Furniture Ka Daag

فرنیچر کے داغ

Furniture Ka Daag

خوشبو،دوائیاں،چائے وغیرہ یا الکحل اگر میز یا کرسی پر گر جائیں تو دھبے پڑجاتے ہیں اس لیے یہ ضروری ہے کہ فوراً یہ نشانات دور کیے جائیں اس کے لیے اگر فرنیچر کو باقاعدگی سے پالش کرلیا جائے تو یہ داغ دور ہوجاتے ہیں فرنیچر کے لئے تین قسم کی پالش آپ گھر پر ہی بنا سکتے ہیں،
۱۔
مائع موم کی پالش:ذرا سی روئی پر پالش لگا فرنیچر کو رگڑنے سے داغ دھبے دور ہوجاتے ہیں اور فرنیچر چمک جاتا ہے۔


۲۔سگرٹ کی راکھ میں السی کا تیل Linseed oil ملا کر اس آمیزے سے میز پر پالش کی جائے۔
۳۔تارپین کا تیل،السی کا تیل،سرکہ اور سپرٹ ہم وزن ملا نے سے بہترین فرنیچر پالش تیار ہوجاتی ہے اس پالش کو پرانے کپڑے کی دھجی سے فرنیچر پر اچھی طرح لگائیں چند منٹ کے بعد کسی کپڑے سے اچھی طرح رگڑ کر صاف کرلیں داغ دھبے بھی دور ہوجائیں گے اور فرنیچر بھی چمک اُٹھے گا،
لکڑی کے فرنیچر پر بعض اوقات لمبی لمبی لکیریں یا دراڑیں سی پڑجاتی ہے ان کو گیلے سیاہی چوس کاغذ اورگرم استری سے دورکیا جاسکتا ہے سیاہی چوس کو اچھی طرح پانی میں تر کرکے اس کی پانچ چھ تہیں بنالیں اس کو داغ یا ٹکیروں پر رکھ کر اوپر گرم استری رکھیں استری کا پورا وزن سیاہی چوس پر نہ ڈالیں بلکہ ہاتھ ہی میں تھامے رکھیں پانچ منٹ تک بار بار استری رکھیں اور اٹھائیں پھر السی کے تیل سے پالش کریں نشانات دور ہوجائیں گے،
غسل خانے میں زنگ کے داغ:غسل خانوں میں زنگ کے داغ عموماً پڑجاتے ہیں ایک کپڑے کو سرکے میں ڈبو کر فرش پر یا بیسن
میں خوب رگڑیں داغ دور ہوجائیں گے،
کار کی گریس کا داغ:سب سے پہلے داغ پر ویزلین یا مکھن ملیں بعد میں کاربن ٹیٹرا کلورائیڈ یا بنزین میں ڈبو کر آہستہ آہستہ انگلیوں سے ملیں اگر کپڑا اس قسم کا ہے کہ دھویا جاسکتا ہے تو بعد میں صابن اور پانی سے دھو ڈالیں،
باورچی خانے کے برتنوں میں زنگ کے داغ:نمی رہنے کی وجہ سے برتنوں پر عموماً زنگ لگ جاتا ہے ہارڈ ٹائپنگ ربڑ کے رگڑنے سے یہ داغ فوراً دور کیے جاسکتے ہیں یا پھر پیرافین رگڑنے سے داغ دور ہوجائیں گے اگر برتنوں کو دھونے کے بعد سرسوں کے تیل یا زیتون کے تیل کی مالش کر دی جائے تو داغ لگیں گے ہی نہیں،
پھپھوندی کاداغ:
سب سے پہلے پانی اور صابن سے دھوئیں تازہ داغ ہوگا تو اُتر جائے گا داغ اگر صاف نہ ہو تو لیموں کے عرق اور نمک کے محلول میں ترکرکے دھوپ میں رکھ دیں داغ دور ہوجائے گا،
دیواروں اور دروازوں پر پنسلوں کے نشان:عام طور پر چھوٹے بچے پنسلوں اور قلموں سے دیواروں اور دروازوں پر تصویریں وغیرہ بناتے رہتے ہیں انہیں صاف کرنے کے لیے ایک صاف کپڑے کو ٹھنڈے پانی میں بھگو کر اچھی طرح نچوڑ لیں پھر اس پر سہاگہ(بورکس) چھڑک کر دیواروں اور دروازوں کے دھبوں پر رگڑیں،
شیشے کے داغ:
کھڑکیوں اوردروازوں کے شیشوں سے رنگ یا پٹین کے داغ دور کرنے کے لیے ان پر گرم سرکہ لگا کر رگڑیں اور معمولی سا سرکہ لگا کر خشک ہونے تک چھوڑدیں پھر کسی اونی کپڑے سے رگڑ کر صاف کردیں رنگ اور پٹین کے داغ بلیڈ سے کھرچ کر بھی صاف ہوسکتے ہیں لیکن اس طرح شیشوں پر خراشیں پیدا ہوجاتی ہے لہٰذا بلیڈ استعمال نہیں کرنا چاہیے۔

(جاری ہے)


دیوار پر کیل کا نشان:دیوار میں کیل ٹھوکنے سے عموماً سوراخ کے آس پاس سے پلستر اُکھڑ جاتا ہے اور دیوار کا یہ حصہ بدنما ہوجاتا ہے بعض اوقات کیل نکل جاتی ہے اور سوراخ باقی رہ جاتا ہے اسے مٹانے کے لیے برابر مقدار میں نمک اور میدے کی لئی بنالیں اور اسے سوراخ میں بھر کر چھری سے ہموار کردیں اگر دیوار رنگدار ہے تو لئی میں دیوار کے رنگ سے ملتا جلتا رنگ ملالیں دیورا کے رنگ سے رنگ کا شیڈ ملانے کے لیے بچوں کی رنگین پنسلیں بھی کام آسکتی ہے۔

تاریخ اشاعت: 2018-02-17

Your Thoughts and Comments

Special Home Interior & Decoration - Ghar Ki Aaraish article for women, read "Furniture Ka Daag" and dozens of other articles for women in Urdu to change the way they live life. Read interesting tips & Suggestions in UrduPoint women section.