بند کریں
خواتین مضامینگھر کی آرائشمختلف سجاوٹی اشیا کی گروہ بندی

مزید گھر کی آرائش

پچھلے مضامین - مزید مضامین
مختلف سجاوٹی اشیا کی گروہ بندی
پاکستان میں طرح طرح کی سجاوٹی اشیا دستیاب ہیں ان میں لکڑی،دھات،کانچ،شیشہ،مٹی،سرکنڈے،بید،کھالوں وغیرہ کی آرائشی اشیا عام ہیں،آرائشی اشیا میں کچھ چیزیں خاص علاقائی رنگ رکھتی ہیں
مختلف سجاوٹی اشیا کی گروہ بندی:
بہت سی سجاوٹی اشیا گھر میں تیار کی جاسکتی ہیں مثلاً فائر سکرین (Fire Screen) صوفے پر ڈالنے والے کپڑے،میز پر سجانے والے میٹ(Mat)کشن،گدیلے وغیرہ۔یہ چیزیں نسبتاً کم قیمت ہوتی ہیں اس لیے ان کو آسانی سے بدلا جاسکتا ہے موسم کے لحاظ سے خاص کیفیت پیدا کرنے کے لیے شوخ یا گہرے رنگ کے کشن کے غلاف بنانامشکل نہیں۔اکثر گھروں میں بیرونی ممالک کی اشیا کو بہت شوق سے سجایا جاتا ہے اگرچہ ان میں سے کچھ انتہائی بھدی اور بے جوڑ بھی ہوتی ہیں۔پاکستان میں طرح طرح کی سجاوٹی اشیا دستیاب ہیں ان میں لکڑی،دھات،کانچ،شیشہ،مٹی،سرکنڈے،بید،کھالوں وغیرہ کی آرائشی اشیا عام ہیں،آرائشی اشیا میں کچھ چیزیں خاص علاقائی رنگ رکھتی ہیں اور کچھ باہر کی اشیا کی نقل ہوتی ہیں اکثر ایک قسم کی سجاوٹی اشیا مختلف داموں پر ملتی ہیں لیکن قیمت کا انحصار اشیاے ساخت پر ہوتا ہے اس کو پیش نظر رکھ کر خریداری کرنی چاہیے۔
آرائش گل:پھولوں کی آرائش ایک قدیم فن ہے تقریباً چھٹی صدی عیسوی میں بدھ مت کے چینی کاہن پھولوں کی آرائش کا فن عبادت گاہوں میں اپنے چیلوں کو سکھاتے تھے،جاپان میں بھی پھولوں کی آرائشی ایک قدیم فن ہے جو اب تک موجود ہیں یورپی مصری میں جامد زندگی کے بہت سے شاہکار آراستہ پھولوں کے ہیں،پھولوں کو آراستہ کرنے کاسب سے بڑا سبب مذہبی اور جمالیاتی جذبات کی تسکین ہے پھولوں کو دیکھ کر چھوکر اور سونگھ کر جمالیاتی سکون میسر ہوتا ہے اور پھولوں کو سجاتے وقت تخلیقی جذبے کی تسکین ہوتی ہیں۔پھول اپنی بناوٹ،رنگ اور خوشبو کی وجہ سے مختلف قسم کے جذبات ابھارتے ہیں مثلاً گلاب سے مسرت اور خوشی وابستہ ہے یعنی پھولوں کی اپنی شخصیت اور موڈ ہوتا ہے۔پھول سجاتے وقت پھولوں کی شخصیت اور موڈ کو مدنظر رکھنا چاہیے،دوسرے پھولوں کی آرائش کرتے ہوئے چند اصولی باتوں کا جاننا ضروری ہے،پھولوں کو آراستہ کرنے کے لیے پھولوں کے علاوہ کچھ اور اشیا بھی درکار ہوتی ہیں مثلاً پھولدان کو سنبھالنے اور ترتیب دینے کے لیے مختلف قسم کی ٹیکیں اور تراشنے کے لیے قینچی وغیرہ،سجے ہوئے پھولوں کو زیادہ دیر تک شگفتہ رکھنے کے لیے معلومات اور کچھ معدنی نمک جیسی چیزوں کی ضرورت ہوتی ہیں بناوٹ کے لحاظ سے پھول دائرہ نما،تکون،جھاڑ یا لمبی ٹہنیوں جیسے ہوتے ہیں،رنگ کے اعتبار سے پھولوں کی دو طرح کی درجہ بندی ہوسکتی ہیں یعنی پیلے سنہرے،پیلاہٹ مائل سبز،سرخ،نارنجی وغیرہ یعنی گرم کیفیت رکھنے والے رنگوں کے پھول،اس کے بعد نیلے،نیلاہٹ مائل اُودے،اُودے،نیلاہٹ مائل سبز پھول ہیں یعنی سرد کیفیت رکھنے والے پھول،کچھ پھول ہلکے اور بہت نازک رنگ کے ہوتے ہیں گرم علاقوں میں سفید پھول اپنی دلکش خوشبو کی وجہ سے مختلف تاثر پیدا کرتے ہیں۔