Mukhtasar Anganoon K Dilkash Bagichey

مختصر آنگنوں کے دلکش باغیچے

منگل ستمبر

Mukhtasar Anganoon K Dilkash Bagichey

افراتفری اور بے پناہ مصروفیت کے اس دور میں پبلک پارکوں میں جانے کے لئے وقت کا نکالنا کٹھن ہو چکا ہے ۔بڑے شہروں میں پارکوں کی جگہوں پر دس دس بارہ بارہ منزلوں کے رہائشی فلیٹوں کی تعمیر دیکھ کر ہرے بھرے پارک خواب وخیال کی باتیں معلوم ہوتی ہیں۔مگر چہل قدمی بہت ضروری ہے۔ہر یالی ہمارے ہزاروں جذباتی مسائل کا حل ہے۔لمبی گہری سانسیں لے کر تازہ ہوا کو اندر اتار نابے حد اہم ہے ۔

آکسیجن کتنی ضروری ہے یہ بات ہم سب کے سوچنے کی ہے اوریہ کہاں سے قدرتی شکل میں دستیاب ہوگی۔کچھ ایسے ہی پرکشش تصورات اس مضمون کے ذریعے ہم آپ تک پہنچا رہے ہیں دیکھئے،پڑھئے اور زندگی کے معمولات میں تبدیلی لانے کی کوشش کیجئے۔
Vertical Gardenیعنی عمودی زوائیے پر مشتمل باغ
اگر آپ کے فلیٹ یا گھر میں جگہ کم ہوتو عمودی سطح کا چھوٹا سا باغیچہ بنایا جا سکتا ہے ۔

(جاری ہے)

چھوٹے چھوٹے گملوں میں پسندیدہ پھول لگائیے۔کسی بھی پودے کا انتخاب کرنے سے پہلے اس کا سائز ذہن میں رکھئے۔دیواروں پر سجانے کے لئے مختلف پودے استعمال کئے جا سکتے ہیں اور دیوار کے ساتھ لکڑی کی بینچ اور چند آرائشی اشیاء مثلاً مٹی کے لیمپ ،مجسمے میں آبشار وغیرہ لگائی جا سکتی ہے۔لمبی سبز خوردنی پھلیوں اور لمبے ڈنڈوں کی مدد سے پھولوں کی بیلوں کو اوپر تک بڑھایا جا سکتا ہے۔

مناسب دیکھ بھال سے یہ مختصر سے رقبے کا باغیچہ بہار دکھلائے گا۔
کونے یا مختصر سے گوشے میں باغ
گھر کا کوئی ایک گوشتہ مخصوص کرکے ایک ٹرے میں مختلف پودے لگائے جاسکتے ہیں اس ٹرے کو فرش اور لکڑی کے ڈیک کے ساتھ سجایا جا سکتا ہے۔لکڑی کی ایک بینچ یہاں رکھ کر شام کی چائے کا لطف لیا جا سکتا ہے۔
ہر پل ویلکم کہتی راہداری
جڑی بوٹیوں مثلاً پودینہ ،روز میری ،نیاز بو اور باسل جیسے پودوں کا استعمال گھر کے داخلی حصے اور راہداری کے لئے بہترین ہے۔

ان جگہوں پر ایسے پودوں کا انتخاب گھر کو ہرابھرا اور کشادہ ہی نہیں باذوق مکینوں کی جنت نظیر رہائش گا ہ بھی ظاہر کرتا ہے ۔اس کے علاوہ ان جڑی بوٹیوں کے فوائد بھی بہت ہیں۔یہ حشرات الارض سے محفوظ بھی رکھتی ہیں ۔غذائی صورت میں بھی ان کا استعمال کیا جاتاہے۔ پاکستان میں میں بحراوقیانوس اور یورپی کھانوں کا رواج بڑھ رہا ہے یہ بوٹیاں بہت کا م آتی ہیں ۔


ٹرالیوں میں کیاریاں
مارکیٹ میں ایسی مخصوص ٹرالیاں موجود ہیں وہ لی جاسکتی ہے جو دو سے تین خانوں پر مشتمل ہوتی ہیں۔اوپر والے خانے میں پودے دوسرے میں باغبانی کا سامان رکھا جا تا ہے۔ان ٹرالیوں کے ذریعے لان کو خوبصورت تاثر ملتا ہے اور باغبانی کاذوق بیدار ہوتاہے۔
پھلوں کی خالی پیٹی فالتو ہر گز نہیں
جب آپ موسمی پھلوں کی پیٹی خالی کر لیتی ہیں تو اسے فالتو سمجھ کر کوڑے دان میں ڈال دیتی ہیں اگر ان میں سانچے بنا کر گھریلو کا شتکاری کی جائے ۔

لیموں ،مرچیں ،ہرادھنیا،پودینہ یا ٹماٹر لگا لئے جائیں تو یقینا کچن کا بجٹ متاثر ہونے سے بچے گا بے شک یہ باغبانی طویل دورانئے کا ایک سلسلہ ہے مگر یہ انتہائی مفید تھراپی ہے۔خاص کر جن دنوں میں کوئی سبزی نایاب ہو جائے،مہنگے داموں دستیاب ہو یا اچانک کوئی چیز تیار کرنی ہو اور آپ بازار نہ جا سکتی ہوں تو یہی گھریلو کا شتکاری منٹوں میں مسئلہ حل کر دے گی۔آپ کا گھر بھی ماحولیاتی آلودگی سے محفوظ رہے گا۔آپ کو تازہ ہوا کی تلاش میں کئی سومیل دور چل کر کسی بڑے پارک میں نہیں جانا پڑے گاہاتھ کے ہاتھ ہر یالی کا سامنا آنکھوں اور مکمل جسم کے لئے بہترین تریاق ثابت ہو گا۔شروعات کیجئے بہت جلد اپنے ہاتھوں سے بوئے بیج پھل دینے لگیں گے۔

تاریخ اشاعت: 2019-09-24

Your Thoughts and Comments

Special Home Interior & Decoration - Ghar Ki Aaraish article for women, read "Mukhtasar Anganoon K Dilkash Bagichey" and dozens of other articles for women in Urdu to change the way they live life. Read interesting tips & Suggestions in UrduPoint women section.