Aaraish Khanah Khaton Khanah Ke Zouq Ka Aaina

آرائشِ خانہ خاتونِ خانہ کے ذوق کا آئینہ

Aaraish Khanah Khaton Khanah Ke Zouq Ka Aaina

مہوش سلیم
وہ دن ہواہوئے جب لوگ پیشہ صرف زندگی کی بنیادی ضروریات یعنی روٹی ‘کپڑا اور مکان پر صرف کیا کرتے تھے ۔آج کل کے دور میں معاشرے کے ہر طبقے کے لوگ اور خاندان اس بات پر بھی خاص طور پر توجہ دے رہے ہیں کہ گھر کی آرائش وزیبائش کس طرح سے کی جائے۔اس کی کئی وجوہات ہیں ۔پہلی تویہ کہ جوائنٹ فیملی کا تصور دھیرے دھیرے ختم ہورہا ہے ۔

دوسرا اس بات کا بھی امکان ہوتاہے کہ میاں بیوی دونوں ہی کمار ہے ہیں ۔تیسرایہ کہ پیسہ مختلف قسم کے قرضوں کی صورت میں دستیاب ہوتا ہے ۔اگر آ پ مکان بنا رہے ہوں ۔یہ قرضے سود کی کم شرح اور ادائی کے طویل مدت کے لیے دستیاب ہو جاتے ہیں ۔
ہم میں سے اکثر کی یہ فطرتی خواہش ہوتی ہے کہ ہم اپنے گھروں کو سجائیں ‘ان کی آرائش کریں ۔

(جاری ہے)

اس لیے کہ شام کو جب ہر کوئی تھکا ہارا گھر لوٹتا ہے تو اس کا یہی جی چاہتا ہے کہ گھر صاف ستھرا‘آرام دہ ‘سکون بخش اور جمالیاتی طور پر آراستہ ہو۔

سوچ کے اس جدید رجحان کی بناء پر آج کل انٹیر ےئر ڈیکوریشن ‘ڈیزائننگ کی انڈسٹری عروج پر ہے ۔
چند سال پہلے تک اچھا میٹریل ‘اچھی کاریگری اور پائیداری جوکہ نسلوں تک برقرار رہ سکے‘گھریلوآرائش کی بنیادی کلید تصور کی جاتی تھی ۔لیکن پھر دولت کی بہتات کی وجہ سے لوگوں کی توجہ بھاری ونڈ وڈریسنگ ‘دبیز قالینوں اور اندرونی آرائش کی ان فرنیچرز کی جانب مبذول ہو گئی جو کاریگری کا نمونہ ہوتے تھے اور یہ رجحان تیزی سے پھیلنے لگا۔


کسی بھی گھر کی اندرونی سجاوٹ اس گھر کی خاتون خانہ کی شخصیت کی عکاسی کرتی ہے ۔ساتھ ہی اس کی جمالیاتی حسن اور اس کے کلچرڈذہن کو بھی ظاہر کرتی ہے ۔حتیٰ کہ انٹیرےئر ڈیکوریشن میں کسی بھی قسم کی روایتی تربیت کے بغیر بھی وہ خاتون ایک بہترین ڈیکوریٹر ہو سکتی ہے ۔
انٹیر ےئر ڈیکوریشن تمناؤں اور خواہشات کی شیشے کی الماری ہی نہیں ہوتی ۔

ایک گھر میں انٹیر ےئر ڈیزائن کے متعلق اس سے زیادہ بہتر تبصرہ اور کوئی نہیں ہو سکتا جو ولیم مورس نے دیا ہے ”آپ کے گھر میں ایسی کوئی چیز نہیں ہونی چاہے جو آپ کے لحاظ سے کار آمد نہ ہو اور یا آپ کو اس کی خوبصورتی پر یقین نہ ہو۔“
ہمارے انٹیر ےئر ڈیکوریشن کے انداز میں مشرق کلچر کو نمایایں کرنے کیساتھ مغربی روایت کو بھی کمبائن کیا جاتا ہے لیکن اس بات کا خاص خیال رکھاجاتاہے کہ جمالیاتی حسن برقرار رہے ویسٹرن اسٹائل کو بھی اپنا یا جاتا ہے لیکن مشرقی روایات کو مد نظر رکھتے ہوئے۔

اینٹیکس(Antiques) کا رونگ‘پاٹ پلانٹس‘ اسٹون وےئر پوٹری ‘ٹیراکوٹاآئٹمز‘انفرادی نوعیت کو فٹنگز ‘فرنشنگ ‘ آرٹی فیکٹس ‘وال ہینگنز‘چھوٹے مجسمے۔یہ تمام کی تمام چیزیں اسی شوق‘جذبے اور لگن کو ظاہر کرتی ہے ۔رنگ لینڈا سکیپ کے چنچل اور زندہ دل مناظر کو ظاہر کرتے ہیں ۔
ڈیزائننگ کا مطلب ایک ”بھڑ کیلے اور نمائشی گھر “کی تخلیق نہیں بلکہ ایک ”آرام دہ پرسکون “گھر کی تخلیق ہے جو کہ اس گھر کے مکینوں کے طرز زندگی اور شخصیات میں پوری طرح سے فٹ بیٹھتا ہو۔

