بند کریں
خواتین مضامینگھر کی آرائشگھر میں دیگر استعمال کا فرنیچر

مزید گھر کی آرائش

پچھلے مضامین - مزید مضامین
گھر میں دیگر استعمال کا فرنیچر
فرنیچر کی تربیت زیادہ آسان و سادہ طریقے پر کی جاسکتی ہیں جب کہ طرح طرح کی شکل کی میزوں کی موجودگی کمرے میں بے ترتیبی کا احساس پیدا کرتی ہیں
گھر میں دیگر استعمال کا فرنیچر
میزیں: استعمال کی نوعیت کے لحاظ سے میز کا سائز اور بناوٹ متعین ہوتی ہے مثلاًکھانے کے کمرے کی میز بارہ آدمیوں کے بیٹھنے کے لیے ہوسکتی ہیں اور ڈرائینگ روم میں رکھی ہوئی چھوٹی میز بالکل چھوٹی اور نیچی،میز کے آرام دہ ہونے کا انحصار اس بات پر ہے کہ اس کی سطح ہموار اور یکساں ہو، پائے مضبوطی سے جڑئے ہوں اور میز کا فریم یا پائے ہلیں یا ڈگمگائیں نہیں۔شکل کے اعتبار سے میز چوکور،مستطیل گول،بیضوی تکونی وغیرہ کی شکل کی ہوسکتی ہیں فرنیچر کی تربیت میں میز کی شکل کا بہت اثر پڑتا ہے،چوکور مستطیل شکل کی میزوں کی مدد سے فرنیچر کی تربیت زیادہ آسان و سادہ طریقے پر کی جاسکتی ہیں جب کہ طرح طرح کی شکل کی میزوں کی موجودگی کمرے میں بے ترتیبی کا احساس پیدا کرتی ہیں۔ایک اچھی میز کے پائے اور سطح مضبوط ہونی چاہیے میز وزن میں بہت بھاری نہیں ہونی چاہیے میز کے پائے اس ساخت کے ہونے چاہیں کہ میز کے پاس سے گذرتے ہوئے ان سے کپڑے یا پاؤں نہ الجھیں میز کے چوکھٹے اور پاؤں کے جوڑ پائدار ہونے چاہیں۔میز کی سطح یوں تو لکڑی کی ہوتی ہیں مگر ڈرائینگ روم میں استعمال کی جانے والی میز پر اکثر شیشہ لگوالیا جاتا ہے کھانے کی میز یا دوسری میزوں پر فارمیکا استعمال ہوتا ہے چونکہ فارمیکا پر داغ دھبے نہیں پڑتے اس لیے یہ سطح زیادہ پائدار،خوبصورت،اور دیرپا ہوتی ہیں اس کے علاوہ میز پر پلاسٹک یا ریکسین کا انتخاب کرتے وقت اس بات کا خیال رکھنا چاہیے کہ رنگ اور ڈیزائین میں بہت شوخ نہ ہوں ورنہ ایسی سطح پر کام کرتے ہوئے بے چینی کا احساس ہوگا اور دوسری چیزوں کے مقابلے میں ساری توجہ میز کی طرف مبذول ہوجائے گی۔کھانے کے کمرے میں کرسی و میزکے علاوہ سائڈ بورڈ،دیوار میں نصب الماریاں خاص توجہ کی مستحق ہوتی ہیں سائڈ بورڈ کھانے کے برتن اور دوسری اشیائے استعمال رکھنے کے کام آتا ہے عام سائڈ بورڈ جو بازار میں دستیاب ہیں ان میں ایک طرف درازیں ہوتی ہیں اور زیادہ حصہ کھلا یا شیشے کے دروازوں کے ساتھ ہوتا ہے،جہاں برتن رکھے جاتے ہیں سائڈ بورڈ کی اوپری سطح بھی کھانے سے متعلق چیزیں رکھنے کے لیے استعمال ہوتی ہیں ڈیزائن اور سائز کے لحاظ سے سائڈ بورڈ سادہ ہوتو بہتر ہے۔
الماریاں: کھانے اور سونے کے کمرے میں لاتعداد ایسی چیزیں ہوتی ہیں جن کو ہر وقت استعمال نہیں کیا جاتا ان کو رکھنے کا معقول انتظام ہو تو چیزوں کو آسانی کے ساتھ رکھا اٹھایا اور استعمال کیا جاسکتا ہے اگر چیزوں کو سنبھال کر رکھا جائے تو وہ جلد خراب نہیں ہوتیں ورنہ گرد اور رگڑ وغیرہ سے چیزیں خراب بھی ہوجاتی اور ٹوٹ پھوٹ بھی جاتی ہیں۔استعمال کی نوعیت کے لحاظ سے الماریوں کے شیلف مختلف اونچائیوں پر ہونے چاہیں اورالماری کی گہرائی بھی مختلف ہونی چاہیے۔دیوار میں نصب الماریاں کم جگہ لیتی ہیں جس وقت مکان تعمیر ہورہا ہو اسی وقت ضرورت کے مطابق الماریاں بنوالی جائیں تو اچھا ہے عام طور پر الماریوں کے دروازے باہر کو کھلتے ہیں اگر جگہ تنگ ہے تو ایسے دروازے کھلنے پر اور زیادہ تنگی کا باعث ہوتے ہیں اس کے لیے دائیں بائیں کھسکائے جانے والے دروازے زیادہ بہتر ثابت ہوتے ہیں بشرطیکہ ان کو آسانی کے ساتھ کھسکایا اور کھولا جاسکے۔ یوں تو الماریاں لکڑی کی ہوتی ہیں مگر اب ہمارے ہاں سٹیل (Steel) کی الماریاں بھی عام دستیاب ہیں گویہ نسبتاً مہنگی ہوتی ہیں مگر اسی مناسبت سے زیادہ پائدار ہوتی ہیں۔سونے کے کمرے میں کپڑے رکھنے اور لٹکانے کی الماری کی وارڈ روب(Wardrobe) کہتے ہیں تہہ کرکے رکھے جانے والے مردانہ کپڑوں کے لیے دروازوں والی الماری کو چیسٹ آف ڈرائرز(Chest of drawers) کہتے ہیں اکثر اس الماری کی اوپری سطح ڈرائینگ روم کی طرح استعمال ہوتی ہیں۔الگ سے رکھی ہوئی الماریاں اپنی ضخامت کی وجہ سے دوسری ساری چیزوں سے زیادہ توجہ کا باعث بنتی ہیں اگر ان پر آرائشی نقش و نگار بنے ہوں تو آرائش کا مسئلہ مشکل ہوجاتاہے اس لیے سادہ نمونے کی الماراں زیاد ہ بہتر ثابت ہوتی ہیں یوں بھی لکڑی پر کٹاؤ کا کام مہنگا پڑتا ہے اس لیے ان سے گریز ہی بہتر ہے۔یوں تو فرنیچر کی ہر چیز میں سادگی کم خرچ ثابت ہوتی ہیں لیکن الماریاں سارہ ہوں تو بہت زیادہ کفایت ہوجاتی ہیں۔

(0) ووٹ وصول ہوئے