بند کریں
خواتین مضامینگھر کی آرائشگھر کی آرائشی اشیا اور آرائش

مزید گھر کی آرائش

پچھلے مضامین - مزید مضامین
گھر کی آرائشی اشیا اور آرائش
کچھ چیزیں خاص طور پر آرائشی مقصد کے لیت رکھی جاتی ہیں ان میں سے کچھ صرف سجاوٹی ہوتی ہیں اور کچھ سجاوٹ کے علاوہ کارآمد بھی ہوتی ہیں
گھر کی آرائشی اشیا اور آرائش:
ایک اچھے سجھے ہوئے گھر یاکمرے سے مراد ہے کہ وہاں موجود ہر چیز خوبصورت اور دلکشی ہے اور ان کی بدولت مجموعی ماحول میں خوشنمائی پیدا ہوتی ہے،مگر کچھ چیزیں خاص طور پر آرائشی مقصد کے لیت رکھی جاتی ہیں ان میں سے کچھ صرف سجاوٹی ہوتی ہیں اور کچھ سجاوٹ کے علاوہ کارآمد بھی ہوتی ہیں۔مثلاً تصاویر ،کھلونے،دھات اور شیشے کے عجائبات،گڑیاں،سنگ تراشی و نقاشی کے نمونوں وغیرہ سے صرف آرائش کا مقصدپوراہوتا ہے اس کے مقابلے میں آئینے پوری سکرین،شمع دان پھولدان،لیمپ گھڑیاں،کشن،کدیلے،پیالے ایش ٹرے ردی کاغذ کی ٹوکری وغیرہ جیسی چیزیں آرائش بڑھانے کے ساتھ کارآمد بھی ہوتی ہیں،اکثر گھروں میں اس خیال سے سجاوٹی اشیاء کی بھرمار ہوتی ہیں کہ بہت سی خوبصورت چیزیں رکھنے سے خوبصورتی بڑھ جاتی ہے لیکن یہ صحیح نہیں دکان پر بے شمار خوبصورت چیزیں سجی ہونے کے باوجود بھی کوئی خاص خوبصورتی پیدا نہیں ہوتی آرائشی اشیا گھر والوں کی ذاتی پسند کا اظہار کرتی ہے یعنی ان سے ایک طرح گھر والوں کی شخصیت کی عکاسی ہوتی ہیں کیونکہ عموماً یہ چیزیں فوری پسند کی بنا پر خرید لی جاتی ہیں یا تحفہ تحائف میں ملی ہوئی ہوتی ہیں۔
آرائشی چیزوں کا بذات خود خوبصورت ہونا اور دوسری چیزوں کی موجودگی میں خوبصورتی کے عناصر کا ظاہر ہونا اہم ہے۔جب درجنوں چھوٹی بڑی چیزیں کسی ایک جگہ یا کمرے میں جمع کردی جائیں تو ان کا اپنا اثر اور گروہ بندی سے پیدا ہونے والی کیفیت بے معنی اور بے مقصد ہوجاتی ہیں۔
اشیائے سجاوٹ کا انتخاب: سجاوٹی چیزیں خریدنے سے پہلے تین باتیں مدنظر رکھنی چاہیں:
۱۔کیا کوئی مخصوص چیز کسی خاص ضرورت یا کیفیت پیدا کرنے کے لیے خریدی جارہی ہے یا آپ اسے صرف ذاتی پسند کی وجہ سے خریدنا چاہتے ہیں؟ذاتی پسند کی چیز خریدنے میں اور اس کی نمائش کرنے میں کوئی مضائقہ نہیں مگر توقع و محل کی موزونیت کو نظر انداز نہیں کرنا چاہیے۔
