بند کریں
خواتین مضامینگھر کی آرائشکمروں کو گرم اور سردرکھنے کے طریقے

مزید گھر کی آرائش

پچھلے مضامین - مزید مضامین
کمروں کو گرم اور سردرکھنے کے طریقے
اس ضرورت کے لیے سرد خانہ یا تہہ خانہ بنوایا جاتا تھا جس میں شدید گرمی کا زمانہ گزاراجاتا تھا،اس میں شک نہیں کہ یہ کمرے خاصے ٹھنڈے ہوتے تھے لیکن حفظان صحت کے اصولوں کے لحاظ سے عموماً ناقص ہوتے تھے
کمروں کو گرم اور سردرکھنے کے طریقے:
پرانے زمانے میں جب مکان تعمیر کروایا جاتاتو اس کی موسمی ضروریات کا بھی خیال رکھا جاتا تھا۔چنانچہ اس ضرورت کے لیے سرد خانہ یا تہہ خانہ بنوایا جاتا تھا جس میں شدید گرمی کا زمانہ گزاراجاتا تھا،اس میں شک نہیں کہ یہ کمرے خاصے ٹھنڈے ہوتے تھے لیکن حفظان صحت کے اصولوں کے لحاظ سے عموماً ناقص ہوتے تھے،ایسے تہہ خانوں میں نہ تو روشنی کا اچھا انتظام ہوتا تھا۔اور نہ ہوا کہ پرانے مکانوں میں اس قسم کے سرد خانے اب بھی پائے جاتے ہیں۔لیکن آج کل ان کا رواج قریب قریب ختم ہوچکا ہے۔گرمی سے بچنے کا ایک طریقہ یہ بھی تھا کہ مکان بنواتے وقت مکان کرسی اونچی رکھی جاتی تھی اور کمروں کی چھتیں کافی بلند ہوتی تھیں۔اس لیے کہ اونچی چھتیں اور اونچی کرسی گرمی سے بچاتی ہے اگر مکان کے ارد گرد باغ ہو اور اس میں اونچے درخت ہوں تب بھی گرمی سے کچھ نجات مل جاتی ہیں۔جب تک ہوا کافی گرم نہ ہوجائے۔اس وقت تک کمرے کی تمام کھڑکیاں کھلی رکھیں کمرے میں ٹھنڈ رہے گی۔جب ہوا بہت زیادہ گرم ہوجائے تو صرف ایک کھڑکی ہوا کی آمدو رفت کے لیے کھلی رکھیں۔کمرے کے دروازوں اورکھڑکیوں کے گہرے نیلے رنگ کے شیشے ٹھنڈک پہنچاتے ہیں ان پر سیاہ رنگ کا پردہ ڈال دینا بھی اس مقصد کے لیے بہت ٹھیک ہے۔خس کی ٹٹیاں بھی ٹھنڈک پہنچاتی ہیں،باہر سے ان پر پانی چھڑکتے رہنا چاہیے ،خس کی ٹٹی سے گزر کر جو ہوا اندر آتی ہے ،وہ ٹھنڈی اور خس کی خوشبو میں بسی ہوتی ہیں۔آجکل بجلی کے پنکھوں کا رواج عام ہے اگرباہر خس کی ٹٹیاں لگی ہوں اور اندر بجلی کا پنکھا چل رہا ہو تو بہت آرام ملتا ہے کمرے کے اندر گرمی کا اثر بہت کم ہوتاہے جبکہ گرمی سے بچنے کے لیے آجکل ائیر کنڈیشننگ (Air Conditioning) کا طریقہ بھی بہت مقبول ہے اس کے ذریعے سخت گرمیوں کے موسم میں گلابی جاڑے کا سا لطف آتا ہے لیکن اس کا رواج زیادہ تر امراء کی کوٹھیوں بڑے ہوٹلوں،دفتروں اور سینما گھروں ہی میں ہے کیونکہ اس میں بہت زیادہ پیسے کی ضرورت ہے،درمیانی حیثیت کے لوگ اپنے گھروں میں روم کولر (Room Cooler) لگواسکتے ہیں۔اس قسم کا مکان بنوانا جو گرمیوں میں سرد رہے اور سردیوں میں گرم بہت مشکل ہے گرمیوں میں سرد رہنے کے اعتبار سے بنوائے ہوئے مکانات جاڑوں میں تکلیف دہ ہوتے ہیں اونچی اونچی چھتیں اور کھلے کمرے گرمی میں تو کسی حد تک آرام بخش ہیں لیکن سردی میں اتنے ہی تکلیف دہ ہوتے ہیں اس لیے دونوں موسموں کی شدت سے بچنے کے لیے مختلف ذرائع اختیار کرنے پڑتے ہیں۔کمروں کو گرم رکھنے کے لیے حرارت کی ضرورت ہے جو مختلف طریقوں سے حاصل ہوسکتی ہیں ایک سیدھا سادھا طریقہ تویہ ہے کہ انگیٹھی میں آگ جلاکر کمرے میں رکھ دی جائے کمرہ گرم ہوجائے گا۔احتیاط یہ کریں کہ انگیٹھی جلا کرکواڑ بند نہ کریں ۔کوئلہ جلنے سے ایک خاص قسم کی گیس کاربن مونو اکسائڈ(Carbon Mono Oxide) پیداہوتی ہیں جو سخت مہلک اور مضر ہے اس سے موت بھی واقع ہوسکتی ہیں۔بعض گھروں میں کمرے کو گرم کرنے کے لیے بعض بجلی کے ہیٹر استعمال ہوتے ہیں اگرچہ اس سے کوئلے کی گیس کی طرح نقصان کا اندیشہ تو نہیں لیکن اس میں بجلی بہت زیادہ خرچ ہوتی ہیں اور مصارف بڑھ جاتے ہیں۔بعض جگہ کمروں کو بھاپ سے بھی گرم کیا جاتا ہے۔بھاپ کے لیے ایک ایسا مرکزی مقام ہوتا ہے جس طرح حمام میں۔ایک کی بھاپ ایک نل سے جو اس مرکزی مقام میں ہوتا ہے لے لی جاتی ہیں پھر وہاں سے چھوٹے نلوں کے ذریعے جو عموماً زمین دوز ہوتے ہیں،جن جن کمروں میں ضرورت ہو پہنچائی جاتی ہیں اور حسب ضرورت کمرے کو گرم یا زیادہ گرم بھی کرسکتے ہیں لیکن بھاپ سے کمرہ گرم کرنے کا طریقہ عام طورپر زیادہ رائج نہیں۔صرف عالیشان کوٹھیوں اور شاندار ہوٹلوں میں ہی کمرے گرم کرنے کا یہ طریقہ ہے اس میں بھی مصارف زیادہ ہیں۔اس لیے ایک عام آدھی کے لیے وہی دو طریقے مناسب ہیں یعنی یا سوئی گیس کے ہیٹر یا لوہے کی انگیٹھی میں کوئلے جلانے ہی سے کمرہ گرم کیا جاسکتا ہے۔
آج کل تو یہ رواج نہیں رہا لیکن پرانے زمانے میں کمرے کی دیوار میں کارنس کے نیچے انگیٹھی بنائی جاتی تھیں اور اس کا دھواں باہر خارج کرنے کے لیے انگیٹھی کے اوپر چمنی بنادی جاتی تھی انگیٹھی میں لکڑیاں جلا دی جاتی تھیں ان کا دھواں چمنی کے ذریعے باہرہوا میں خارج ہوتا رہتا اور اگ کی گرمی سے کمرہ گرم رہتا تھا۔

(0) ووٹ وصول ہوئے