Shehzadi Fatima Khanam

شہزادی فاطمہ خانم

Shehzadi Fatima Khanam
شہزادی فاطمہ خانم ترک سلطان سلیم کی بیٹی تھی۔ اس نے ایسا کام کیا جس نے ملکہ زبیدہ کی دوبارہ یاد دلا دی۔ وہ ترک سلطان کی بیٹی ضرور تھی لیکن اس کو مکہ اور مدینہ کے لوگوں سے نہایت پیار تھا۔وہ مکہ گھر گھر میں پانی پہنچانا چاہتی تھی۔1557 ء کا دور تھا۔ اس سے پہلے عباسی خلفیہ ہارون الرشید کی بیگم نے 831 میں مکہ کے مسلمانوں کے لئے ایک نہر تعمیر کرائی تھی جو کہ نہر زبیدہ کے نام سے مشہور ہوئی۔

اگلے سات سو سالوں میں یعنی شہزادی فاطمہ خانم کے دور تک جو نہر پتھروں اور ریت سے پُر وہ کر بند ہو گئی تھی۔ مکہ میں ایک بار پھر پانی کی قلت ہوگئی تھی۔ پانی کی قلت دور کرنے کے لئے شہزادی فاطمہ خانم نے اپنے ایک معتمد ملازم ابراہیم بن تکریم کو پچاس ہزار اشرفیاں دے کر مکہ روانہ کیا کہ وہ پہلے نہر زبیدہ کی صفائی اور مرمت کرائے اور پھر” چاہِ زبیدہ“ سے خاص مکہ شہر تک پہنچانے کا انتظام کرے۔

(جاری ہے)


ابراہیم نے مکہ جا کر تمام ملک میں قابل انجینئروں اور کاریگروں کو جمع کیا اور کام پر لگا دیا۔ انہوں نے سخت محنت کر کے نہر کی صفائی اور مرمت کی۔ جب نہر کو چاہِ زبیدہ سے مکہ کی جانب لے جانے کی کوشش کی تومعلوم ہواکہ آگے دو ہزار فٹ کی چٹان ہے جس کی موٹائی پچاس فٹ اور چوڑائی بے اندازہ ہے ۔ اس کو کاٹنا ممکن نظر نہ آتا تھا۔ اس لئے ابراہیم نے ہمت کر کے شہزادی کو اپنی ناکامی کی اطلاع دی لیکن شہزادی نے سختی سے کام لے کر اس کو چٹان کاٹنے کا حکم دیا۔ چنانچہ شہزادی کے حکم پر دس سال تک اس چٹان کو کاٹا گیا تب جا کر 1571 میں وہ چٹان مکمل طور پر کٹ گئی اور نہر مکہ معظمہ تک آنے کا رستہ کھل گیا۔ اس نیک کام کی بدولت شہزادی فاطمہ خانم کو ملکہ زبیدہ خانم بھی کہا جاتا ہے۔
تاریخ اشاعت: 2015-08-31

Your Thoughts and Comments

Special Flaah E Aama O Khas article for women, read "Shehzadi Fatima Khanam" and dozens of other articles for women in Urdu to change the way they live life. Read interesting tips & Suggestions in UrduPoint women section.