۲۔اگر ماحول میں کسی خاص رنگ یا نمونے کی چیز کو رکھنا ضروری محسوس ہو رہا ہے تو پھر اس رنگ و نمونے کی چیز تلاش کریں مثلاً ڈرائینگ روم میں براؤن اور سرمئی رنگ کی زیادتی دور کرنے کے لیے فیروزی سبزیانیلے رنگ کے کشن درکار ہوسکتے ہیں چنانچہ یہی کشن بنائیں،یا اگر نمونے کے اعتبار سے کمرے میں عمودی خطوط زیادہ نمایاں ہیں ا وران کی یکسانیت دور کرنے کے لیے قوسی خطوط کی کوئی چیز درکار ہے تو پھر ایسی ہی چیز خریدیں جس میں قوسی خطوط نمایاں ہوں ہوسکتا ہے کسی تصویر میں قوسی خطوط پھولدان کے قوسی خطوط سے زیادہ نمایاں ملیں تو ایسی حالت میں پھولدان کی جگہ تصویر کا انتخاب کریں۔
۳۔اشیائے سجاوٹ کا صرف سجاوٹی پہلو ہی پیش نظر نہیں ہونا چاہیے بلکہ ان کا کارآمد ہونابھی ضروری ہے لہذا جو چیز خریدی جائے اس کا چناؤ استعمال کی مناسبت سے کرنا چاہیے مثلاً پھولدان خریدتے وقت یہ دیکھ لینا کافی نہیں کہ یہ دکان میں رکھا ہوا اچھا معلوم ہورہا ہے بلکہ یہ بھی یقین کرلینا چاہیے کہ اس میں پھول آسانی سے اور اچھی طرح لگائے جاسکتے ہیں۔سجاوٹ کی چیزیں اس مقصد سے خریدنی چاہیں کہ ان سے کمرے میں موجود فرنیچر،پردوں،قالین وغیرہ میں جو کمی ہو وہ پوری ہوسکے گی۔ہر گھر اور ہر جگہ کی ضرورت کے مطابق مختلف رنگ و نمونے کی سجاوٹی اشیا درکار ہوں گی مگر یہ بات اٹل ہے کہ سجاوٹ کی چیز کو بذات خود خوبصورت ہونا چاہیے کسی بھی چیز کی خوبصورتی پرکھنے کے لیے اس کی شکل سائزی رنگ وغیرہ پر غور کرنا چاہیے اور دیکھنا چاہیے کہ شکل نمونہ دلکش ہے اشیاے سجاوٹ خریدتے وقت یہ دیکھنا چاہیے کہ اس کے حجم اورکمرے کے سائز میں مطابقت ہے ورنہ خوبصورت سے خوبصورت چیز کی جاذیت کم ہوجائے گی سجاوٹی اشیا کی درجہ بندی کچھ اس طرح کی جاسکتی ہیں دیوار پر لگانے یا آویزاں کرنے والی اشیاء مثلاً تصاویر،لٹکانے والے پھولدان،آئینہ،چھوٹے غالیچے وغیرہ۔آتش دان میزیا زمین پر رکھنے والی اشیاء اس گروہ میں لاتعداد چیزیں آتی ہے مثلاً سجاوٹی کھلونے،گڑیاں،پھولدان، لیمپ،ایش ٹرے غالیچے وغیرہ۔وہ اشیا جو کپڑے سے تیار کی گئی ہوں مثلاً صوفے کی ٹیک پر ڈالنے والا کشیدہ کاری کا نمونہ کشن،گدیلے میز پر ڈالنے والے میٹ(Mat) اور میز پوش وغیرہ۔سجاوٹی اشیاء میں تصاویر خاص نسبت رکھتی ہیں مشاہدے سے معلوم ہوا ہے کہ مختلف کمروں کے لیے تصاویر کابہت غلط چناؤ کیا جاتاہے اور ان کی ترتیب بھی صیح نہیں ہوتی عموماً تصاویر صرف اس لیے کمرے میں رکھی اور لٹکائی جاتی ہیں کہ وہ گھر میں کسی نہ کسی فرد کو پسند ہیں،چنانچہ تصاویر بغیرکسی گروہ بندی کے لٹکا دی جاتی ہیں تصاویر کے سلسلے میں ذاتی یا افراد خانہ کے فوٹو گراف کی طرف بھی توجہ لازمی ہے کیونکہ اکثر انہیں غلط جگہ سجا دیا جاتا ہے مثلاً ڈرائینگ روم میں افراد خانہ کی تصاویر بھلی معلوم نہیں ہوتیں خاص طور پر لڑکیوں اور خواتین کی۔