Kaam Kharch Bala Nasheen - Home Interior & Decoration - Ghar Ki Aaraish

کم خرچ بالا نشین - گھر کی آرائش

ہفتہ اکتوبر

Kaam Kharch Bala Nasheen
آپ کا گھر کیسا ہونا چاہئے اور مکان میں کتنی اور کیسی گنجائش؟یہ سوال بدلتے ہوئے معاشرے میں اب بھی اتنا ہی اہم ہے جتنا چند برس پہلے تک تھا۔کئی سال پہلے زمین کم داموں میں دستیاب ہو جاتی تھی۔لوگ اپنے کنبے کی ضرورتوں کو اپنی معاشی حالت و حیثیت یعنی بجٹ کو دیکھتے ہوئے کشادہ گھر بنا لیتے تھے مگر جوں جوں شہر سکڑنے لگے،صنعتی و تجارتی حجم اور عمارات میں اضافہ ہوا۔

لوگ شہروں سے دور اور اکثر مضافاتی علاقوں میں منتقل ہونے لگے کیونکہ وہاں گنجان آباد شہروں کے مقابلے میں زمین کم داموں دستیاب ہو رہی تھی۔
تعمیراتی رجحانات میں تبدیلی
دس برس پہلے جس بجٹ میں ایک متوسط گھرانہ مکان تعمیر کر لیتا تھا اب یہ خواب عنقا ہوتا جا رہا ہے۔گرانی کی روز افزوں بڑھتی صورتحال نے اعلیٰ اور پسماندہ دونوں طبقوں کو متاثر کر لیا۔

(جاری ہے)

جائیدادوں کی قیمتیں تو بڑھیں مگر یہ قوت خرید سے باہر بھی ہو گئے۔اس طرح اب جو مکانات تعمیر ہو رہے ہیں ان میں سہولتوں اور تعیشات کی مد میں اخراجات کم سے کم کئے جا رہے ہیں۔تا کہ تعمیر مکمل ہونے کے بعد فنشنگ اور آراستگی کے لئے روپیہ محفوظ رکھا جائے۔
گریس کچن ،اچھا تصور تھا مگر اب ناپید ہے
90کی دہائی سے پہلے اور کچھ عرصہ بعد تک بھی گریس کچن بنوائے جاتے ہیں۔

لوگ کچن کا کمرہ بڑا وسیع و عریض رکھنا چاہتے تھے اور ان کی خواہش ہوتی تھی کہ اسی جگہ عام روز مرہ کھانے کے لئے میز بھی رکھی رہے جبکہ پرتعیش اور رسمی دعوتوں کے لئے کھانے کے کمرے میں فرنیچر رکھا جاتا تھا اب کچن چھوٹے رقبے پر بنتے ہیں۔ماہرین تعمیرات کم رقبے پر تعمیر ہونے والے مکانات یا فلیٹس کو حتی الامکان حد تک وسیع اور کشادہ رکھنے کے لئے کچن کی چوتھی دیوار تعمیر نہیں کرتے ،اس طرح کھانے کا کمرہ،لاؤنج اور کچن ایک دوسرے سے متصل ہو جاتے ہیں۔

اگر آپ کا مکان ون یونٹ ہے تو کچن کہاں ہونا چاہئے۔زیریں منزل پر یا پہلی منزل پر؟طویل و عریض اور بڑے پلاٹوں پر کہیں بھی جہاں سہولت ہو کچن بنایا جا سکتاہے مگر چھوٹے اور مختصر رقبے پر اضافی کیبنٹ ترک کرکے سادگی اختیار کی جا رہی ہے اور اب یہی رجحان مقبول ہو رہا ہے۔
سونے کے کمرے بھی مختصر رقبے پر مشتمل
90کی دہائی اور اس سے قبل 10x8فٹ کا کمرہ سونے کے کمرے کے طور پر تعمیر کیا جاتا تھا۔

اب 8x8اور بعض فلیٹس میں اس سے بھی چھوٹے رقبے پر بیڈ رومز بننے لگے ہیں۔آج کل بنگلوں کی تعمیر میں بھی یہی رجحان اپنایا جا رہا ہے۔جو رقبہ کم کیا گیا اس میں لانڈری روم، پاؤڈر روم،اسٹوریج کے لئے مخصوص جگہ نکالی جارہی ہے۔
وسیع ترلان،راک گارڈن اور فوارے خواب و خیال کا قصہ ہوئے تو کیوں؟
ظاہر ہے کہ کم رقبے پر تعمیر ہونے والے مکانات کے لئے لازمی سہولتوں کی ترسیل اولین ترجیح تھی اس لئے بڑے باغات،آبشاروں اور فواروں کے لئے بجٹ کا نکالنا مشکل ہو گیا لہٰذا جگہ کی کامیابی کی صورت میں ہلکی پھلکی کیاریوں اور پتھریلے فرش پر پھولوں یا پتوں کے چند گملے رکھنے کی گنجائش میسر آنے لگی۔


گرمی کی شدت کے اثرات
شروع شروع میں سونے کے کمرے پہلی یا دوسری منزل پر بنائے جاتے تھے اب چند برسوں سے گلوبل وارمنگ کی وجہ سے سونے کے کمرے گراؤنڈ فلور یعنی زیریں منزل پر مختص کئے جانے لگے تاکہ قدرے ٹھنڈک کا احساس ہو۔گول سیڑھیوں کے بجائے سیدھی اور واضح سیڑھیاں بنائی جانے لگیں حالانکہ دائرہ نما سیڑھیاں مکان کو ڈرامائی آہنگ دیتی ہیں اور جمالیاتی پہلو سے پرکشش بھی دکھائی دیتی ہیں لیکن چونکہ ان کی تعمیر اور نگہداشت پر زیادہ اخراجات اٹھتے ہیں اس لئے اب خال خال ہی کسی مکان میں ایسی سیڑھیاں دکھائی دیتی ہیں۔

لوگوں کی اکثریت سیدھی ،واضح اور محفوظ ترین زینے بنانے لگی ہے۔
راہداریاں اور گزر گاہیں بجٹ کے اندر بننے لگیں
ایک دور تھا جب پر تکلف آرائش پرمشتمل راہداریاں بنتی تھیں۔پیچیدہ اور خوبصورت نقوش والے لکڑی کے دروازے،ستون،Patios بنائے جانے کی روایتیں قریب قریب ختم ہوتی جا رہی ہیں۔اب سادہ سے فائبر گلاس،بیمبو یا اسٹیل کی مدد سے راہ داریوں کی سجاوٹ مکمل کر لی جاتی ہے۔

غرضیکہ بیرونی آرائش پر توجہ کم دی جا رہی ہے۔لوگ ضروری تنصیبات اور سہولتوں کے ساتھ زندگیاں سہل بنانے کے رجحانات اپنانے لگے ہیں۔سر چھپانے کو سائبان اور اپنی چھت کے ساتھ اپنی زمین کا تصور بدلتے وقت کے ہاتھوں نئے اسلوب اختیار کر چکا ہے اور سچ پوچھئے تو یہ طریقہ کار اتنا برا بھی نہیں ہے۔
تاریخ اشاعت: 2020-10-17

Your Thoughts and Comments

Special Home Interior & Decoration - Ghar Ki Aaraish article for women, read "Kaam Kharch Bala Nasheen" and dozens of other articles for women in Urdu to change the way they live life. Read interesting tips & Suggestions in UrduPoint women section.