Misaali Gher Kiya Hota Hai

مثالی گھر کیا ہوتا ہے

ہفتہ جون

Misaali Gher Kiya Hota Hai
صحت کی ابتداء اپنے گھر سے ہوتی ہے لیکن ضروری ہے کہ گھر صحت کے لئے ضروری بنیادی خوبیوں سے آراستہ ہو۔عالمی ماہرین کے مطابق اس میں گھر کا رقبہ اہمیت نہیں رکھتا۔اسی طرح کچی پکی آبادیوں میں انفرادی آگہی کے ساتھ اجتماعی کوششیں گھروں اور علاقے کو صاف ستھرا اور صحت کے لئے موزوں ترین بنا سکتی ہیں۔
صحت مند گھر کا مفہوم یہ ہے کہ موسم کی انتہائی شدت یعنی گرمی اور سردی ، بارش،ہوا اور حشرات الارض کے علاوہ قدرتی آفات جیسے سیلاب ،زلزلے،آلودگی اور بیماری سے تحفظ فراہم کرتا ہے۔

بد قسمتی سے بہت سے لوگ غیر صحت مند ماحول میں رہتے ہیں اور غیر معیاری طرز زندگی نہ صرف بیماریوں کا سبب بنتا ہے بلکہ یہ صحت کے مسائل کو شدید اور سنگین بھی بناتا ہے۔لوگ قریب قریب رہتے ہوں یا گھروں کے درمیان فاصلہ ہو،ناقص طرز رہائش،اندرونی آلودگیاں،کیڑے مکوڑوں کی افزائش،زہریلے کیمیائی مادوں،گھریلو گندگی اور غلاظت کے باعث بہت سی سنگین بیماریوں کا باعث بنتا ہے۔

(جاری ہے)


آلودگی جسم کے اندر جا کر سانس کے مسائل ،سردرد،متلی،چکر،دمہ،نمونیا،پھیپھڑوں کی خرابی اور پھیپھڑوں کے کینسر وغیرہ کے علاوہ ٹی بی کا باعث بھی بن سکتی ہے۔گھریلو فضا کو آلودہ اور سموم ہونے سے بچانے کے لئے درج ذیل اقدامات کرنے چاہئیں:
ہوا کی نکاسی اور دھوپ کا صحیح استعمال ہونا نظر آئے۔باورچی خانہ تنگ،تاریک اور رقبے میں بہت چھوٹا نہ ہو۔


چولہوں میں گیس کی تنصیب ممکنہ حد تک معیاری ہو اور محفوظ رہے۔
گھر کی صفائی کے لئے محفوظ کیمیائی مادے استعمال کئے جائیں۔
گھر میں ہوا مناسب مقدار میں آئے اور آلودہ ہوا آسانی سے خارج ہو اور زہریلے مادے گھر میں جمع نہ رہیں۔
نمی کا تناسب نہ بڑھے ورنہ پھپھوندی اور دیمک وغیرہ کی افزائش کے امکانات بڑھ جاتے ہیں۔
گھر میں دھواں نہ ذخیرہ ہو پائے۔

جس گھر میں دھواں رہتا ہے اس کی چھت دھواں آلود اور سیاہ ہو جاتی ہے۔
کپڑے اور بستر کی چادریں وقتاً فوقتاً تبدیل کی جانی ضروری ہیں۔
گھر میں الرجی کا امکان کب بڑھتا ہے؟
گھر میں موجود بہت سی اشیاء الرجی کا سبب بن سکتی ہیں مثلاً صفائی کے لئے استعمال ہونے والے کیمیائی محلول ،قالین اور فرنیچر میں استعمال ہونے والے کیمیکل ،پھپھوندی،پولن،جانوروں کی غلاظت ،پر،گٹر،دیمک،لال بیگ،چوہے اور مختلف کیڑے مکوڑوں سے الرجی سے ملتی جلتی ایک شکایت (MCS) Multiple Sensitivityہو جاتی ہے اس لئے الرجی دور کرنے کے لئے لازم ہے کہ:
گھر میں ہوا کی آمد اور نکاسی بہتر طریقے سے ہو۔


الرجک رد عمل کا سبب بننے والے عناصر کا استعمال کم کریں۔
گھر کو گردوغبار سے بچائیں۔
گرد میں نہ نظر آنے والے کیڑے ہو سکتے ہیں یہ الرجی پھیلانے کا ذریعہ بنتے ہیں۔یہ ناک اور آنکھوں پر اثر انداز ہوتے ہیں اور دمے کے حملوں کا باعث بنتے ہیں۔ان کی موجودگی تکیوں،بیڈ ،قالین،بچوں کے کھلونوں ،کپڑوں اور فرنیچرمیں بھی ہو سکتی ہے ۔

