بند کریں
خواتین مضامینگھر کی آرائشفرنیچرکی ترتیب

مزید گھر کی آرائش

پچھلے مضامین - مزید مضامین
فرنیچرکی ترتیب
چھوٹے کمروں میں فرنیچر کی ترتیب اگر مناسب طور پر نہ کی جائے تو گھٹن اور جگہ کی کمی کا احساس بہت زیادہ ہوتا ہے
فرنیچرکی ترتیب:
فرنیچر کی ہر چیز سے مکمل استفادہ حاصل کرنے کے لیے فرنیچر کو اچھی طرح ترتیب دینا ضروری ہے ایک خالی کمرے کی کیفیت ایسے کمرے سے بہت مختلف ہوتی ہیں جس میں فرنیچر رکھا ہوا ہے درودیوار سے جگہ کی احاطہ بندی ہوتی ہیں اس گھر ی ہوئی جگہ میں فرنیچر کی موجودگی سے جگہ اور زیادہ پر ہوجاتی ہیں،چھوٹے کمروں میں فرنیچر کی ترتیب اگر مناسب طور پر نہ کی جائے تو گھٹن اور جگہ کی کمی کا احساس بہت زیادہ ہوتا ہے اس طرح بڑے اور کشادہ کمرے میں اگر فرنیچر اچھی طرح نہ رکھا جائے تو جگہ خالی خالی معلوم ہوگی۔فرنیچر کی ترتیب کا بنیادی اصول یہ ہے کہ سب چیزیں آسانی کے ساتھ استعمال کی جاسکیں یعنی جو چیز جس مخصوص استعمال کے لیے خریدی گئی ہے وہ استعمال کی جگہ موجود ہو دوسرے فرنیچر کی مختلف چیزیں اس طرح ایک دوسرے کی مطابقت سے رکھی ہوں کہ ان کی درجہ بندی میں توازن اور تسلسل وغیرہ کی کیفیت ہو اور اگر جگہ تنگ ہو تو اس میں کشادگی کا احساس ہو اور اگر کمرہ بڑا وسیع ہے تو جگہ بھری بھری اور پر معلوم ہو،چھوٹے یا درمیانی سائز کمرے میں بھاری اور بڑی چیزیں دیوار کے قریب قریب رکھیں تاکہ درمیان میں جگہ کھلی رہیں یوں چیزوں کی ترتیب سے کمرے کی شکل (یعنی مستطیل،مربع شکل) کی مطابقت سے چیزوں کی گروہ بند ی ہوگی۔بڑے اور کھلے کمرے میں چیزوں جو دیوار سے متصل رکھنے کی بجائے دیوار سے دور ہٹا کر فرنیچر کی گروہ بندی کرنی چاہیے تاکہ کمرے کی کچھ کھلی جگہ فرنیچر کے پیچھے ہوجائے۔
چیزوں کے درمیان آپس میں مناسب فاصلہ ہونا چاہیے ایسی چیزیں جن کے درمیان سے گزرنے یا آنے جانے کی ضرورت نہیں پڑتی ان کو بہت قریب رکھا جاسکتا ہے لیکن اگر دو چیزوں کے درمیان گزرنے کے لیے راستے کی ضرورت ہے تو ان کے درمیانی مناسب فاصلہ ہونا ضروری ہے۔کمرے میں فرنیچر کی ترتیب اس طرح کرنی چاہیے کہ آنے جانے والے کو چیزوں کے بیچ سے نہ گزرنا پڑے ڈرائینگ روم میں فرنیچر کو اس طرح رکھنا چاہیے کہ اس پر بیٹھ کر لوگ ایک دوسرے سے بہ آسانی بات چیت کرسکیں اور کسی ایک شخص کی پشت دوسرے کی طرف نہ ہو یعنی سب ایک دوسرے کے مقابل بیٹھ سکیں صوفے اور کرسیوں کے درمیان یا وسط میں رکھی ہوئی میز اس طرح رکھی جائے کہ اس پر سے بیٹھے بیٹھے چیزیں اٹھانا اور رکھنا ممکن ہو،سرد جگہوں پر جاڑوں کے موسم میں فرنیچر کی ترتیب آتش دان کے گرد کرنی ہوتی ہیں لیکن اب ہیٹرکا استعمال عام ہوگیا ہے اور چونکہ ہیٹر کو کسی بھی جگہ رکھا جاسکتا ہے اس لیے فرنیچر کی فروہ بندی بدلنے کی ضرورت نہیں پڑتی۔ڈائینگ روم میں اکثر آتش دان بنایا جاتا ہے بیشتر وقت اس میں آگ جلانے کی سہولت نہیں ہوتی لیکن ساختی و آرائشی ڈیزائن کی وجہ سے توجہ کا مرکز ہوتا ہے کبھی کبھی آتش دان کا نمونہ بہت بھدا ہوتا ہے ایسی صورت میں فرنیچر کی درجہ بندی کچھ یوں کرنی چاہیے کہ اس کی طرف کم سے کم توجہ جائے لیکن اگر آتش دان اپنے نمونے اور رنگ کی وجہ سے خوبصورت اور دیدہ زیب ہے تو فرنیچر کی ترتیب میں اس کو نمایاں کرنا چاہیے۔