اس کے ساتھ ساھ وہ جمالیاتی طور پر بھی لوگوں کو اپیل کرے اور اس کے لیے دلچسپی اورکشش ہو۔
یہ بات بھی انتہائی ضروری ہے کہ ایک فیملی درکار جگہ کو صحیح طور پر اپنے استعمال میں لائے۔
لیکن ہم دیکھتے ہیں کہ بیشتر گھروں میں غیرضروری اشیاء بہت زیادہ بھری ہوئی ہوتی ہیں ۔گھر کی آرائش کے سلسلے میں گھر کو صاف ستھرا رکھنا ہی آدھی فتح حاصل کر نے کے مترادف ہے ۔

فالتو اور غیر ضروری آئٹمز کو پھینک دینا یا کسی کو دے دینا‘گھر میں کبھی کبھار فرنیچر کی پوزیشن کو تبدیل کرنا‘گھر کو ایک دلکش لک عطا کرنا ہے اور گھر میں خوبصورتی اور دلکشی اسی وقت پیدا ہوتی ہے جب تمام لازمی اشیاء کو ایک سلیقے اور ہم آہنگی کیساتھ ترتیب دیاجائے۔
جب ہم انٹیرےئر کا پلان کرتے ہیں تو ہمیں چاہئے کہ گھر کے بنیادی اور اہم ترین پہلوؤں کو مد نظر رکھیں یعنی اطمینان سے صفائی ستھرائی جس میں مکڑیوں کے جالے‘گرلزکی صفائی ‘چھت کی صفائی سب ہی کچھ شامل ہے ۔


کسی بھی گھر کو بنانے اور آراستہ کرنے میں کوشش‘محنت اور وقت درکار ہوتا ہے اور وہ بھی بیشمار دستیاب ورائٹیز کے انتخاب سے جس میں میٹریل ‘کلر ‘ڈیزائن وغیرہ سب ہی کچھ آجاتے ہیں محتاط سوچ وبچار اور پلاننگ بے حد ضروری اور لازمی ہوتے ہیں ۔
ٹائلز جیسی بنیادی شے کے بارے میں فیصلہ کرنا بھی مشکل ہوجاتا ہے کیونکہ مارکیٹ میں دستیاب ورائٹیز ذہن کو پریشانی میں مبتلا کردیتی ہیں کہ کس کا انتخاب کیا جائے اور کسے چھوڑ دیا جائے ۔

کیونکہ ہر ایک فلورنگ کے لئے ماربل یاگرینائٹ کا متحمل نہیں ہو سکتا لہٰذا لوگ سرامک فلور ٹائلز کو پسند کرتے ہیں ۔جو باآسانی صاف بھی کی جا سکتی ہیں او ر دیکھنے میں ماربل ہی کی طرح خوشنما بھی لگتی ہیں ۔البتہ لوگوں کی اکثر یت پورے گھر کے فرش کی بجائے صرف کچن اور باتھ روم کے لیے سرامک ٹائلز کا انتخاب کرتی ہیں۔
آج کل کے دور میں باتھ روم بھی نظر انداز نہیں کئے جاتے اور ہارڈوےئر شاپس اور سینیٹری فنگز کی دکانوں میں باتھ روم فنگز کی بے شمار ورائٹیز سجی ہوئی دکھائی دیتی ہیں ۔

سینیٹروےئر اب ایک بنیادی ضرورت ہو چکی ہے اور اس کا شمار لگژری آئٹمز میں نہیں ہوتا ۔دکانوں میں مختلف ٹائپ کے نلکے ‘ہینڈ شاور‘باتھ ٹب‘صابن دانیاں ‘کلاتھ ریکس وغیرہ دستیاب ہیں جنہیں دیکھ کر ہمارا بھی جی چاہتا ہے کہ یہ اشیاء ہمارے باتھ روم کی زینت بنیں ۔
اگر آپ چاہیں تو اپنے فرش اور دیواروں کی ٹائلوں کو دیگر فنگز کے ساتھ میچ کرسکتی ہیں ۔