تکیوں،بیڈ،اونی ملبوسات،پلاسٹک کی اشیاء وغیرہ کو اچھی طرح صاف کرکے ہو سکے تو گرم پانی سے دھو کر رکھنا بہتر ہوتا ہے۔
کہیں آپ کے لان میں پھپوند تو نہیں لگی؟
پھپھوند ایک قسم کی فنگس ہے جو مٹی اور مختلف پودوں میں افزائش پاتی ہے گھروں میں یہ دیواروں،باسی اور خراب غذائی اشیاء یا کسی ایسی جگہ خوب پروان چڑھتی ہے جہاں کوڑا کرکٹ ہو۔

پھپھوند زدہ حصوں کو کسی مناسب کیمیکل ملے پانی سے اچھی طرح دھویا جانا ضروری ہے۔
کیا گھر کے چولہے محفوظ بھی ہیں؟
چولہوں سے التما دھواں صحت کے لئے نقصان دہ ہے۔یہ بات تو آپ جانتے ہی ہیں۔اب دنیا کے مختلف خطوں میں ایندھن کے کم استعمال اور دھوئیں کے کم اخراج کے لئے مختلف مہارتیں اپنائی جا رہی ہیں۔آج کل کئی ممالک میں سورج کی روشنی ،اجناس اور پودوں کے بقیہ حصے گوندھ کر گول اور چوکور شکلوں میں ڈھالا جاتا ہے جبکہ بائیو گیس بھی ایندھن کے متبادل کے طور پر استعمال کی جارہی ۔


بائیو گیس میتھین پر مشتمل ہوتی ہے اور توانائی کے حصول کا مفید ذریعہ ہے ۔یہ گیس نباتاتی مادے پودوں کے ناکارہ حصوں کو استعمال کرکے بنائی جاتی ہے گو کہ یہ ایندھن کی دیگر اقسام کے مقابلے میں انسانی صحت اور ماحول کے لئے کم نقصان دہ ہے۔
شہروں میں سوئی گیس کے چولہے ہمارے زیر استعمال رہتے ہیں۔بچوں کو آگ سے بچانا بہت ضروری ہے کام کا ختم ہوتے ہی آگ بجھانے کے یقینی طریقے استعمال کئے جانے چاہئیں۔


کیمیائی مادوں کے بغیر تحفظ کیونکر ممکن ہے؟
حشرات پر قابو پانے کے لئے موثر بیسٹ کنٹرول استعمال کرنا ضروری ہوتا ہے ۔اسی صورت میں درج ذیل احتیاطی تدابیر اختیار کی جا سکتی ہیں۔
لال بیگ سے نجات کے لئے شکر میں یورک ایسڈ یا کھانے کا سوڈا ملا کر کنٹرول کے آس پاس چھڑک دیں اور یورک ایسڈ میں پانی اور کارن فلور ملا کر گولیاں بنا لیں اور باتھ روم میں رکھ دیں لال بیگ کھاکے بلاک ہو جائیں گے۔


چیونٹیوں کے لئے سرخ مرچ پاؤڈر میں خشک پیپر منٹ ملا کر چھڑک دیں۔
تلسی کا پودا گھر میں رکھیں۔اڑنے والے کیڑوں کے لئے تلسی کے پتے کچل کر پانی میں چوبیس گھنٹے بھیگے رہنے دیں اور پھر پانی نتھار کر کمروں میں اسپرے کردیں۔بتائیے ان میں کوئی کیمیائی مادہ تو ہے نہیں پھر بھی مچھر مکھیاں اندر داخل نہ ہو سکیں گی اور پورا گھرانہ ماحول دوست طریقہ اپنا کر صحت مند رہے گا۔
چولہے کے لئے ماؤس ٹریپ استعمال کریں مگر زہر کا استعمال جب بھی کریں بچوں اور بزرگوں کو باور کرادیں کہ احتیاط ضروری ہے۔دیواروں،فرش اور چھت کی درزوں اور سوراخوں کو باقی نہ رہنے دیں انہیں پلاسٹر آف پیرس سے بند کردیں۔اس طرح ممکنہ حد تک گھروں کی فضا کو جراثیم اور آلودگی سے بچایا جا سکتا ہے۔
تاریخ اشاعت: 2020-06-27

Your Thoughts and Comments

Special Home Interior & Decoration - Ghar Ki Aaraish article for women, read "Misaali Gher Kiya Hota Hai" and dozens of other articles for women in Urdu to change the way they live life. Read interesting tips & Suggestions in UrduPoint women section.