بند کریں
خواتین مضامینگھر کی آرائشآرائش خانہ (حصہ سوئم)

مزید گھر کی آرائش

پچھلے مضامین -
آرائش خانہ (حصہ سوئم)
متعدد گھرانے وہ ہیں جہاں پرانی وضع کے ساتھ جدید طرز زندگی کی جھلکیاں بھی ملتی ہیں۔
آرائش خانہ (حصہ سوئم)
آرائش خانہ کے حسن کے ساتھ ساتھ چند نکات اور بھی پیش نظر رکھنے چاہیں مثلاً رہن سہن ،آمدنی،واقفیت اور معلومات۔رہن سہن کے لحاظ سے کچھ خاندان جدید طرز زندگی کے قائل ہوتے ہیں تو کچھ پرانی وضع کے۔متعدد گھرانے وہ ہیں جہاں پرانی وضع کے ساتھ جدید طرز زندگی کی جھلکیاں بھی ملتی ہیں۔گھر کے افراد شخصیت بہت حد تک رہن سہن اور گھر کے طور طریقے سے متعین ہوتی ہیں جدید رہن سہن کے دلدادہ پر نئی چیز کو اپنانا چاہیں گے۔پرانی وضع کے لوگ پرانے ڈھب سے زندگی گزارنے میں راحت محسوس کریں گے اور تاریخی اور جدی چیزوں کوزیادہ اہمیت دیں گے۔گذشتہ چند سالوں میں شہر کے طرز زندگی میں بہت سی تبدیلیاں آچلی ہیں ان سرعت سے آنے والی تبدیلیوں کا تعلق تعلیم،صنعتی،ترقی اور معاشی بہبود سے ہے۔تعلیم یافتہ خاتون گھر کے فرائض کے ساتھ معاشی سرگرمیوں کو اپنا رہی ہے،تعلیم یافتہ افراد نئے خیالات اور انداز کو تیزی سے قبول کررہے ہیں اور یوں انسان کی روزمرہ کی سرگرمیاں بدل رہی ہیں اور سرگرمیوں کے ساتھ ساتھ ضرورت بھی،ایسے خاندان جہاں معاشی خوشحالی ہے،وہاں نہ جگہ کی قلت ہے اور نہ چیزوں کی کمی،ہر فرد کے لیے الگ کمرہ ہوتاہے اور ہر کمرے میں طرح طرح کی چیزوں کی بہتات ہوتی ہے مگر گھر کی آرائش اور سجاوٹ کے لیے یہاں بھی واقفیت و معلومات کی ضرورت ہے کیونکہ آرائش کے اصول برتے بغیر چیزوں کی بہتات سے ناموزوں ماحول پیدا ہوتا ہے۔متوسط گھرانے کی خانہ دار خاتون کو آرائش خانہ کی طرف توجہ دیتے وقت روپیہ پیسہ کی قلت کے علاوہ جگہ کی کمی بھی محسوس ہوتی ہے،لیکن اس کے باوجود خانہ دار خاتون کو اور گھر لے دوسرے لوگوں کو یہ کوشش کرنی چاہیے کہ ان کے گھر کا ماحول آرام دہ،خوشگوار اور ہر ایک کے لیے تسلی بخش رہے پر چھوٹا بڑا اپنے گھر کے شائستہ اور ستھرے ماحول پر فخر اور دلی خوشی محسوس کرے۔موجودہ دور میں مشینی اور سائنسی ترقی کی بنا پر لاتعداد ایسی چیزیں بازر میں ملتی ہیں جن کی موجودگی سے آرام مل سکتا ہے جن کے استعمال سے کام آسان ہوسکتا ہے اور زندگی خوشگوار بن سکتی ہیں لیکن ان کے حصول کے لیے ان کی قیمت ادا کرنی پڑتی ہے اور متوسط گھروں میں آمدنی اور اخراجات کی کشاکشیہمیشہ رہی ہے لیکن پھر بھی دوسری بہت سی ضروریات کے پیش نظر آمدنی کا محدود حصہ آرائش خانہ کی مد میں خرچ کیا جاسکتا ہے۔اس مد میں خرچ سے پہلے کا تخمینہ لگانے کے لیے ضروری ہے کہ ضروریات کو ان کی اہمیت کے لحاظ سے جانچا جائے۔قیمت کا صیح اندازہ لگانے کے لیے بازار کا جائزہ لینے کی ضرورت ہوگی،اور چیزوں کا انتخاب کرنے کے لیے یہ معلوم کرنا ہوگا کہ ساخت استعمال کی نوعیت رنگ و روغن آرائشی و نگار کی وجہ سے کوئی سی چیز مناسب رہے گی، بازار سے چیزیں خریدنے سے تو بہتر یہ ہے کہ کاریگروں سے بنوالی جائیں اور اشیائے ساخت ان کو خرید کردے دی جائیں۔اس کے لیے بھی پہلے سے تخمینہ لگانے کی ضرورت ہوتی ہے۔کاریگروں سے گھر کا کام کروانے سے پہلے اس بات کا یقین ہونا چاہیے کہ کاریگر اپنے کام میں ماہر ہے۔کوئی چیز خریدی جارہی ہو یا بنوائی جا رہی ہو ہر حالت میں یہ معلوم ہونا چاہیے کہ ساخت استعمال کی نوعیت رنگ و روغن اور آرائشی نقش و نگار کی وجہ سے کون سی چیز مناسب رہے گی اور آمدنی کا بہتر استعمال کیا ہوسکتا ہے۔فرنییچر پردے اور قالین کی گرانی کی وجہ سے ساری چیزیں بیک وقت نہیں خریدی جاسکیں اس لیے بہتر ہے کہ جس چیز کی ضرورتاشد ہے وہ پہلے خریدی جائے مگر کسی بھی ایک چیز کو خریدتے وقت آرائش کا پورا پلان ذہن میں ہونا چاہیے بغیر پلان کے وقتاً فوقتاً چیزیں خریدنے میں بے ربطی اور بر رنگی کا اح احتہال ہوتا ہے۔ایسی چیزیں جو رنگ اور نمونے کے لحاظ سے مخصوص ہوں ان کی ایک ساتھ خریداری بہتر ہے کیونکہ ہوسکتا ہے دو چار ماہ کے بعد و ہ چیز بازار میں نہ ملے مثال کے طور پر پورے کمرے کے پردے ایک ساتھ لینا بہتر ہے بجائے اس کے کہ وقتاً فوقتاًخریدے جائیں۔

(0) ووٹ وصول ہوئے