بند کریں
خواتین مضامینگھر کی آرائشغالیچے چٹائیاں قالین وغیرہ کی خریداری

مزید گھر کی آرائش

پچھلے مضامین - مزید مضامین
غالیچے چٹائیاں قالین وغیرہ کی خریداری
روز استعمال ہونے والے حصے کو ویکیوم یا برش کے ساتھ احتیاط سے صاف کرتے رہیے سارے غالیچے یا قالین کی ہفتہ وار صفائی کریں کوٹ پیٹ کر کبھی صفائی نہ کریں
غالیچے چٹائیاں قالین وغیرہ کی خریداری:
۱۔اونی اشیا کو صاف کرنے کے لیے خشک شمپو استعمال کیجیے محلول شمپو استعمال نہ کریں۔
۲۔ہر روز استعمال ہونے والے حصے کو ویکیوم یا برش کے ساتھ احتیاط سے صاف کرتے رہیے سارے غالیچے یا قالین کی ہفتہ وار صفائی کریں کوٹ پیٹ کر کبھی صفائی نہ کریں اس سے آپ اپنا قیمتی غالیچہ یا قالین بہت جلد برباد کرلیں گے۔
۳۔سال بھر کے بعد قالین کی صفائی اس کام کے کسی ماہر سے کروائیں آپ کی چیز کو نئی زندگی مل جائے گی۔
۴۔کچھ عرصے کے بعد غالیچے یا قالین کی جگہ بدلتے رہیے اور اگر ممکن ہو تو مکمل طور پر اس کی تربیت بدل ڈالیے اس طرح کرنے سے آپ کے قالین یا غالیچے کی زندگی میں برسوں کا اضافہ ہوجائے گا۔
۵۔قالین یا غالیچے کے نیچے کپڑا لگنے سے بچاؤ والے کشن ضرور استعمال کیجیے۔
۶۔سوتی قسم کے غالیچے کو دھونے کے لیے نیم گرم پانی اور صابن استعمال کیجیے دھونے کے بعد اسے ہموار سطح پر بچھا کر سکھا لیجیے دیواروں وغیرہ یا کسی دوسری غیر فطری وضع کی اشیا کے اوپر ڈال کر سکھانے سے آپ کے غالیچے کی شکل و شہابت میں فرق آجائے گا۔
فرنیچر:
۱۔گھریلو استعمال کے لیے ضروری تعداد میں ایش ٹرے(راکھدان)اور گلاسوں اور چائے کی پیالیوں کے نیچے رکھنے کے لیے پلاسٹک کے یاموٹے کاغذ کے بنے ہوئے پیڈ ہر وقت موجود رکھیں ان کے ہمہ وقت استعمال سے آپ کا فرنیچر داغ دھبوں سے ہمیشہ محفوظ رہے گا۔
۲۔حرارت سے لکڑی خشک ہوکر مڑ اور پھٹ جاتی ہے اس لیے فرنیچر کو ہمیشہ تیز حرارت مثلاً انگیٹھی اور ہیٹر وغیرہ سے کافی دور رکھیے اس کے علاوہ اگر ممکن ہو تو اپنے کمروں میں ہلکی سے نمی کا انتظام رکھیے فرنیچر کبھی خراب نہ ہوگا۔
۳۔اگر فرنیچر کے کسی حصے پر سگریٹ سے دھبہ پڑگیا ہے تو کو کافور ملتے تیل سے رگڑ رگڑ کر صاف کردیجیے اگر اس طرح صاف نہ ہو تو بازار میں اس قسم کے دھبے دور کرنے والے کسی محلول سے مدد لیجیے۔
۴۔اگر گیلے گلاس کے پیندے کے دھبے فرنیچر کے کسی حصے پر پڑجائیں ۔(اس قسم کے دھبے میزوں اورکرسیوں وغیرہ کے ہتھوں پر خصوصاً پڑجاتے ہیں)تو موٹا سیاہی جوس اوپر رکھ کر استری سے خوب دباؤ ڈالیں اگر اس ترکیب سے دھبہ دور نہ ہو تو کافور ملا تیل یادھبے دور کرنے والے محلول استعمال کریں۔
