Eid Ghar Ki Aaraish

عید او ر گھر کی آرائش

جمعرات جون

Eid Ghar Ki Aaraish
نسرین شاہین
عید کے موقع پر خواتین اپنی آرائش و خوب صورتی کے ساتھ ساتھ گھر کو سجانے اور سنوارنے پر بھی توجہ دیتی ہیں، تاکہ عید کے دن گھر آنے والے مہمانوں پر اچھا تاثر قائم ہو۔اکثر خواتین فنکارانہ ذوق رکھتی ہیں اور گھر کے ہر کمرے کی سجاوٹ کا ہنر جانتی ہیں ۔بعض خواتین گھر کی سجاوٹ کے نام پر صرف ڈرائنگ روم ہی کو قیمتی آرائشی اشیاء سے سجادیتی ہیں اور سمجھتی ہیں کہ انھوں نے اپنا گھر سجالیا ہے ۔

وہ گھر کے دیگر حصوں کو نظر انداز کر دیتی ہیں ،جو ایک بڑی غلطی ہے ۔
ڈرائنگ روم،بیڈ روم،لاؤنج اور ڈائننگ روم کے علاوہ دیگر حصے بھی گھر کا ہی حصہ شمار ہوتے ہیں، جنھیں کسی طرح بھی نظر انداز نہیں کیا جا سکتا،کیوں کہ انھیں نظر انداز کرنے سے پورے گھر کی خوب صورت متاثر ہوتی ہے،جیسے بالکنی(گیلری)،سیڑھیاں اور گھر کے کونے (کارنرز)وغیرہ۔

(جاری ہے)

گھر کی سجاوٹ میں سب سے پہلے ڈرائنگ روم پر توجہ دیں۔قالین دھلوالیں یا پھر ویکیوم سے خوب اچھی طرح صاف کرلیں۔ فرنیچر پر پالش کروالیں۔نئے پردے خریدلیں۔موسم گرمی کا ہے تو کھڑکیوں اور دروازوں سے بھاری پردے ہٹاکر قدرے ہلکے پردے لٹکائیں،تاکہ ہوا کا گزررہے۔
بیڈ روم کو صاف کرلیں اور بستروں پر صاف ستھری چادریں بچھادیں ۔صاف ستھرا بیڈ روم سکون و راحت کاباعث ہوتا ہے ۔

ڈائننگ روم کی صفائی کے ساتھ میز کی اشیاء ترتیب سے رکھنا ضروری ہے ،تاکہ کھانے کے وقت وہاں ضرورت کی ہر چیز موجود ملے اور کھانے پر پوری توجہ مرکوز رہے۔لاؤنج پر بھی توجہ دیں۔یہ حصہ صاف ستھرا ہواور یہاں موجود چیزیں ترتیب سے رکھی ہوئی ہوں۔لاؤنج گھر کا وہ حصہ ہوتا ہے ،جو سب سے زیادہ استعمال ہوتا ہے ،یہاں پر روشنی کا بھی مناسب انتظام ہونا چاہیے۔


بالکنی(BALCONY)گھر کا وہ حصہ ہے ،جس پر کم ہی دھیان دیا جاتا ہے ۔اسے صرف کپڑے سکھانے کے لیے ہی استعمال میں لایا جاتا ہے ،حالانکہ اسے خوب صورت بنا کر کئی مقاصد کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے ۔بالکنی پر کام کرتے ہوئے پہلے یہ فیصلہ کرلیں کہ آپ کو کس مقصد کے لیے جگہ درکار ہے ۔بالکنی کھلی رکھنی ہے یا بند کرنی ہے۔یہ بیٹھنے ،باغبانی یا گھر کا فالتو سامان رکھنے کے لیے استعمال کرنی ہے۔

