بند کریں
خواتین مضامینگھر کی آرائشگھر کی آرائش کے لیے مقابل رنگوں کا امتزاج

مزید گھر کی آرائش

پچھلے مضامین - مزید مضامین
گھر کی آرائش کے لیے مقابل رنگوں کا امتزاج
اس امتزاج کو خوشگوار رکھنے کے لیے ایک رنگ کم مقدار میں استعمال کرنا لازمی ہے
رنگوں کے دائرے میں موجود مقابل کے رنگ کسی جگہ یا چیز میں ایک ساتھ استعمال کیے جائیں تو مقابل رنگوں کا امتزاج پیدا ہوگا،گھاس کے قطعے پر جہاں سرخ پھول کھلے ہوئے ہوں یہ امتزاج اکثر ملے گا،اس طرح نیلے رنگ کو پیلے اور نارنجی کواودے کے ساتھ استعمال کیا جائے تومقابل رنگوں کا امتزاج ہوجائے گا،اس امتزاج کو خوشگوار رکھنے کے لیے ایک رنگ کم مقدار میں استعمال کرنا لازمی ہے یا بالفاظ دیگر دونوں رنگوں کوبرابر کی مقدار میں استعمال کرنے سے پرہیز کرنا چاہیے،اس امتزاج کی خوبی یہ ہے کہ جہاں بھی یہ استعمال کیا جاتا ہے وہاں ہلچل کی کیفیت ابھرتی ہے، چھوٹے کمروں یا گھری ہوئی جگہ پر اس امتزاج کو برتنے سے بچنا چاہیے یا پھر ایک رنگ کو دوسرے کے مقابلے میں بہت کم مقدار میں استعمال کرنا چاہیے،
مثلثی رنگوں کا امتزاج:رنگوں کے دائرے پر مثلث بنا دیا جائے تو مثلث کے تینوں کونوں پر موجود رنگ ایک ساتھ استعمال کرنے سے یہ امتزاج پیدا ہوگا، مثلاً بنیادی رنگوں کو لیا جائے تو تینوں رنگ مثلث کے تین رنگ ہیں ان کو اگر کسی چیز یا کئی چیزوں میں کبھی ایک ساتھ استعمال کیا جائے تو ماحول بھی شوخی نمایاں ہوگی،اس امتزاج میں رنگ مختلف مقدار میں استعمال کرنے سے خوبصورتی پیدا ہوتی ہے،
آس پاس کے رنگوں کا امتزاج: سب رنگوں کے دائرے پر برابر برابر موجود دو تین یا زیادہ رنگ ایک ساتھ استعمال کیے جاتے ہیں تو تسلسل کی کیفیت نمایاں ہوتی ہیں چھوٹے کمرے میں تسلسل کی کیفیت ابھارنے کے لیے یہ امتزاج مناسب ہے،بڑے کمرے میں جہاں فرنیچر کی کمی ہو یا زیادہ جگہ کھلی کھلی ہو،وہاں اس امتزاج کی موجودگی سے جگہ پر ہونے کا احساس پیدا کیا جاسکتا ہے، مثال کے طور پر نیلے کے ساتھ سبزی مائل نیلے،سبزی مائل پیلے اور پیلے رنگ کی چیزیں رکھی جائیں تو ایک قسم کی درجہ بندی پیدا ہوگی جس سے جگہ کا خالی پن دور ہوجائے گا اس امتزاج کو چھوٹی تنگ جگہ اور وسیع کمرے دونوں جگہ برتا جاسکتا ہے،
بک رنگی امتزاج:جب کوئی ایک رنگ مختلف اقدار اور شدت میں کسی ایک جگہ یا چیز میں استعمال ہو تو یکسوئی محسوس ہوگی،یہ امتزاج اس لحاظ سے سونے کے کمرے کے لیے مناسب ہے،مشاہدہ یہ ہے کہ لباس میں رنگوں کا امتزاج زیادہ دھیان سے برتا جاتا ہے،ایسا کم ہی ہوتا ہے کہ کوئی بہت بے جوڑ رنگ کے لباس میں نظر آئے لیکن درون خانہ رنگ انتہائی بھدے اور بے جوڑ نظر آتے ہیں، اس کی سب سے بڑی وجہ یہ ہوسکتی ہے کہ گھر کے لیے وقتاً فوقتاً بغیر کسی پلان کے چیزیں خریدیں جاتی ہیں نتیجہ یہ ہوتاہے کہ بے جوڑ رنگ اور نمونے کی چیزیں جمع ہوتی جاتی ہیں،گھر میں رنگوں کے استعمال کے لیے مندرجہ ذیل باتوں کو مدنظر رکھنا چاہیے:افراد خانہ کی پسند کے مطابق ہر کمرے کے لیے رنگوں کے کسی خاص امتزاج کا انتخاب کرکے اس کو برتنے کی کوشش کرنی چاہیے اگر بیک وقت سب نئی چیزیں نہیں خریدی جاسکتیں تو بھی پلان بنا کر اس کے مطابق آہستہ آہستہ خاطر خواہ رنگ کی چیزوں کی خریداری کریں،ترتیب اور سجاوٹ میں جو چیزیں پس منظر میں آئیں ان کے لیے مدھم رنگ منتخب کریں۔بڑی چیزوں اور زیادہ جگہ پر گہرے شوخ رنگ کا استعمال کرنے سے گریز کریں مثال کے طور پر سرمئی کشن سرخ صوفے پر استعمال کرنے کے بجائے سرمئی صوفے پر سرخ کشن زیادہ بھلا معلوم ہوگا،شوخ رنگ تھوڑی تھوڑی مقدار میں دہرانے سے درجہ بندی اور تسلسل کی کیفیت پیدا کی جاسکتی ہے گہرے رنگ کم مقدار میں اور ہلکے رنگ زیادہ مقدار میں استعمال کیے جاسکتے ہیں کیونکہ گہرے شوخ رنگ اپنی شدت اور شوخی کی وجہ سے زیادہ محسوس ہوتے ہیں۔بہت زیادہ مدھم رنگ استعمال کرنے سے ماحول میں بے کیفی سی پیدا ہوسکتی ہیں اس لیے مدھم رنگوں میں دلچسپی پیدا کرنے کے لیے شوخ رنگ کا تھوڑا بہت استعمال ضروری ہے۔

(0) ووٹ وصول ہوئے