بند کریں
خواتین مضامینفن و ادبروتھ پرائر جھب والا

مزید فن و ادب

- مزید مضامین
روتھ پرائر جھب والا
مغربی تخلیق کار عموماََ اپنی دنیا کے متعلق لکھنے کو ہی ترجیح دیتے ہیں خواہ وہ کتنی ہی محدود کیوں نہ ہو۔
مغربی تخلیق کار عموماََ اپنی دنیا کے متعلق لکھنے کو ہی ترجیح دیتے ہیں خواہ وہ کتنی ہی محدود کیوں نہ ہو۔ باہر کی طرف پھیلی ہوئی وسیع و عریض دنیا کی طرف ان کی نگاہ اگر جاتی بھی ہے تو عموماََ اس کی خامیاں، اس کے حکمرانوں کی عیاشیاں اور اسکے لوگوں کی حماقتیں ظاہر کرنے کے لئے۔ تیسری دنیا کے ممالک ان کی نگاہِ کرم کے سزاوار بہت کم ٹھہرتے ہیں اور برصغیر کی طرف توجہ دینے والے تو بہت ہی کم ہیں۔
پھر بھی اگر جائزہ لیا جائے تو مغربی ادب کے کئی ایسے مقتدرنام سامنے آتے ہیں جنہوں نے برصغیر کے متعلق لکھ کر نام اور مقام کمایا۔ رڈیارڈ کپلنگ ،ای ایم فارسٹر، ہرمن ہیس ،جاری آرویل اور روتھ پرائرجھب والا کے نام ایسے ہی مصنفین میں شامل ہیں۔
روتھ پرائر جھب والا 1927 میں جرمنی کے شہر کو لون میں پیدا ہوئی۔ اس کے والدین کا تعلق پولینڈ سے تھا۔ 1939 میں جرمنی کی حکومت کی سخت نسلی پالیسیوں کی وجہ سے روتھ کے والدین کو جرمنی چھوڑ کر برطانیہ میں پناہ گزین ہونا پڑا۔ روتھ نے لندن کے کوئین میری کالج میں تعلیم حاصل کی اور 1951 میں گرایجویشن کی ڈگری حاصل کی۔ 1951 میں ہی اس نے انڈین آرکیٹکٹ سائرس جھب والا سے شادی کر لی اور انڈیا منتقل ہو گئی۔ انڈیا میں وہ 1975 تک مقیم رہی جس کے بعد نیوریارک ان کی مستقل اقامت گاہ ٹھہرا۔
انڈیا میں قیام کے دوران ایک انڈین خاندان کے فرد کی حیثیت کے روتھ کو جو تجربات ہوئے، انہیں اس نے اپنے ناولوں کے لیے خام مٹیریل کے طور پر استعمال کیا۔ اس کا ناول ہیٹ اینڈ ڈسٹ جو 1975 میں شائع ہوا ۔ برطانیہ کے مقتدر ترین ادبی انعام بوکر پرائز کا حقدار ٹھہرا۔ اس کے علاوہ فلمساز اسماعیل مرچنٹ اور ہدایت کارجیمز آئیوری کی مشہور زمانہ ٹیم، جس کا زیادہ ترکام برصغیر کے متعلق ہی ہے۔نے اسے فلم بنانے کے لئے منتخب کیا۔ یہاں سے مرچنٹ آئیوری ٹیم کے ساتھ روتھ کے تعلق کا آغاز ہوا اور بعد ازاں روتھ نے ان کی کئی فلموں کے لئے منظر نامے تحریر کئے ۔ ہیٹ اینڈدسٹ کا منظر نامہ بھی اس نے خود لکھا تھا۔
روتھ نے اپنے ناولوں پر مبنی فلموں کے منظر نامے تحریر کرنے کے علاوہ دیگر مصنفین کی تخلیقات پر مبنی فلموں کے منظر نامے بھی تحریر کئے۔ 1976 میں ای ایم فارسٹر کے ناول پر مبنی فلم ”اے روم ود اے وی“ کا منظر نامہ تحریر کرنے پر اس نے بہترین منظر نامہ نگاری کا اکیڈمی ایوارڈ بھی حاصل کیا۔
روتھ نے صرف انڈیا ہی کے متعلق نہیں لکھا۔ امریکہ کے متعلق بھی اس نے کئی ناول تحریر کئے ہیں۔اس کے ناولوں اور افسانوں میں مشرق اور مغرب کی ثقافتوں کا ایک انوکھا امتزاج نظر آتا ہے ۔ اس کی تخلیقات محض بے جان ادب نامے نہیں۔عام قاری کی دلچسپی کا بھی وافر سامان ان میں موجود ہے۔ یہی وجہ ہے کہ روتھ کے ناول ادبی روایت میں داخل ہونے کے علاوہ عامتہ الناس میں بھی مقبولیت حاصل کرتے ہیں۔

(0) ووٹ وصول ہوئے