Waldain K Liye Eheem Masla - Ghareelo Budget - Home Interior & Decoration - Ghar Ki Aaraish

والدین کیلئے اہم مسئلہ گھریلو بجٹ - گھر کی آرائش

بدھ نومبر

Waldain K Liye Eheem Masla - Ghareelo Budget
راحیلہ مغل
مجھے اس سالگرہ پر ایکس باکس چاہئے۔مجھے باربی کا نیا ڈول ہاؤس لینا ہے بس۔مجھے اچھے نمبر آنے پر ٹریٹ دیں یا اس عید پر میں نے باربی ڈریس بنوانا ہے۔اس طرح کے فقرے اور مکالمے ہر گھر میں اکثر سنے جا سکتے ہیں۔میڈیا اور انفارمیشن ٹیکنالوجی نے ہر نئی چیز کے بارے میں آگہی ہر گھرانے کی دہلیز تک پہنچا دی ہے۔بچے تو معصوم ہیں فرمائش کرتے ہوئے وہ لمحہ برابر بھی نہیں سوچ سکتے کہ اس بڑھتی ہوئی مہنگائی کے دور میں والدین کے لئے ان ننھی منی فرمائشوں(جو کہ قیمت کے لحاظ سے ہر گز ننھی منی نہیں ہوتیں) کو پورا کرنا کس قدر دشوار ہو سکتا ہے۔

بچے کا دل بھی نہیں توڑنا چاہئے اور اپنا بھرم بھی قائم رکھنا ہے۔آج کل کے والدین ایک دوہری مصیبت کا شکار ہو چکے ہیں۔

(جاری ہے)


ماضی اور معاشرتی ماہرین اس مسئلے کے بارے میں یہ حل تجویز کرتے ہیں کہ چونکہ انہی معصوم بچوں کو کل ایک ذمہ دار بالغ فرد کی حیثیت سے اپنی تمام معاشی ذمہ داریوں کو نبھانا ہے اس لئے بہتر ہے کہ کم عمری سے ہی بچوں کو اپنے گھریلو بجٹ اور چھوٹے چھوٹے معاشی مسائل میں شریک کیا جانا چاہئے تاکہ وہ پیسے کی قدر اور والدین کی مجبوری کا اندازہ لگا سکیں۔

اس تجویز کا ہر گز یہ مطلب نہیں ان ننھے ذہنوں کو کسی دباؤ یا پریشانی میں ڈالا جائے یا ان کی فرمائشوں کو سرے سے ہی رد کیا جائے بلکہ نہایت سمجھداری سے والدین کو یہ فریضہ انجام دینا ہے۔
بچوں کو یہ بھی بتائیں کہ بجٹ کیا ہے؟بجٹ سے مراد نقد آمدنی اور اخراجات کا تخمینہ لگانے سے ہے تاکہ آمدنی اور اخراجات کے لئے آمدنی اور اخراجات میں توازن پیدا کیا جا سکے۔

بجٹ دراصل نقد آمدنی کے انتظام کا پہلا عمل ہے جو مستقبل کے اخراجات کے لئے آمدنی کی منصوبہ بندی مشتمل ہوتا ہے۔جو کنبے کو رقم خرچ کرنے کا ایسا رہنما خاکہ یا نمونہ مہیا کرتا ہے تاکہ متعلقہ کنبہ یا افراد اپنے مقاصد میں کامیابی حاصل کر لیتے ہیں۔
بچے سے پیار کے اظہار کا یہ طریقہ ہر گز مناسب نہیں کہ جونہی فرمائش منہ سے نکلی تو اس کو فوراً پورا کیا جائے۔

بلکہ آپ اس فرمائش کو کسی بھی چیز سے مشروط کر سکتے ہیں۔مثلاً امتحان میں اچھے نمبر لانے،گھریلو کام کاج میں ہاتھ بٹانے یا اچھے رویئے کا مظاہرہ کرنے پر اس کو انعام کی صورت میں پورا کیا جا سکتا ہے۔بعض اوقات بچوں کو بہتر کارکردگی یا رویئے کا مظاہرہ کرنے پر نقد انعام بھی دیا جا سکتا ہے۔جس سے ان کے اندر اپنے روپے کو سلیقے سے خرچ کرنے کی عادت ڈالی جا سکتی ہے۔

بعض گھرانوں میں عید یا سالگرہ پر بچوں کو کافی نقد رقم مل جاتی ہے اس صورت میں والدین بچوں کو اس رقم کو پس انداز کرنے یا کسی بہتر کام پر خرچ کرنے کا مشورہ دے سکتے ہیں لیکن ہمیشہ ان کو اس رقم کا کچھ حصہ کسی بھی فلاحی مقاصد کے لئے لگانے کی ترغیب ضرور دیجئے تاکہ ان کو اپنی ذات سے ہٹ کر ضرورت مندوں پر خرچ کرنے کی تربیت دی جا سکے۔بحیثیت والدین نوجوان بچوں کو مشورہ ضرور دیجئے لیکن فیصلہ انہیں خود کرنے دیجئے تاکہ ان کی قوت فیصلہ کو مضبوط بنایا جا سکے۔