۵۔وقتاً فوقتاً اپنے فرنیچر کی صفائی کرتے رہیے اس کے لیے اسفتنج اور صابن کے جھاگ والا نیم گرم پانی استعمال کریں فرنیچر کی اس طرح صفائی کرتے ہوئے ہمیشہ ایک وقت میں ایک مختصر سا حصہ پہلے صاف کریں اور آگے بڑھنے سے بیشتر اس کو اچھی طرح خشک کرلیں خشک کرنے کے بعد ویکس پالش لگاکر چمکالیں۔
۶۔سیدھے کھڑے رہنے والے فرنیچر(الماریاں وغیرہ)کی اکثر صفائی ہوتی رہنی چاہیے اس کے لیے گرد صاف کرنے کا برش ویکیوم کلئیر استعمال کیا جاسکتا ہے وقتاً فوقتاً اس قسم کے فرنیچر کی نمبر5 بتائے گے طریقے کے مطابق دھلائی بھی کرتے رہنا چاہیے۔
بستر کی چادریں وغیرہ:
۱۔وقتاً فوقتاً چادروں کا سرہانے والا حصہ پائنتی کی جانب اور پائنتی والا حصہ سرہانے کی جانب کردیا کریں اس طرح چادروں کا یکساں استعمال ہوگا اور وہ زیادہ دیر تک چلیں گی۔
۲۔اگر ڈیزائن مناسب ہو تو چادروں کا نچلا حصہ اوپر اور اوپر والا حصہ نیچے کرکے بھی استعمال میں لانا چاہیے۔
۳۔چادروں کو چارپائی یا پلنگ کے چاروں طرف کھلا چھوڑ کرلٹکنے دیجیے انہیں موڑ کر گدوں یا لحاف کے نیچے نہ کیجیے اس سے چادوں کی عمر میں بھی اضافہ ہوگا اور وہ نسبتاً زیادہ گرم ثابت ہوں گی۔
۴۔چادروں کو وقتاً فوقتاً نرم بالوں کے برش سے صاف کرتے رہیے۔
چاندی کے برتن:
۱۔اپنے چاندنی کے برتنوں کو اس طرح استعمال کریں کہ سبھی برتن باری باری استعمال ہوتے رہیں مثلاً اگر ٹی سیٹ میں بارہ کپ ہیں تو بارہ کے بارہ کپ بدل بدل کر استعمال میں لاتے رہیں یہ نہیں ہونا چاہیے کہ آپ نے چھ کپ نکال کر رکھ لیے اوربس وہی چھ کپ مسلسل استعمال ہوتے رہیں ادل بدل کرنے سے سب برتن یکساں استعمال ہوں گے اورسب کی خوبصورتی یکساں نظر آئے گی۔
۲۔چاندی کے برتنوں کو انڈوں نمک پھلوں اور جوس وغیرہ سے ہمیشہ دور کھیے اسی طرح انہیں گیس ربڑ اورماچس وغیرہ سے بھی دور ہی رکھیے یہ سب چیزیں چاندی کے برتنوں کی آب و تاب کو ضائع کردیتی اور داغ دھبے ڈال دیتی ہے۔
۳۔چاندی کے استعمال شدہ برتنوں کو صابن ملے نیم گرم پانی سے صاف کیجیے صاف کرنے کے فوراً بعد ان کو کسی تولیے وغیرہ سے خشک کرلیجیے۔
۴۔ہر ماہ باقاعدگی کے ساتھ برتنوں کو سلور پالش کے ساتھ پالش کیجیے اور اس کے بعد انہیں ساہر کے چمڑے سے رگڑ کر چمکا لیجیے چاندی کے برتنوں کو کیمیکلز کے ساتھ کبھی نہ اُبالیے۔
۵۔چاندی کے برتنوں کو استعمال کے بعد خاص طور پر اسی مقصد کے لیے بنوائے صندوق میں محفوظ کرلیجیے یا موٹے کاغذ میں لپیٹ کر الماری میں رکھ لیجیے۔

(0) ووٹ وصول ہوئے