بند کریں
خواتین مضامینگھر کی آرائشگھر کے لیے فرشی قالین اور دریاں وغیرہ

مزید گھر کی آرائش

پچھلے مضامین - مزید مضامین
گھر کے لیے فرشی قالین اور دریاں وغیرہ
ترکمانی قالین عموماً سرخ رنگ میں بنائے جاتے ہیں اس کے مقابلے میں کاکشین قالین میں بہت سے نمونے اور رنگ ملتے ہیں

گھر کے لیے فرشی قالین اور دریاں وغیرہ:
تعمیر کے اعتبار سے فرش کچے اور یک دو طرح کے ہوتے ہیں کچے فرش مٹی کے ہوتے ہیں مٹی اور سوکھی گھاس کا لیپ کرکے ان کو ہموار کردیا جاتا ہے عام طور پر گاؤں کے گھروں کے فرش کچے ہوتے ہیں شہروں میں پکے فرش عام پائے جاتے ہیں،فرش کا ہموار و یکساں ہونا لازمی ہے پکے فرش اینٹ،سیمنٹ،کنکریٹ،پتھر،ٹائل وغیرہ کے بنائے جاتے ہیں،لکڑی کے فرش مہنگے ہونے کی وجہ سے زیادہ عام نہیں ہیں،برآمدوں کے فرش اینٹ کے بنائے جاتے ہیں فرش کی اینٹیں اگر قریب قریب اچھی طرح جڑی ہوں تو فرش صاف کرنا اور صاف رکھنا آسان ہوتا ہے ورنہ اینٹوں کے درمیان دراڑوں میں گرد و غبار جمع ہوتا رہتاہے،اینٹوں کی مدد سے فرش پر طرح طرح کے ڈیزائن بنائے جاسکتے ہیں۔اینٹ کے فرش کی سطح ناہموار اور کھردری ہوتی ہیں کمروں میں سیمنٹ کے ساتھ چپس ملاکر فرش کی سطح زیادہ خوبصورت بنادی جاتی ہیں رنگین سیمنٹ کے فرش بھی بنائے جاتے ہیں۔سیمنٹ کے فرش سخت ہوتے ہیں ان پر چلنے پھرنے چیزیں اٹھاتے رکھنے پربہت شور ہوتا ہے،یہ فرش گرمی میں دھوپ کی نماز اور جاڑوں میں ٹھنڈ کو جذب نہیں کرتے ان کے مقابلے میں پتھر کے فرش جلد گرم اور سرد ہوجاتے ہیں۔سیمنٹ کے ساتھ پتھر کے چھوٹے چھوٹے ٹکڑے اور ریزے ملا کر جو فرش تیار کیے جاتے ہیں ان کو چپس(Chips) کے فرش کہتے ہیں سادہ سیمنٹ کے فرش کے مقابلے میں چپس کے فرش خوبصورت اور دلکش معلوم ہوتے ہیں چپس کے فرش پر دھبے زیادہ نظر نہیں آتے ان کو صاف رکھنا بھی آسان ہوتا ہے پتھر کے فرش بہت مضبوط اور پائدار ہوتے ہیں مگر جن علاقوں میں پتھر قدرتی طور پر دستیاب نہیں وہاں پتھر کے فرش بہت مہنگے ثابت ہوتے ہیں۔فرش پر اکثر فرشی حاشیے یا رنگین بیل بوٹے بنا کر ان کو زیادہ خوبصورت بنادیا جاتا ہے پرانے گھروں کے فرش بیل بوٹوں یا اقلیدسی نمونوں سے پر ہوتے تھے اب عموماً سادہ فرش بنتے ہیں فرش کی سطحی سختی کو کم کرنے اور رہن سہن کو آرام دہ بنانے کے لیے چٹائیاں،قالین اور دریاں استعمال کی جاتی ہیں ان فرشی اشیاء کے اپنے رنگ اور نمونے ہوتے ہیں اگر فرش پر پہلے سے کچھ نمونے بنے ہوئے ہوں تو ان پر بچھی ہوئی فرشی اشیاء کے نمونے مل کر ہیجان سا پیدا کردیتے ہیں ،اکثر فرشی نمونے اس قدر توجہ طلب ہوتے ہیں کہ ان پر چلنا پھرنا مشکل ہوجاتا ہے گھروں کے فرشوں پر ایسے نقشوں نگاربنانے چاہیے جن میں بہت ہلچل نہ ہو اور جو بہت زیادہ الجھے ہوئے نہ ہوں،بہتر تویہ ہے کہ اچھے خام مال کے استعمال میں سے سادہ اور اچھی قسم کا فرش بنالیا جائے اور جب بھی استطاعت ہو اس پر دری یا قالین ڈال دیا جائے فرشی اشیا کی موجودگی میں فرش کی سختی کم محسوس ہوتی ہیں۔