھر اسے عطر میں بسا کر میرے پاس لاوٴ۔
لونڈیوں نے ملکہ کے حکم کی تعمیل کی ۔ اس وقت مزنا کو دیکھ کر یوں معلوم ہوتا تھا کہ چاند بدلی سے نکل آیا ہے۔ خیزران بے اختیار اس سے لپٹ گئی۔ اپنے پاس بٹھایا اور پوچھا۔ دستر خوان بچھواوٴں؟“
مزنا نے کہا۔”ملکہ آپ پوچھتی ہیں! شاید مجھ سے زیادہ اس محل میں کوئی بھوکا نہ ہوگا۔“
فوراََ دستر خوان بچھ گیا۔ مزنا سیر ہو کر کھانا کھا چکی تو ملکہ نے پوچھا۔”آج کل تمہارا سر پرست کون ہے؟“
مزنا نے سرد آہ بھر کر کہا۔ ”آج کس میں ہمت ہے کہ میری سر پرستی کرے۔ مدتوں سے در در کی ٹھوکریں کھا رہی ہوں۔ کوئی رشتے دار بھی دنیا میں موجود نہیں کہ اس کے ہاں جا پڑوں۔ بس کچھ قرابت ہے تو وہ اسی گھرانے (بنو عباس ) سے ہے ۔“
خیزران نے فوراََکہا۔ ”مزنا آزردہ مت ہے۔ آج سے تم میری بہن ہو۔ میرے بہت سے محل ہے۔ تم ان میں اس ایک محل پسند کر لو اور یہیں رہو۔ جب تک میں جیتی ہوں تمہاری ہر ضرورت پوری کروں گی۔“
چنانچہ مزنا نے ایک عالیشان محل پسند کر لیا اور خیزران نے اس میں تمام ضرورت زندگی اور لونڈی غلام مہیا کر دئیے۔ ساتھ ہی پانچ لاکھ درہم نقد بھی اس کے حوالے کئے کہ جس طرح چاہے خرچ کرے۔
شام کو خلفیہ مہدی حرم میں آیا اور دن بھر کے حالات پوچھنے لگا۔ ملکہ خیزران نے اسے آج کا واقعہ تفصیل سے بتانا شروع کیا۔ جب اس نے بتایا کہ اس نے مزنا کو اس طرح جھڑکا اور وہ قہقہہ لگا کر شانِ بے نیازی کے ساتھ واپس چلی تو خلیفہ فرطِ غضب سے بے تاب ہو گیا اور اس نے ملکہ کی بات کاٹ کر کہا۔” خیزران تم پر ہزار افسوس ہے کہ خدا نے تمہیں جو نعمتیں عطا کی ہیں تم نے ان کا شکر ادا کرنے کا ایک بیش بہا موقع ہاتھ سے کھو دیا۔ تمہاری یہ حرکت ایک ملکہ کے شایانِ شان نہیں تھی۔“
خیزران نے کہا۔”امیر المومنین! میری پوری بات تو سن لیں۔“
اس کے بعد جب اس نے مزنا کے ساتھ اپنے حسن سلوک کی تفصیل بتائی تو مہدی کا چہرہ چمک اٹھا۔ اس نے خیزران کی اعلیٰ ظرفی کو بہت سراہا اور کہا کہ آج سے میری نظر میں تمہاری قدر دو چند ہو گئی ہے۔ پھر اس نے اپنی طرف سے بھی مزنا کو اشرفیوں کے سوتوڑے بھیجے اور ساتھ ہی کہلا بھیجا کہ آج میری زندگی کا سب سے بڑا یومِ مسرت ہے کہ اس نے ہمیں تمہاری خدمت کی توفیق دی ۔ اب تم اطمینان سے یہاں رہو۔
اس کے بعدمزنا طویل عرصہ تک زندہ رہی۔ مہدی کی وفات 69ھ بمطابق 785 ء کے بعد اس کا بیٹا ہادی بھی مزنا کی بے حد تعظیم وتکریم کرتا رہا۔ ہادی کے بعد 170ھ بمطابق 786 میں ہارون الرشید خلیفہ بنا تو اس نے بھی مزنا کو ماں کے برابر سمجھا۔ اس کے عہد خلافت کی ابتداء میں مزنا نے وفات پائی تو ہارون الرشید بچوں کی طرح بلک بلک کر رویا اور اس کے جنازے کو شاہانہ شان وشوکت کے ساتھ قبرستان پہنچایا۔
ملکہ خیزران کے بطن سے مہدی کے دو بیٹے موسیٰ ہادی اور ہارون الرشید پیدا ہوئے۔ جیسا کہ اوپر بیان ہوا ہے یہ دونوں باپ کی وفات کے بعد یکے بعد دیگر خلیفہ ہوئے بد قسمتی سے خلیفہ ہادی ماں کا اطاعت گزار نہ نکلا۔ اس نے ملکہ خیزران کو تمام اختیارات سے محروم کر دیا جو اس کو خلیفہ مہدی کے زمانے میں حاصل تھے۔ مگر اس کا زمانہ حکومت بہت مختصر تھا۔ اس نے پندرہ ماہ بعد وفات پائی اور ہارون الرشید مسند نشین ہوا۔ اس نے ماں کے تمام اختیارات بحال کر دئیے اور اس کے اعزاز واکرام میں کوئی کسر اٹھانہ رکھی۔
اس نیک دل ملکہ نے بعہد ہارون الرشید 173ھ بمطابق 789ء میں وفات پائی ۔

(0) ووٹ وصول ہوئے