کسی بھی جگہ کے لیے تصاویر کو منتخب کرنے سے پہلے یہ معلوم ہونا چاہیے کہ یہ خاص تصاویر کہاں لگائی جائے گی اور اس کے ارد گرد کسی رنگ اور نمونے کی چیزیں موجود ہیں پرانی اور نایاب تصاویر اس طرح لگانی چاہیے کہ ان کی موجودگی میں دیوار کا خالی پن چھپ سکے اوروہ دلچسپی کا مرکز بن سکیں کوشش یہ کرنی چاہیے کہ انہیں اس دیوار پر لگایا جائے جہاں باہر سے آنے والے کی نظر ایک دم پڑے اور کمرے میں بیٹھنے ہوئے لوگ بھی ان سے محفوظ ہوسکیں۔تصاویر کو ایسی اونچائی پر لگانا چاہیے کہ جب کھڑئے ہو کر دیکھا جائے تو وہ بالکل نظروں کے سامنے ہو یعنی تصویر کو دیکھنے کے لیے گردن اونچی کرنے یا نظریں اوپر اٹھانے کی ضرورت نہ پڑے جس دیوار پر کچھ دوسری سجاوٹ موجود ہو وہاں تصاویر لگانے سے پرہیز کرنا چاہیے کیونکہ پھر تصویر کی اپنی خوبصورتی بالکل ختم ہوجاتی ہیں،تصویریں دیوار کے ساتھ سیدھی لگی ہوئی چاہیں ان کو آگے کی طرف جھکا کر لگانے سے احتراز کرنا چاہیے تصاویر کو ایسی دیوار پر بھی لگایا جاسکتا ہے جس سے متصل نیچا فرنیچر رکھا ہوا ہو ایسی دیوار جہاں نیچکے کچھ نہ رکھا ہو تصویر لگانے سے تصویر کی کسی چیز کے ساتھ گروہ بندی نہیں ہوگی بلکہ تصویر ہوا میں لٹکی معلوم ہوگی۔چھوٹی تصاویر کو درجہ بندی کرکے لگانا مناسب ہے آتش دان والی دیوار پر تصاویر لگانی چاہیے کہ آتش دان پر رکھی ہوئی سجاوٹی چیزوں اور تصاویر میں کوئی مطابقت ہو یہ مطابقت یکساں رنگ نمونے یا ایک جیسے خیالات کا اظہار کرنے والی چیزوں سے پیدا ہوسکتی ہے۔کسی ایک دیوار پر کئی طرح کی مختلف آرائشی اشیا سجانے سے بھی گریز کرناچاہیے مثلاً تصویر کے پاس ہی پھولدان اور ساتھ ہی دوسری اشیا لٹکادینے سے مناسب درجہ بندی نہیں ہوسکتی۔آئینے لگانے سے کمرے میں کشادگی کا احساس پیدا کیا جاسکتا ہے بہت چھوٹے چھوٹے کئی آئینے لگانے کے بجائے ایک بڑا آئینہ اس طرح لگانا چاہیے کہ باہر کے کسی اچھے منظر کا عکس بھی نظر آسکے یوں اندر بیٹھنے والا باہر کا منظر سے بھی محفوظ ہوسکتاہے آئینہ بھی تصویر کی طرح دیوار کے ساتھ سیدھا لگانا چاہیے اکثر پرانی وضع کے خوبصورت فریم میں جڑے آئینے دیوار کی زینت دوبالا کردیتے ہیں۔
آتش دان،الماری،میز وغیرہ کی افقی سطح پر رکھنے والی لاتعداد چیزیں ہوتی ہیں ان کی سجاوٹ سے بھی ماحول میں سکون پیدا ہوسکتا ہے بشرطیکہ ان کا چناؤ اور ترتیب سوچ سمجھ کر کی جائے۔

(0) ووٹ وصول ہوئے