بچوں کو گھریلو امور اور مالی معاملات سے شریک مشورہ رکھئے کیونکہ اس طریقے میں آمدنی،خرچ اور بچت جیسے امور کو بہتر سمجھ سکتے ہیں۔اگر انہیں اس بات کا احساس دلا دیا جائے کہ ان کے والدین کس مد میں موجودہ آمدن کو خرچ کر رہے ہیں تو ممکن ہے کہ آپ بے جا اور مہنگی فرمائشوں کے عذاب سے چھٹکارا حاصل کر لیں۔بچوں کو ماہانہ یا ہفتہ وار جیب خرچ ضرور دیجئے۔

جیب خرچ کتنا دینا چاہئے اس کا فیصلہ بچے کا عمر اور والدین کی ماہانہ آمدنی کے مطابق کیا جاتا ہے ماہرین کے مطابق والد کی آمدن کا اعشاریہ پانچ فیصد بچوں کو جیب خرچ کے طور پر یا ان کے ذاتی اخراجات کے لئے دیا جانا چاہئے۔کیونکہ اس سے نہ صرف وہ روپے کی قدر کو جان سکتے ہیں۔بلکہ اپنے طور پر آمدن خرچ اور بچت کو بہتر سیکھ سکتے ہیں۔بچوں کو ان کا جیب خرچ ہفتے کے آغاز یا درمیان میں دے دینا چاہئے۔

اس طریقہ کار سے بچے یقینی طور پر بچت کرنا سیکھتے ہیں تاکہ وہ ویک اینڈ پر اپنی مرضی سے کچھ کھاپی سکیں یا دوستوں کے ساتھ انجوائے کر سکیں۔
عمر کے ساتھ ساتھ بچوں کے جیب خرچ میں اضافہ کرتے رہنا چاہئے تاکہ وہ اپنے ذاتی اخراجات با آسانی پورا کر سکیں۔لیکن اس بات کو یقینی بنایئے کہ وہ اپنی مقررہ حد سے تجاوز نہ کریں۔اس سلسلے میں ماہرین والدین کو بے لچک رویہ اپنانے کا مشورہ بھی دیتے ہیں ان کے مطابق نہیں کا مطلب نہیں ہونا چاہئے۔

ورنہ آپ اپنے بچوں میں کبھی بھی احساس ذمہ داری پیدا نہیں کر سکتے۔ہائی سکول یا کالج کی عمر تک پہنچ جانے والے بچوں کے لئے کا ذاتی بینک اکاؤنٹ کھلوانا بھی بچوں میں مالیاتی امورکی سمجھ بوجھ پیدا کرنے میں معاون ثابت ہو سکتا ہے ۔بعض والدین بچوں کو ڈیبٹ کارڈ بنوا کر دینے کے حق میں ہوتے ہیں لیکن اس صورت حال میں کارڈ کے استعمال کی صورت میں والدین کو بچوں کو کچھ اصول و ضوابط کا پابند کرنا لازم ہے تاکہ کارڈ کے بے جا استعمال کو کنٹرول میں رکھا جا سکے۔

بچوں میں بچت کی عاد ت کو پختہ کرنے میں بچت کو دگنا کرنے کا نسخہ بہت کارآمد ہو سکتا ہے مثلاً اگر آپ کا دس سالہ بچہ ایک ہفتے میں دس روپے کی بچت کرتا ہے تو انعام کے طور پر ہفتے کے اختتام پر اس رقم کو دگنا کر دیجئے۔بڑے بچوں میں نہ صرف مسابقت کی فضا پیدا ہو گی بلکہ وہ اپنے غیر ضروری اخراجات کو کم کرکے بچت کرنا بھی سیکھیں۔بحیثیت والدین اپنے بچوں کو آنے والے وقت کے لئے تیار کرنا والدین کی اہم ذمہ داری ہے ان چند کارآمد مشوروں پر عمل کرکے یقینا آپ اپنے بچوں میں مالی امور کی بہتر سوجھ بوجھ پیدا کر سکتے ہیں جو کہ ان کی عملی زندگی میں بے حد معاون ثابت ہو سکتی ہے۔
تاریخ اشاعت: 2020-11-11

Your Thoughts and Comments

Special Home Interior & Decoration - Ghar Ki Aaraish article for women, read "Waldain K Liye Eheem Masla - Ghareelo Budget" and dozens of other articles for women in Urdu to change the way they live life. Read interesting tips & Suggestions in UrduPoint women section.