بند کریں
خواتین مضامینگھر کی آرائشآرائش خانہ(حصہ دوم)
آرائش خانہ(حصہ دوم)
موجودہ دور میں تقریباًدنیا کے ہر ملک میں آرائش خانہ کی جو مقبول نہج پائی جاتی ہے،اس کو جدید آرائش کا نام دیا جاسکتاہے
آرائش خانہ
انگریزوں کے دورحکومت میں ہندو مسلمان امرا کے گھروں میں موجود فرنیچر اور سجاوٹی اشیاء عموماً قیمتی اور غیر ملکی ہوتی تھیں۔ڈئیزائن کے اعتبار سے فرنیچر پردے،سجاوٹی اشیاء وغیرہ برطانوی اور یورپی سٹائل کے اور قالین اکثر ایران و کشمیر کے ہوتے۔
موجودہ دور میں تقریباًدنیا کے ہر ملک میں آرائش خانہ کی جو مقبول نہج پائی جاتی ہے،اس کو جدید آرائش کا نام دیا جاسکتاہے اس ارائش میں زندگی کے نئے تقاضوں اور ضرورتوں کو پورا کرنے کی اطراف زیادہ توجہ دی جاتی ہے،اس سلسلے میں اپنے گھروں کا جائزہ لیں تو دیکھیں گے کہ شیروں میں حویلیوں اور بڑے مکانوں کی بجائے چھوٹے مکان اور فلیٹ ملتے ہیں اور مختلف کمرے مخصوص ضرورت کے لیے استعمال ہوتے ہیں مکان کی تعمیر و ساخت میں بہت سی تبدیلیاں آچکی ہیں مکان میں پہلے سے زیادہ مکانیت ہے مثلاًپہلے دیواروں پر صرف چند طاق ہوتے تھے جو اس وقت چیزیں رکھنے سمیٹنے کی ضرورت کے لیے کافی تھے،مگر اب کم جگہ کی افادیت بڑھانے کے لیے زیادہ تعداد میں دیواری الماریاں اور شلف بنائے جانے لگے ہیں،بہتر اشیاء ساخت اور طریق ساخت کے استعمال کی وجہ سے مکان کو زیادہ آسانی کے ساتھ صاف ستھرا رکھا جاسکتا ہے اور ایسے مکان زیادہ آرام دہ بھی ہوتے ہیں۔تاریخی دور میں آرام و آسائش کی اشیا صرف چند گھرانوں کو میسر تھی لیکن آج ہر خاص عام اپنے لیے آسائش کا سامان حاصل کرسکتا ہے چنانچہ اب آرائش خانہ کی طرف خاص توجہ دی جاتی ہیں مغربی ممالک میں آرائش خانہ کا کام اکثر ماہرین فن کے سپرد کردیا جاتا ہے،لیکن ابھی ہمارے ہاں یہ بہت مہنگا سوداہے۔اس لیے ہر خانہ دار کو آرائش خانہ کے متعلق بنیادی باتوں کا علم ضرور ہونا چاہیے،افراد خانہ کی عمر جنس،آمدنی،مشاغل اور پسند وغیرہ کے لحاظ سے ہر گھرانے کا طرز زندگی اور اطوار مختلف ہوتے ہیں اور ہر گھرانے کے مکان کی طرز ساخت بھی بالکل ایک جیسی نہیں ہوتی اس لیے مکان کو آرام دہ بنانے اور اس کی آرائش و زیبائش کے لیے گویا کوئی ایک طریقہ تجویز نہیں کیا جاسکتا،گھر میں بچے،بڑے اور ضعیف ہر ایک کی ضروریات کا خیال رکھنا ضروری ہوتا ہے اصولی طور پر گھر اسی وقت آرام دہ اور خوبصورت کہلائے گا جب اس گھر میں موجودہ ہر چیز گھر والوں کی ضروریات پورا کرنے کے لیے مہیا کی گئی ہوگی۔