باتھ روم ایک ایسی جگہ تصور کی جاتی ہے جہاں کوئی دن بھر کی تھکن کو اتار سکتا اور پانی میں بہا سکتا ہے۔
پرانے زمانے کی الیکٹرک فنگز کی جگہ اب دلکش اور خوش شکل اشیاء نے لے لی ہے ۔جو کہ ماحول سے مطابقت کرتے ہوئے ضرورت کے ساتھ آرائش کا کام بھی دیتی ہیں ۔یہ ماحول سے ہم آہنگ ہونے کے ساتھ اپنے طور پر بھی خوشنما ہوتی ہیں ۔
پینٹ بھی ہائی ٹیک میں چلے گئے ہیں اب ہمارے پاس وال فنشز ‘وال پیپرز اور ٹیکسچرڈ پینٹس ہیں ۔

ایک گھریلو فرد کی ترجیح آج بھی سادا سیمنٹ پینٹ ہی ہے ٹکسچر ڈپینٹ خاص طور پر دفاتر میں استعمال کئے جاتے ہیں ۔
انٹیر ےئر ڈیکوریشن کا ایک اہم پہلو رنگ ہے مغربی ممالک میں ہلکے پھلکے زردرنگ یا سفید رنگ کے شیڈ ز کو دوسروں پر فوقیت حاصل ہوتی ہے لیکن برصغیر میں بہت ہی کم لوگ کنٹراسٹ رنگوں کو ترجیح دیتے ہیں ۔
بلاشبہ ہماری فنگز کی کوالٹی میں نمایاں بہتری آئی ہے لیکن ہماری پلمبنگ کا اسٹینڈ رڈ اور سروسنگ دیگر بہت سے ملکوں کے مقابلے میں اب بھی کمزور اور پست ہے ۔


کوئی بھی انٹیر ےئر ڈیکوریشن فرنیچر کے بغیر ممکن نہیں ہوتی کیونکہ فرنیچر کا شمارڈیکوریشن کے جزولازم کے طور پر ہوتا ہے ہاتھوں سے نقش کاری کئے گئے فرنیچرزکے مقابلے میں مشینوں سے بنائے گئے چربہ فرنیچر سستے ہوتے ہیں جبکہ کا رونگ خاصے مہنگے ہوتے ہیں خاص طور پر نادر (اینٹیک )فرنیچر جو کہ ٹیک جیسی ہائی کوالٹی لکڑی سے بنایا گیا ہو۔

اس کا شمار بیش قیمت اثاثے میں ہوتا ہے ۔
ایسے بہت سے آنکھوں کو بھلے لگنے والے فرنیچر کے ڈیزائن بھی ملتے ہیں جو کہ خالص لو ہے کے بنے ہوتے ہیں ۔ یہ ایک نموپذ یر میٹیریل ہوتا ہے اور اس کے بنے ہوئے فرنیچر منفرد اور عمدہ نفیس ہوتے ہیں ۔ان کے فرسودہ ہونے کا امکان بھی کم ہوتا ہے اور یہ تیزی سے مقبولیت بھی حاصل کر رہے ہیں اس میٹیریل کی رنگت کسی بھی شیڈ کیساتھ باآسانی بلینڈ ہوجاتی ہے ۔

نادر (اینٹیک)فرنیچر کی پسند گھروالوں کے جمالیاتی ذوق کی عکاسی کرتی ہے ۔
انڈور پلانٹ (پودے)بھی انٹیر ےئر ڈیکوریشن کا ایک لازمی جزو ہیں ۔ مناسب دیکھ بھال کی جائے تو بہت سے گھریلو پودے بھی اگائے جا سکتے ہیں ۔ جوکہ ہوا کو صاف ستھرا اور آلودگی سے پاک رکھ سکتے ہیں ۔پودے رہائشی جگہوں میں ٹھنڈے کا احساس دلاتے ہیں اور گملوں اور گل دانوں میں موجود رنگ برنگے پھول کمرے میں جہاں وہ رکھے جاتے ہیں ‘ایک روشن اور خوش کن تاثر پیدا کرتے ہیں ۔


کئی نسلوں سے دستکاری کا فن ہماری طرززندگی اور آرکٹیکیچر کا حصہ رہا ہے ۔لکڑی‘پتھر اور دھات پر نقاشی‘کندہ کاری اور دھاتی پینٹنگ شیٹ ورک اور روایتی کار پینٹری ہمارے معاشرے کا ایک لازمی جزو رہا ہے ۔قدیم زمانے میں گھروں کے ستونوں کو جو لکڑی یا پتھر کے ہوتے تھے ان پر نقش ونگار کندہ کئے جا تے تھے اور کارپینٹر ہفتوں اس پر فن کے جو ہر دکھانے میں مصروف رہتے تھے ۔

اس کام کے کاریگروں کی اس زمانے میں بھی قدرتھی اور آج کے دور میں بھی یہ کام خاصا مہنگا پڑتا ہے ۔
آج کل مٹی کے ظروف جن پر منقش کام ہوتا ہے اور جو مختلف سائز اور شیپ میں دستیاب ہوتے ہیں کئی گھروں کے ڈرائنگ رومز کی زینت بنے ہوتے ہیں اور ان کی سج دھج ایک اپنا الگ اثر رکھتی ہے ۔اس کے علاوہ تانبے اور پیتل کے ظروف بھی ماڈرن گھروں میں سجاوٹ کے طور پر استعمال میں لائے جاتے ہیں ۔