فلیٹوں میں رہائش پذیر لوگوں کے لیے بالکنی وہ جگہ ہے ،جہاں سے آسمان کا نظارہ کیا جا سکتاہے۔
اگر آپ نے بالکنی کو کھلا رکھنے کا فیصلہ کیا ہے تو اسے دُہرے کام میں لائیں،یعنی بیٹھنے کے لیے بھی اور باغیچے کے لیے بھی۔اس میں کوئی زیادہ محنت بھی درکار نہیں ہوگی اور نہ شان وشوکت کا معاملہ درپیش ہو گا۔چند پودے،چند پھولوں کے گملے اور تھوڑے سے گول پتھر لے کر بالکنی میں چھوٹا ساباغیچہ تیار کرلیں۔

جب باغیچہ تیار ہوجائے تو بالکنی میں ہریالی بھی ہوجائے گی اور بیٹھنے کی گنجائش بھی باقی رہے گی۔اگر مزید گنجائش ہے تو ایک دو کرسیاں یا چھوٹی بنچ رکھ دیں۔اگر اتنی جگہ بھی باقی نہیں بچی تو فرش پر چھوٹی سی چٹائی یا پلاسٹک بچھادیں،جسے لپیٹ کر رکھا جا سکتاہے۔
عیدکے دنوں میں اپنے چند دوستوں یا سہیلیوں کے ساتھ یہاں بیٹھیں اور اپنے بالکنی باغیچے کو ہرا بھرادیکھیں،جو آپ کو فرحت وسکون دے گا۔

بے شک یہ کرنے کے مقابلے میں کہنا آسان ہے ،کیوں کہ گملوں میں باقاعدگی سے پانی بھی دینا ہو گا ،کھاد ڈالنے کا خیال بھی رکھنا پڑے گا اور دھوپ بھی لگانی پڑے گی۔ساتھ ہی روزانہ کرسیوں یا چٹائی کی صفائی بھی کرنی ہوگی ،لیکن ذرا اُس خوشی اور لطف کے بارے میں بھی سوچیں ،جو آپ کو یہاں تھوڑی دیر بیٹھ کر میسر آئے گا۔گھر آنے والے مہمانوں کو بھی بالکنی میں آکر خوشی کا احساس ہو گا۔


اگر آپ بالکنی کو باغیچے میں تبدیل نہیں کرنا چاہتی اور آپ نے اسے کمرے میں شامل کرنے کا فیصلہ کیا ہے تو آ پ کے پاس دو مقاصد ہیں۔اسے کمرے میں تبدیل کردیں یا اپنے اُٹھنے بیٹھنے کے کمرے میں شامل کرلیں۔پہلے مقصد کے لیے بالکنی کا وسیع ہونا ضروری ہے ۔اسے اس طرح ترتیب دیں کہ یہ بند ہوجائے ،لیکن تازہ ہوا کے لیے کچھ حصہ کھلا رہے۔اب یہاں پر ایک طرف کتابوں کی الماری رکھ دیں اور اسے مطالعے کے لیے استعمال کریں ۔

یہ پُر سکون ،روشن اور ہوا دار گوشہ نہ صرف پڑھنے کے لیے بہترین ہے، بلکہ لکھنے کے لیے بھی اچھا ہے۔ دوسرے مقصد کے لیے اگر آپ شیشے کے پھسلواں دروازے(سلائڈنگ ڈورز)لگوالیں تو آپ کو صرف دروازے کھولنا ہوں گے اور اس طرح یہ خود بخود آپ کے کمرے کا حصہ بن جائے گا۔اس میں نہ کسی قسم کی تبدیلی کرنے کی ضرورت ہے اور نہ دیواروں پر کچھ کرنا ہو گا۔پھسلواں دروازے کھولنے سے کشادگی بھی رہے گی اور ہوا کی آمد ورفت بھی۔

اس کے علاوہ قدرتی روشنی بھی خوب آئے گی۔
زینہ بھی گھر کا ایک ایسا ہی حصہ ہے،جسے اکثر نظر انداز کیا جاتا ہے ،لیکن آپ اسے نظر انداز نہ کریں،
خاص طور پر اگر وہ داخلی حصے یا اُٹھنے بیٹھنے کے کمرے میں ہو۔اگر زینے ایک میٹریا تین فیٹ یا اس سے زیادہ چوڑے ہوں تو آپ ان میں قدرے سجاوٹ بھی کر سکتی ہیں ،خاص طور پر زینوں کے درمیان چوڑی جگہ کا اچھا استعمال ہو سکتا ہے،لیکن یہ بات ذہن نشین رہے کہ حرکت کرنے یا گھومنے پھرنے میں کسی قسم کی رکاوٹ پیش نہ آئے۔