گھر میں موجودہ فرد کو ہر چیز پر فوقیت حاصل ہونی چاہیے مختلف چیزوں کا چناؤ اور ترتیب اس طرح ہونی چاہیے کہ سب ہی افراد خانہ کی شخصیت کی ترجمانی ہو،مثلاًبچوں والے گھر میں ان کے کھلونے،ممتاز کھلاڑی کے ہاں ان کے جیتے ہوئے انعامات کشیدہ کاری سے دلچسپی رکھنے والی خاتون کی بنائی ہوئی چیزیں گھر کی آرائش کا ایک اہم جز ہوسکتی ہیں،انسان کی رہائشی ضروریات کا جائزہ لیا جائے تومعلوم ہوتا ہے کہ گھر میں پوری ہونے والی کچھ ضروریات بالکل ذاتی ہوتی ہیں،ان میں کچھ مکمل تخلیہ میں پوری کی جاتی ہیں مثلاًغسل کر نا،لباس تبدیل کرنا وغیرہ کچھ ایسی ہیں جن کے لیے تخلیہ کی ضرورت نہیں مگرسکون اور خاموشی درکار ہوتی ہیں مثلاً سونا،آرام کرنا،پڑھنا لکھنا وغیرہ ہماری کچھ ضروریات اجتماعی طور پر پوری ہوتی مثلاً ساتھ مل کر کھانا پینا اٹھنا بیٹھنا،بچوں کے ساتھ کھیلنا وغیرہ گھر میں کچھ سماجی ضروریات بھی تکیل پاتی ہیں،مثلاً مہمان نوازی عزیزوں دوستوں سے ملنا جلنا وغیرہ۔
اس سلسلے میں یہ یاد رکھنا چاہیے کہ مذہبی فرائض کی ادائیگی اور جمالیاتی تسکین کے لیے ہمیں گھر کے ماحول میں صفائی سکون اور خوبصورتی کی انتہائی ضرورت ہوتی ہیں۔
مکان کا اہم جز دیواریں ،فرش،چھت،دروازے اور کھڑکیاں ہیں فرنیچر فرشی اشیا پردے اور آرائشی چیزیں تزئین خانہ کے لیے ہیں،ان چیزوں کے موزوں چناؤ اور تسلی بخش خوشنما ترتیب سے ہی گھر والوں کی مختلف ضروریات بہتر طور پر پوری ہوسکتی ہیں ضروری چیزوں کو خریدتے،بنوانے یا چنتے وقت افراد خانہ کی ضروریات کو ذہن میں رکھنے کے علاوہ قیمت پائیداری اور موزونیت کی طرف توجپ دینا بھی لازمی ہے،چیزوں کا انتخاب کرنے کے بعد ان کی ترتیب تسلی بخش طور پر کرنے کے لیے کچھ اصولی باتوں کو مدنظر رکھنا ضروری ہے کیونکہ چیزوں کی ترتیب سے جگہ کی افادیت گھٹتی بڑھتی ہے،چھوٹے گھروں میں صیح ترتیب برت کر کم جگہ کی افادیت کو بڑی حد تک بڑھایا جاسکتا ہے،
آرائش خانہ سے متعلق بیشتر اشیا گراں ہوتی ہیں ان کو روز روز تبدیل نہیں کیا جاسکتا اس لیے خانہ دار خاتون کے لیے لازمی ہے کہ وہ ان کا چناؤ صیح طور پر اور خریداری سمجھ بوجھ سے کرے۔
ضروریات کو نوعیت کے لحاظ سے گھر کے کمرے برآمدے اور صحن مختلف طور سے استعمال کیے جاتے ہیں،جہاں جگہ کی قلت ہو وہاں ایک کمرہ کئی قسم کی ضروریات پوری کرنے کے لیے استعمال ہوتا ہے استعمال کی اشیاء مختلف ہوتی ہیں اور ان کی ترتیب بھی مثلاً بیٹھنے کے کمرے کا فرنیچر اور اس کی ترتیب کھانے کے کمرے سے جدا ہوگی گھر آرائش کی طرف توجہ دینے کا مطلب یہ ہے کہ ضرورت کی ہر چیز اپنی مخصوص جگہ پر ایسی ترتیب سے رکھی جائے کہ جگہ میں وسعت پیدا ہو اور استعمال کے وقت آرام محسوس ہو،جگہ کی قلت اور آمدنی کی تنگی کے پیش نظر جو تقریباً ہر گھر میں محسوس کی جاتی ہے کم خرچی اور بالا نشینی کے اصول کواپنانا ضروری ہے،عقلمندی کا تقاضا بھی یہی ہے کہ جب نئی چیزیں خریدیں جائیں تو وہ پہلے سے موجود اشیا سے مطابقت رکھتی ہوں،کوشش یہ ہونی چاہیے کہ پرانی اور شکستہ چیزوں کی مرمت کروالی جائے یہ رنگ چیزوں کو رنگوا کر یا ان کا روغن بدل کر انہیں نئی شکل دے دی جائے چیزوں سے مکمل افادیت حاصل کرنے کے لیے آرائش خانہ کا ہنر ان سب چیزوں سے متعلق ہے جو خانہ دار کو اس بات کی اہل بناتی ہیں کہ وہ کم سے کم خرچ کے باوجود اپنا گھرآرام دہ اور خوبصورت رکھ سکتی ہے۔

(0) ووٹ وصول ہوئے