کھانے کے کمرے میں فرنیچر کی ترتیب سے زیادہ تبدیلی کی جاسکتی ہے کیونکہ کھانے کی میز وسط میں رکھنے کے بعد ادھر ادگھر جو جگہ بچے کی اس میں سائیڈ بورڈ،الماری،ٹرالی اور دوسری چیزیں وغیرہ رکھی جاسکتی ہیں کھانے کی میز کے ساتھ جو کرسیاں رکھی جائیں ان کا آپس کا درمیانی فاصلہ مناسب ہونا چاہیے اگر گھر میں اشخاص کم ہیں تو کھانے کی میز ایک طرف دیوار سے لگا کر بھی رکھی جاسکتی ہے۔چھوٹے گھروں میں ڈرائینگ روم اور کھانے کا کمرہ ایک ہی ہال میں ہوتا ہے یا دونوں کمروں کے درمیان بڑا در ہوتا ہے ایسی حالت میں دونوں کمروں کے فرنیچر کی ترتیب اس طرح کرنی ہوگی کہ دو مختلف کمروں کی کیفیت پیدا ہوسکے مثلاً سائڈ بورڈ یا برتنوں کی الماری یا کسی دوسری طرح کا پارٹیشن درمیانی میں لگایا جاسکتا ہے سونے کے کمرے کا مخصوص فرنیچر مسہری اور پلنگ ہوتا ہے مسلمان گھرانو ں میں پلنگ کا سرہانہ اور پائنتی ایک خاص سمت کی جاتی ہیں اس کی مناسبت سے دوسری چیزیں رکھی جاتی ہیں اصولی طور پر کپڑوں کی الماری ڈریسنگ ٹیبل پلنگ وغیرہ کے درمیان اتنا فاصلہ ضرور ہونا چاہیے کہ آسانی سے گزرا جاسکے اور نیم خوابی یا کم روشنی میں اٹھا بیٹھا اور چلا جائے تو کسی چیز سے ٹکرانے کا خدشہ نہ ہو۔
فرنیچر کا انتخاب کرتے وقت اگر کمرے کی وسعت کا خیال رکھا گیا ہے تو یقینا فرنیچر کمرے کے سائز کے مطابق ہوگا اور اگر ترتیب اس طرح کی جائے کہ توازن اور تسلسل برقرار رہے اور استعمال کرتے ہوئے آسانی ہو تو وہ ترتیب مکمل طور پر تسلی بخش ہوگی۔
روشنی لیمپ،لیمپ شیڈ: شہر کے زیادہ تر گھروں میں بجلی کی روشنی کا انتظام ہے تعمیری طور پر عموماً بجلی کا انتظام ناقص ہوتاہے اس لیے ضرورت اس بات کی پڑتی ہیں کہ لیمپ وغیرہ استعمال کیے جائیں روشنی اندھیرے کو دور کرئے رات کے وقت کام کاج آسان بنانے کے لیے انتہائی ضروری ہے لیکن اس کے علاوہ روشنی کی کمی بیشی سے کمرے میں آرائشی اور رومانی کیفیت بھی پیدا کی جاسکتی ہیں گھر میں عمومی اور خصوصی دو طرح کی روشنی درکار ہوتی ہے چھت سے لٹکے یا دیوار پر لگے ہوئے بلب سے عمومی روشنی مہیا ہوتی ہیں،اونچائی سے پڑنے کی وجہ سے روشنی ہر طرف پھیلتی ہے خاص شیڈ لگا کر روشنی کو کس خاص سمت میں ڈالا جاسکتاہے۔لیمپ اور اس پر لگے ہوئے شیڈ سے خصوصی روشنی کا انتظام کیا جاسکتاہے ،لیمپ میز پر رکھنے والا ہو یا زمین پر اس کے دو حصے توجہ طلب ہوتے ہیں وہ حصہ جس کو بیس(Base) کہتے ہیں اور دوسرا اس کا شیڈ (Shade) یہ دونوں حصے بناوٹ کے لحاظ سے مختلف ہوتے ہیں لیمپ کی خوشنمائی کا انحصار دونوں حصوں پر ہوتا ہے ان دونوں حصوں کی بناوٹی اشیا اور رنگ و نمونے میں ربط ہو تو لیمپ اچھا معلوم ہوتا ہے گھر کی آرائش اس وقت تک مکمل نہیں ہوتی جب تک توجہ کے ساتھ روشنی کا مناسب انتظام نہ کیا جائے اس سلسلے میں دو باتیں اہم ہیں کہ روشنی کہاں کہاں سے پڑتی ہے یا روشنی کا منبع کیا ہے اور روشنی کو کس طرح اور کس قسم کے شیڈ سے کسی خاص سمت ڈالا جاسکتا ہے،اس لحاظ سے لیمپ اور لیمپ شیڈ خاص اہمیت رکھتے ہیں ان کا چناؤ اور ترتیب سے ماحول کی خوبصورتی کو دوبالا کیا جاسکتاہے دن کے وقت جب روشنی جلائی نہیں جاتی جب بھی لیمپ اور لیمپ شیڈ کے رنگ و نمونے کا اثر پورے ماحول پر پڑتا ہے۔

(0) ووٹ وصول ہوئے