کچھ پھول ملے جلے رنگوں کے ہوتے ہیں،پھولوں کی پنکھڑیوں کی سطحی کیفیت کی وجہ سے اگر یہ کہا جائے کہ کچھ پھول نازک کچھ مخملی اورکچھ کھردرے سے ہوتے ہیں تو غلط نہ ہوگا،اگر کسی جگہ گرم کیفیت والے شوخ رنگوں کے پھول آراستہ کیے جائیں تو وہاں ایک قسم کی ہلچل اور چمک سی پیدا ہوجائے گی اگر ایسی جگہ سرد کیفیت والے پھول آراستہ کردیے جائیں تو سکون سا پیدا ہوجائے گا،پھول کی آرائش میں کئی طرح کے رنگوں کا امتزاج برتا جاسکتا ہے۔
یک رنگی امتزاجی:یعنی ایک ہی رنگ کے مختلف ہلکے اور گہرے رنگ کے پھول لگائے جائیں۔
ہم آہنگ رنگوں کا امتزاج:یعنی ایک گروپ کے رنگوں کے پھول مثلاً نارنجی،پیلاہٹ مائل اور پیلے پھول ایک ساتھ لگائے جاتے ہیں۔
مثلثی امتزاج:سرخ پیلے اور نیلے پھول ایک ساتھ استعمال کیے جائیں تو مثلثی امتزاج پیدا ہوگا،پھولوں کے اس امتزاج کو برتنے کے لیے احتیاط کی ضرورت ہے جب کہ تین رنگ پھول یکساں شوخ ہوں شوخ رنگوں سے ہیجانی کیفیت پیدا ہونے سے روکنے کے لیے تین رنگ پھول ایک خاص مناسبت سے لگانے چاہیں مثلاً سرخ پھول پیلے کی نسبت سے کم اور پیلے پھول نیلے کی نسبت سے کم۔رنگوں کا امتزاج کوئی بھی ہوں،پھولوں کو اس طرح آراستہ کرنا چاہیے کہ گہرے شوخ رنگ کے بڑے پھول نیچے کی طرف اور ہلکے رنگ کے چھوٹے پھول اوپر کی طرف ہوں،پھولوں کی ترتیب میں توازن کی کیفیت ضرور ہونی چاہیے یعنی جب آراستہ پھولوں پر نظر پڑے تو توازن محسوس ہو، پھولوں کی آرائشی سے نظر کی جنبش متعین ہوسکتی ہیں مثلاً ایسی آرائشی جس میں عمودی خطوط واضع ہوں اس میں نظر اوپر کی طرف جائے گی افقی ترتیب میں نظر دائیں بائیں پھیلے گی،کھانے کی میز پر درمیان میں عمودی ترتیب کے پھول نامناسب ہیں،جبکہ گیلری میں یا دیوار سے متصل میز پر عمودی ترتیب خوشنما معلوم ہوگی کھانے کی میز یا کافی ٹیبل پر افقی طریق پر پھیلی ہوئی پھولوں کی آرائش زیادہ موزوں رہے گی۔پھولوں کی آرائش اور پھولوں کی رنگت وغیرہ کے لحاظ سے کمرے کی ضرورت کے مطابق تسلسل اور تناسب جیسی کیفیات پیدا کی جاسکتی ہیں دو یک رنگ چیزیں فاصلے پر رکھی ہوں تودرمیانی میز پر اسی رنگ کے پھولوں کی آرائشی ان دونوں چیزوں کے رنگ میں تسلسل پیدا کردے گی۔پھولدان اور پھولوں کی ترتیب میں تناسب نمایاں کرکے کمرے میں تناسب کی کمی دور کی جاسکتی ہیں،پھولوں کی سجاوٹ اور آراستگی میں تناسب نمایاں کرنے کے لیے کچھ اصولی باتوں کو برتنا ضروری ہے مثلاً۔