بند کریں
خواتین مضامینگھر کی آرائشباورچی خانے کا لکڑی کا سازوسامان

مزید گھر کی آرائش

پچھلے مضامین - مزید مضامین
باورچی خانے کا لکڑی کا سازوسامان
ہ اچھی کوالٹی کی لکڑی کو پسند کریں کیونکہ گھٹیا قسم کی لکڑی ٹیڑھی ہوجاتی ہیں اس کے علاوہ لکڑی پوری طرح باورچی خانے کا لکڑی کا سازوساما

باورچی خانے کا لکڑی کا سازوسامان:
باورچی خانے میں استعمال ہونے والی لکڑی کی اشیاء عام طور پر سفید لکڑی سے بنائی جاتی ہیں انہیں خریدتے وقت ہمیشہ اچھی کوالٹی کی لکڑی کو پسند کریں کیونکہ گھٹیا قسم کی لکڑی ٹیڑھی ہوجاتی ہیں اس کے علاوہ لکڑی پوری طرح باورچی خانے کا لکڑی کا سازوسامان:
باورچی خانے میں استعمال ہونے والی لکڑی کی اشیاء عام طور پر سفید لکڑی سے بنائی جاتی ہیں انہیں خریدتے وقت ہمیشہ اچھی کوالٹی کی لکڑی کو پسند کریں کیونکہ گھٹیا قسم کی لکڑی ٹیڑھی ہوجاتی ہیں اس کے علاوہ لکڑی پوری طرح سوکھی ہونی چاہیے ورنہ اشیا استعمال جو بازار میں دستیاب ہیں درج ذیل ہیں، پیسٹری بورڈ،سبزی کاٹنے کا بورڈ،چکلااور بیلن،چمچ،بریڈ بورڈ،اور پلیٹ ریک اس کے علاوہ میز کرسیاں چوکیاں پیڑھیاں وغیرہ بھی لکٹی کی ہوتی ہے،
پیسٹری بورڈ: پیسٹری بورڈ خریدتے وقت دیکھیں کہ اس میں جوڑ نہ ہو ایک ہی ٹکڑا ہو بورڈ سپاٹ اور ہموار ہونا چاہیے اورلکڑی میں دراڑ اور گانٹھیں موجود نہ ہوں سائز میں مناسب ہونے چاہیں،
چکلا بیلن: ذرا سخت قسم کی لکڑی کا بنا ہوا ہو چکلا بیلن ہموار مضبوط اوروزنی ہونا چاہیے تاکہ استعمال میں زیادہ قوت نہ صرف کرنی پڑے،
سبزی کاٹنے کا تختہ: اس کی کم از کم ایک انچ موٹائی ہونی چاہیں پیسٹری بورڈ سے سائز میں چھوٹی لیکن وزنی ہونا چاہیے مکمل طور پر سپاٹ اور ہموار ہونا چاہیے،گانٹھیں اورجھریاں موجود نہ ہوں استعمال کے فوراً بعد دھودینا چاہیے تاکہ داغ دھبے نہ پڑنے پائیں،
پلیٹ ریک: اس میں مختلف سائز کی پلیٹوں کو رکھنے کے لیے جگہ ہونی چاہیے مضبوط ہو اور لکڑی عمدہ قسم کی ہو ورنہ پانی لگنے سے پھول کر خراب ہوجائے گی،
کرسیاں اور میزیں: یہ بھی مضبوط لکڑی کی بنی ہونی چاہیں ان کی اونچائی آرام دہ ہونی چاہیے میز میں اگر دراز لگے ہوں تو چیزیں رکھنے کے لیے جگہ مہیا ہوجاتی ہیں کرسی او ر میزوغیرہ پر پالش ضرور کروالینی چاہیے پالش اس قسم کی ہو جو آسانی اور آرام سے صاف کی جاسکے اور داغ اتارنے بھی ممکن ہوں اسی طرح پیڑھیاں اور چوکیاں بھی مناسب اور آرام دہ اونچائی کی ہونی چاہیں،
چولھے اور سٹوو: چولھے اور سٹوو کے درست انتخاب سے کوئی انکار نہیں کرسکتا ہے لیکن متعدد کمپنیاں مختلف ماڈل کے سٹوو بنانے لگی ہیں جس سے ان کا انتخاب ایک دشوار مسئلہ بن گیا ہے سٹوو سنگل بھی ہوتے ہیں اورڈبل بھی جہاں تک ان دو خصوصیات کا تعلق ہے ان کا انتخاب کا انحصار خاندان کی پسند اور ضرورت پر ہے تیل گیس اور بجلی کے چولہے کا انتخاب بہت حد تک ان چیزوں کی دستیابی اور خاندان کے بجٹ پر ہے مثال کے طور پر تیل کا چولھا متوسط گھرانے خریدنے اور استعمال کرنے کے بھی اہل ہیں،گیس کا انحصار علاقے میں اس کی فراہمی پر ہے اور بجلی ایندھن تو صرف خاندان کی معاشی حالت کے پیش نظر ہی منتخب کی جاسکتی ہیں۔تیل کا چولہا خریدتے وقت چادر کی موٹائی اور مضبوطی کا خیال رکھیں ٹنکی اگر دھات کی ہے تو بھی مضبوط اور موٹی چادرکی بنی ہونی چاہیے اگر شیشے کی ٹنکی ہو تو بہتر ہے کیونکہ اس میں تیل کی مقدارنظر آتی رہتی ہیں سٹوو کی سطح یا تو پالش کی ہوئی ہوتی ہے یا بغیر پالش کے سٹیل لیس سٹیل یا کرومیم کی ہوتی ہے بہتر ہے کہ بغیر پالش کی کرومیم کی سطح کا سٹوو خریدا جائے کیونکہ پالش دار سطح اول تو صاف کرنی مشکل ہوتی ہے اور پھر دوسرے تھوڑے عرصہ کے استعمال کے بعد پالش اترنے لگتی ہے اور چولھا بدنما دکھائی دینے لگتا ہے،ڈبل چولھے میں اگرتیل کی ٹنکی دونوں حصوں کے درمیان واقع ہو تو ایسا چولھا استعمال میں آرام دہ نہیں ہوتا،لیکن اگر ایک سرے پر ہو تو بہتر ہے چولھے کی ساخت اچھی متوازن اور مناسب ہونی لازمی ہے اگر متوازن نہ ہوگی تو تیل روانی کے ساتھ نہیں آئے گا اور نتیجہ چولھا ٹھیک نہیں چلے گا جو کمپنیاں قابل اعتماد ہوں اور گارنٹی پیش کرتی ہوں صرف ان کی تیار کردہ اشیا ہی منتخب کرنا چاہیں،ویسے تو چولھے کا ماڈل اور ڈیزائن انفرادی پسند کا سوال ہے لیکن پھر بھی چولھا خریدتے وقت مندرجہ ذیل امور کو ذہن میں رکھیں:
چولھا موزوں اور مناسب سائز کا ہونا چاہیے،
۲۔چولھا دھواں اور کالک نہ چھوڑتا ہو،
۳۔اس کی صفائی آسان اور سہل ہونی چاہیے
۴۔ٹنکی والا حصہ بند ہونا چاہیے،
چولھے کی بتی والا حصہ کھول کر دیکھیں اور اس کے بعد فٹ کریں تاکہ معلوم ہوجائے کہ تمام حصے بالکل درست حالت میں ہیں۔

(0) ووٹ وصول ہوئے