دستکاری اور ہینڈ لوم کو الگ نہیں کیا جا سکتا اور یہ بھی ایک دوسرے کی بانہوں میں با نہیں ڈال کر چلتے ہیں ۔اور دستکاری کے فن میں مہارت ٹیکسٹائل کا ایک حصہ ہے ۔
گھر کی آرائش میں ٹیکسٹائل کے بہترین مہارتوں کو جس میں ڈرائنگ ‘ویونگ ایمبر ائیڈری شامل ہے ۔شاندار اور دلکش طریقے سے استعمال میں لایا جا رہا ہے ۔غیرملکی سیاح جو ہمارے ملک میں آتے ہیں وہ ہماری دستکاری کے بے حد مداح ہوتے ہیں اور اکثر شاپنگ سینٹرز میں ہینڈی کرافٹس کی بڑے شوق کے ساتھ خریداری کرتے دکھائی دیتے ہیں ۔

بہت سے غیر ملکی گھرانوں میں ا س حقیقت کی تصدیق کی جا سکتی ہے ۔اب تو ہمارے ہینڈی کرافٹس برآمد کا ایک بڑا ذریعہ بھی ہیں اور ان اشیاء کی ایکسپورٹ کی مارکیٹ روز افزوں ترقی پارہی ہے ۔لوگ آج بھی مشین کی بنائی گئی اشیاء کے مقابلے میں دستکاری کی اشیاء کو ترجیح دیتے ہیں ۔
پردے لٹکانے کی راڈ اس کی ایک مثال ہے جو المونیم کی عام راڈ کے مقابلے میں اگر ہاتھ کی بنی ہوئی ہوتو زیادہ دل آویز لگتی ہے ۔

فرنیچر سے لے کر وال فرنشنگ تک دستکاری کی ایسی اشیاء وافر مقدار میں دستیاب ہیں جو ہر انٹیر ےئر ضرورت کو پور ا کردیتی ہیں ۔روایتی ڈیزائن ان حصوں میں استعمال کئے جاتے ہیں جہاں ہلکی فرنشنگ‘پردوں کی لینن اور اپ ہو لسٹری درکار ہو۔اس کے علاوہ دیگر ڈیزائنر بھی ہیں جو ماڈرن ڈیزائن تخلیق کرتے ہیں اور اس میں جدید تیکنیک سے کام لیا جاتا ہے۔


پہلے زمانے میں انٹیر ےئر ڈیکوریشن کے لئے غیر ملکی رسالوں سے مدد لی جا تی تھی ۔لیکن اب ہمارے یہاں تخلیق کاروں کی کمی نہیں اور وہ پروڈکٹ کے ساتھ اسٹائل بھی فروخت کرتے ہیں ۔
لو گ اکثر اپنے گھر کی آرائش کرنے میں اپنی تخلیقی صلاحیتوں کو استعمال کرتے ہیں اور اس سلسلے میں اپنی پسند کی اشیاء اور اپنے ذوق کو مد نظر رکھتے ہیں ۔وہ ایک خاص طبقہ ہوتا ہے جو اپنے گھر کی سجاوٹ کے لئے انٹیر ےئر ڈیکوریٹر کی خدمات حاصل کرتا ہے ۔

اس لئے کہ پیشہ ورانہ طور پر ان کے معاوضہ خاصے بھاری ہوتے ہیں اور ایک عام آدمی ان کا متحمل نہیں ہو سکتا ۔
اندرونی گھریلو سجاوٹ کی ہر شے پر انفرادی توجہ دینی چاہئے کیونکہ یہ کسی نہ کسی فرد کے ذو ق یا ضرورت کی عکاسی کرتی ہے اور جو طرز زندگی اس خاندان نے اپنا یا ہوا ہوتا ہے یہ اس کے امیج کی تخلیق کرتی ہے۔ اس لئے ہمیں چاہئے کہ گھر کی آرائش اور سجاوٹ میں جمالیاتی ذوق کے ساتھ گھر کے ہر فرد کے آرام اور آسائش کو بھی مد نظر رکھیں تا کہ یہ ہر ایک کی تسکین اور ذوق وشوق کی تکمیل دونوں معیار پر پورا اتر سکے ۔

تاریخ اشاعت: 2018-10-26

Your Thoughts and Comments

Special Ghar Ki Aaraish article for women, read "Aaraish Khanah Khaton Khanah Ke Zouq Ka Aaina" and dozens of other articles for women in Urdu to change the way they live life. Read interesting tips & Suggestions in UrduPoint women section.