مصنوعی پودوں کے چند گملے بھی آپ اس جگہ پر سجاسکتی ہیں۔
آپ زینے کے اندرونی حصوں،یعنی دائیں بائیں آرائشی اشیاء رکھ سکتی ہیں۔بہترین طریقہ ریلنگ سے سجاوٹی اشیاء لٹکانا ہے۔سیڑھیاں اترتے یا چڑھتے وقت گھر کے لوگوں یا مہمانوں کو یہ احساس بھی نہیں ہونا چاہیے کہ ان آرائشی اشیا ء کی بنا پر وہ اپنا توازن بر قرار نہیں رکھ سکیں گے۔نہ یہ اشیاء اترنے چڑھنے کے راستے میں رکاوٹ بنیں۔

کوئی ایسی آرائشی شے وہاں نہ رکھیں،جسے صفائی کے لیے یاپانی دینے کے لیے بار بار اوپر نیچے لانا لے جانا پڑے۔زینے کی سجاوٹ کا سب سے آسان طریقہ یہ ہے کہ وہاں چند گملے رکھ دیے جائیں،لیکن قدرتی پودوں کو تازہ ہوا،قدرتی روشنی اور باقاعدہ پانی دینا ضروری ہوتاہے ،اس بات کا خاص خیال رکھیں۔
زینے کے نیچے کا حصہ بھی کار آمد بنایا جا سکتا ہے ۔

اسے صاف ستھرا کرکے یہاں ایک کونے میں استری کا اسٹینڈ رکھ دیں اور اس گوشے کو کپڑوں پر استری کرنے کے لیے مخصوص کرلیں۔اس گوشے کو مطالعے کے لیے بھی استعمال کیا جا سکتا ہے ۔اگر یہاں قریب میں کوئی کھڑکی ہے تو اچھی بات ہے ،اس لیے کہ قدرتی روشنی اور ہوا سے بہتر مصنوعی روشنی یا ہوا نہیں ہوسکتی۔اگر کھڑکی نہیں ہے تو روشنی کا مناسب انتظام کرلیں۔

یہاں ایک آرام دہ کرسی رکھ دیں اور جب بھی موقع ملے،کتاب لے کر یہاں بیٹھ جائیں اور اطمینان وسکون سے مطالعہ کریں۔
زینے کے نیچے کی جگہ کو آپ بچوں کو اسکول کا ہوم ورک کرانے کے لیے بھی استعمال کر سکتی ہیں اور یہاں چھوٹی سی میز اور کرسی رکھ کر کمپیوٹر بھی رکھا جا سکتا ہے ۔گنجائش ہونے کی صورت میں یہاں دو تین کرسیاں یا چٹائی بچھا کر بچوں کے دوستوں کے لیے الگ گوشہ بنالیں،تاکہ وہ سب مل بیٹھ کر خوب باتیں کیں۔

اس طرح بڑوں کی باتوں میں خلل بھی نہیں پڑے گا۔یہ ذمے داری خاتون خانہ کے ساتھ گھر کے مردوں کی بھی ہے کہ وہ گھر کے غیر اہم گوشوں پر توجہ دیں اور انھیں خوب صورت بنانے میں اپنی تخلیقی صلاحیتوں کو بروئے کارلائیں۔عید کے موقع پر اس کا آغاز کریں،دیکھنے والوں کو اچھا لگے تو یہ آپ کی محنت کا ثمر ہو گا۔
تاریخ اشاعت: 2019-06-13

Your Thoughts and Comments

Special Home Interior & Decoration - Ghar Ki Aaraish article for women, read "Eid Ghar Ki Aaraish" and dozens of other articles for women in Urdu to change the way they live life. Read interesting tips & Suggestions in UrduPoint women section.