زمین کی ٹھنڈک سے بھی حفاظت رہتی ہیں ،چیزیں گرنے پر جلد ٹوٹتی نہیں اور چلتے پھرتے بات چیت کرتے وقت گونج کم ہوتی ہیں نظر کو قالین یا دری کی نرم سطح کی وجہ سے نرمی کا احساس ہوتا ہے۔
چٹائی دری اور قالیم چونکہ فرش کی بڑی سطح کو ڈھانکتے ہیں اس لیے ان کی موجودگی میں کمرے کا مجموعی ماحول بہت متاثر ہوتا ہے۔
چٹائیاں: پاکستان کے مختلف علاقوں میں طرح طرح کی چٹائیاں ملتی ہیں عام طور پر چٹائیاں گھاس بان یا ناریل کے پتوں سے بنائی جاتی ہیں،چٹائی مختلف سائز میں ملتی ہیں اور کئی چٹائیوں کو جوڑ کر بڑئی چٹائی بنائی جاسکتی ہیں چٹائیوں کی کم قیمت تو ہوتی ہیں مگر زیادہ پائیدار نہیں ہوتیں مختلف رنگوں میں ان کے بے شمار نمونے ہوتے ہیں۔
دری: دری خصوصی طور پرہندوستان پاکستان کی چیز ہے دریاں اونی یا سوتی یا اون و سوت کی ملاوٹ سے بنی جاتی ہیں اونی دریاں زیادہ پائیدار ہوتی ہیں ان میں گرد کم معلوم ہوتی ہیں دری میں قالین کی طرح مخملی کیفیت نہیں ہوتی مگر بنت کی وجہ سے دبازت ضروری ہوتی ہیں دری فرش کے علاوہ پلنگ اورتحت پر بچھانے کے لیے بھی استعمال کی جاتی ہیں مختلف سائز کی دریاں عام دستیاب ہیں۔لاہور،جہلم ،گجرات،سرگودھا، اور گکھڑ کی دریاں مشہور ہیں جھنگ کی دریوں میں رنگین دھاگے کے ساتھ سنہرا یا روپہلا تار بھی استعمال ہوتا ہے جس کی وجہ سے آرائشی پہلو زیادہ نمایاں ہوتا ہے خاص علاقوں کی دریاں اپنے مخصوص نمونوں اور رنگوں کی وجہ سے جدا گانہ حیثیت رکھتی ہیں بیرونی ممالک میں ہماری دریاں اپنے نمونے اور رنگ کی وجہ سے بہت شوق سے استعمال کی جاتی ہیں۔قالین کے مقابلے میں دری زیادہ سستی ہوتی ہیں۔اگر قالین خریدنے کی استطاعت نہیں ہے تو دری کے صیح انتخاب سے کمرے کو آرام دہ بنایا جاسکتا ہے اور ماحول میں جاذیت پیدا کی جاسکتی ہیں بشرطیکہ دری کے رنگوں اورنمونے سے توازن تسلسل یا فوقیت کی کیفیت پیدا ہو۔
قالین: قالین تین ہزار سال قبل مصر میں فرعونوں کے دربار میں استعمال ہوتے تھے عمر خیام کی رباعیات میں اکثر و بیشتر خوبصورت فرشی اشیا کا ذکر ملتا ہے۔ایشیائی ممالک میں بننے والے چھ خاص قسم کے قالین مندرجہ ذیل ہیں:
ایرانی،پاکستانی،اور ہندوستانی،ترکمانی،کاکیشین ترکی اور چینی۔
ایرانی قالین: ایرانی قالین پندرھویں صدی عیسویں سے مقبول ہونا شروع ہوئے ان قالینوں میں پھول پتوں کے علاوہ پرندوں اور جانوروں کے اعلیٰ نمونے ملتے ہیں نمونے عموماً سارے قالین پر پھیلے ہوتے ہیں،ان قالینوں میں رنگوں کا استعمال بہت ذوق و نزاکت کے ساتھ ہوتا ہے اگر ایرانی قالین چاہے پرانا ہی کیوں نہ ہو کسی جگہ بچھا ہو تو اس کا نکھار ہی کچھ اور ہوتا ہے اگر گھر میں کوئی ایسا قالین موجود ہو تو اس کی احتیاط اور سلیقے سے استعمال کرنا چاہیے۔
