بند کریں
خواتین مضامینفن و ادبحبہ خاتون

مزید فن و ادب

پچھلے مضامین - مزید مضامین
حبہ خاتون
حبہ خاتون کا شمار دسویں صدی ہجری کے کشمیر کی نامور خواتین میں ہوتا ہے۔
حبہ خاتون کا شمار دسویں صدی ہجری کے کشمیر کی نامور خواتین میں ہوتا ہے۔ وہ کشمیری زبان کی ایک بلند پایہ شاعرہ تھی۔ غزل جو کہ شاعری کی قدیم ترین اور مقبول ترین صنف ہے کشمیر زبان کی شاعری میں اس کی بنیاد حبہ خاتون نے رکھی۔اس کا اصل نامی زوفی (چاندنی) تھا لیکن اس نے حبہ خاتون کے نام سے شہرت پائی۔
وہ958 ھ/ 1551 ء میں کشمیر کے ایک غیر معروف گاوٴں چندن بار میں پیدا ہوئی۔ اللہ تعالیٰ نے اسے کمال درجے کے حسن وجمال، غیر معمولی ذہانت وفطانت اور ذوقِ شاعری سے نوازا تھا۔ بچپن ہی میں موزوں شعر کہنے لگی یہاں تک کہ ایک قادر الکلام شاعرہ بن گئی ۔ اس کی پہلی شادی ایک خشک مزاج دیہاتی جوان سے ہوئی۔ ساس بھی اس پر بہت سختیاں کرتی تھی۔ایک دن وہ اپنے کھیت میں بیٹھی سا کی زیادتیوں کے خلاف گیت گا رہی تھی کہ کشمیر کے بادشاہ یوسف شاہ چک کا ادھر سے گزر ہوا۔وہ اس کے پُرسوز گیت اور حسن وجمال سے بہت متاثر ہوا۔ کچھ عرصہ بعد اس نے زوفی کو اس کے شوہر سے طلاق دلوا کر اپنے حرم میں داخل کر لیا۔ اب وہ ملکہ کشمیر بن کر ”حبہ خاتون“ کے نام سے مشہور ہو گئی۔
شاہی حرم میں اس کی شاعری نے خوب جلا پائی۔ اس نے کشمیری شاعری میں عربی، فارسی عروف کو رائج کیا۔ چند سال کے بعد مغل حکومت نے یوسف شاہ چک کو گرفتار کر کے قلعہ گوالیار میں بند کر دیا۔ حبہ خاتون اب تارک الدنیا ہوگئی۔اس زمانے میں اس نے شوہر کے فراق میں بڑے درد ناک گیت کہے جنہیں گاتی ہوئی وہ وادی میں دیوانہ گھومتی پھرتی تھی ۔ اسی حالت میں اس نے سری نگر کے قریب ایک گاوٴن میں1010ھ/ 1610 میں وفات پائی۔
یوں کشمیر کی ایک بلند پایہ شاعرہ ،ادب کے لئے جس کی خدمات ناقابل فراموش ہیں، اپنے خالق حقیقی سے جا ملی مگر اس نے کشمیری ادب میں عربی وفارسی کو رائج کر کے کشمیری شاعری کو جو نیا رخ دیا اُس نے اسے ہمیشہ کے لئے لازوال بنا دیا۔

(0) ووٹ وصول ہوئے