درمیانی یا اونچے لمبے پھولدان میں پھولوں کی ترتیب پھولدان سے ڈیڑھ گنا اونچی ہونی چاہیے اور اگر عمودی خطوط کو زیادہ نمایاں کرنا ہے تو یہ اونچائی تین یا ساڑھے تین گنا بھی کی جاسکتی ہیں اگر آراستہ پھولوں سے عمودی خطوط زیادہ واضع کرنے ہوں تو درمیانی پھول زیادہ اونچا رکھیں یا یہاں پھولوں کی جگہ کوئی ٹہنی استعمال کریں،افقی ترتیب میں پھولوں کی ترتیب ایسی ہونی چاہیے کہ پھولوں کا پھیلاؤ پھولدان کی چوڑائی سے ڈیڑھ گنا زیادہ ہو مختلف ممالک کے تاریخی دور میں پھولوں کی آرائش خاص طریق پر کی جاتی تھی مگر موجودہ دور میں جاپانی طرز آرائش تقریباً ہر جگہ مقبول ہورہا ہے جسے اکیبانا کہتے ہیں،اکیبانا(ikebana) حسن خوشبو اور نفاست کا فن ہے جو اپنی رعنائی اور نزاکت میں لاجواب ہیں اس فن میں چندہی بنیادی چیزیں ہیں یعنی شاخوں کی ترتیب اور اس کے بعد پھولوں کے رنگ اور پتوں کی سجاوٹ۔اکیبانا میں تین شاخوں کی بڑی اہمیت ہے ایک کا تعلق پھول سے ہوتا ہے دوسری گلدان کے اندر اضافی ہوتی ہیں اور تیسری سبز پتوں سے بھری ہوتی ہیں تو لیجیے آپ کے لیے اکیبانا کے چند طریقے پیش خدمت ہیں ان سے آرائش خانہ کریں پھول دان میں سیدھی شاخیں اور کیکٹس کے پھول استعمال کریں یاد رہے کہ اس سٹائل میں شاخوں کی پیدائش لازمی ہے۔آپ تین شاخیں لیں یہ شاخیں سن سویرا،امبریلا،کی لے سکتی ہیں شاخوں کی پیدائش اس طرح کریں کہ شاخ نمبر 1 پھولدان کی چوڑائی کا ڈیڑھ گنا جمع گلدان کی گہرائی کے برابر ہو،شاخ نمبر2 شاخ نمبر 1 نصف ہو اور شاخ نمبر3 شاخ نمبر1 کا ایک تہائی ہو شاخ نمبر1 کے آگے شاخ نمبر2اور اسکے آگے شاخ نمبر3 رکھ کر آپ کو تینوں شاخوں کی پیمائش کا اندازہ ہوجائے گا۔پھولدان میں مرکز سے ہٹ کر پن ہولڈر رکھیں اس کے بیچ میں شاخ نمبر1 عمود میں لگائیں شاخ نمبر2 کو شاخ نمبر1 کے بائیں طرتف اس طرح لگائیں کہ 80 درجے کا زاویہ بنے اب شاخ نمبر1 کے آگے پھول لگائیں جبکہ پھول کی اونچائی شاخ سے تھوڑی نیچے ہو،شاخ نمبر2 کے آگے پھول لگائیں یہ پھول بھی ملحقہ شاخ سے اونچا نہ ہو آخر میں شاخ نمبر 3 کے آگے پھول اس طرح لگائیں کے صرف پھول ہی نظر آئے یہ پھول چونکہ شاخ نمبر2 کے ساتھ ہے اس لیے شاخ نمبر3 کا پھول شاخ نمبر2 کے پھول سے بھی چھوٹا ہونا چاہیے۔پھولوں کی اس آرائش میں اس بات کا خیال رکھیں کہ کوئی پھول ملحقہ شاخ سے اونچا نہ ہو تاکہ شاخوں اور پھولوں کی خوبصورتی اور انفرادیت نمایاں رہے۔یہ پھول دس بارہ دن تک تروتازہ رہیں گے بشرطیکہ آپ پھول دان میں پانی ڈالتے رہیں پانی خشک ہونے پر مزید پانی ڈالنے کی ضرورت رہتی ہیں۔

(0) ووٹ وصول ہوئے