پاکستانی اور ہندوستانی قالین: پاکستان اور ہندوستان کی تاریخ اور ہنر و فن پر ایران کا اثر بہت گہرا پڑا ہے،پاکستان قالین ڈیزائن کے اعتبار سے بے حد تک ایرانی قالینوں کی طرح ہوتے ہیں گویا اب جدید نمونوں اور نت نئے رنگوں کے قالین عام بنائت جانے لگے ہیں۔
ترکمانی اور کاکشین قالین: ترکمانی قالین عموماً سرخ رنگ میں بنائے جاتے ہیں اس کے مقابلے میں کاکشین قالین میں بہت سے نمونے اور رنگ ملتے ہیں پرندوں جانوروں کی صورتیں اقلیدسی شکلیں اور انسانی شبہیں ان پر بنی ہوتی ہیں۔
ترکی قالین: یہ قالین شوخ رنگ کے ہوتے ہیں ان میں زیادہ تر پھولوں اور اقلیدسی شکلوں کے نمونے بنائے جاتے ہیں۔
چینی قالین: تاریخی چینی قالین اپنے نمونے اور رنگ کی وجہ سے سارے ممالک قالینوں سے مختلف ہوتے ہیں۔
فرشی اشیاء: براعظم ہندوپاکستان میں قالین بنانے کی صنعت نے دور مغلیہ میں فروغ بنایا قالین عموماً اونی اورسوتی ہوتے ہیں۔موجودہ دور میں پٹ سن اورکئی قسم کے دوسرے ریشوں کی ملاوٹ سے بھی قالین بنائے جارہے ہیں۔قالین ہاتھ اور مشین دونوں طرح سے بنائے جاتے ہیں ہاتھ کے بنے ہوئے قالین زیادہ پائدار ثابت ہوتے ہیں ہاتھ سے بنے ہوئے قالین مشین سے بنے ہوئے قالین سے کہیں زیادہ گراں پڑتے ہیں اس کے علاوہ اونی قالین اونی ریشے کی مطابقت سے مہنگے اور سستے ہوتے ہیں اعلیٰ قسم کے بڑے روئیں کا قالین نسبتاً زیادہ گہرا ہوتا ہے قالین کی پائداری کا انحصار اون کی قسم اور بنت کی زباذت پر ہوتا ہے قالین کی بنت پرکھنے کے لیے قالین کو پلٹ کر دیکھنا چاہیے کہ ہر مربع انچ میں کتنی گرہیں دی گئی ہیں قریب قریب روئیں والے قالین میں گرہیں چھوٹی اور گتھی ہوئی ہوں گی ایسا قالین زیادہ دبیز اور زیادہ دیرپا ہوتاہوگا۔
گذشتہ سالوں میں پاکستان میں قالین سازی کی صنعت نے بہت ترقی کی ہے یہی وجہ ہے کہ مناسب داموں پر اچھی خاصی اشیاء دستیاب ہوتے ہیں کشمیر کے غلیچے اپنے مخصوص نمونے اور رنگ کی وجہ سے بہت دلکش ہوتے ہیں۔ان کو بتانے میں بنت کی بجائے اون کے ریشے کو کسی موٹے کپڑے پر پھیلا کر گوند یا کسی لیس دار مصالحے سے دبا کر جمالیا جا تا ہے سوکھنے پر کپڑا رنگ کرلیا جاتا ہے۔نمدوں پر کشیدہ کاری میں انگور کے گچھوں اور بیلوں وغیرہ کے نمونے ملتے ہیں۔دیسی قالین میں روایتی و غیر روایتی دونوں طرح کے رنگ اور نمونے پائے جاتے ہیں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ فرشی اشیاء خواہ چٹائی ہو دری ہو یا قالین ان کا چناؤ کس طرح کیا جائے۔

(0) ووٹ وصول ہوئے