بند کریں
خواتین مضامینگھریلو ٹوٹکےمسائل حل کرنے کے کی گھریلو تدابیر

مزید گھریلو ٹوٹکے

پچھلے مضامین - مزید مضامین
مسائل حل کرنے کے کی گھریلو تدابیر
باورچی خانے میں بعض اوقات پیدا کرنے والے چھوٹے چھوٹے مسائل دشواری پیدا کردیتے ہیں۔ اس طرح سے کھانے کی کئی چیزیں ضائع ہوجاتی ہیں
شکیل صدیقی
باورچی خانے میں بعض اوقات پیدا کرنے والے چھوٹے چھوٹے مسائل دشواری پیدا کردیتے ہیں۔ اس طرح سے کھانے کی کئی چیزیں ضائع ہوجاتی ہیں۔ہم ہوذیل میں ایسی تدابیر بتارہے ہیں، جن سے آپ ان مسائل پر قابو پاسکتی ہیں:
آلو کو سفید رکھیے: جب آپ آلو چھیل کر پلیٹ میں رکھ دیتی ہیں تو وہ بھورے ہوجاتے ہیں، اس لیے کہ ان میں سے بے رنگ نشاستہ نکلتا ہے ، جو ہوا کے ساتھ مل کر اپنی رنگت تبدیل کرلیتا ہے۔ اس سے چھٹکارا پانے کے لیے چھلے ہوئے آلووں کو ٹھنڈے پانی میں ڈال دیجئیے ۔ ان کی رنگت بدستور سفید رہے گی۔
ٹماٹر کو زیادہ عرصے تک تازہ رکھیے: ٹماٹر جلدی گل سڑجاتے ہیں۔ انہیں خراب ہونے سے بچانے کے لیے ڈنٹھل والے حصے کی طرف سے اوندھارکھیے۔ یہ وہ حصہ ہے، جہاں سے ٹماٹر پودے کی شاخ سے لٹکتا ہے۔ اس حصے پر خراشیں پڑجاتی ہیں اور نمی تیزی سے اثرانداز ہوتی ہے۔ اوندھا کرکے رکھنے پر ہوا کا اثر اس پر کم ہوتا ہے۔ یہ ترکیب اس صورت میں آزمائیے، جب آپ کے پاس ریفریجریٹر نہ ہو، ورنہ دوسری سبزیوں کے ساتھ ٹماٹروں کو اس میں رکھا جاسکتا ہے۔
کاٹنے پر پھل بھورے ہوجاتے ہیں: پھل وقت سے پہلے کاٹ لیے جاتے ہیں، لیکن جب مہمان آتے ہیں تو ان کی رنگت بھوری اور بدنما ہوجاتی ہے۔ اس پریشانی سے بچنے کا طریقہ یہ ہے کہ ایک لیموں کاٹ کر اس کا رس خاص طور پر کٹے ہوئے سیبوں پر ٹپکا دیجئے۔ اس کے علاوہ ایک حصہ شہد میں دو حصے پانی ملا کر کٹے ہوئے سیبوں پر ڈالنے سے بھی ان کی رنگت تبدیل نہیں ہوتی، اس لیے کہ لیموں میں حیاتین ج (وٹامن سی)کے علاوہ سِڑک ایسڈ بھی ہوتا ہے اور شہد میں امینوایسڈ ، جس کی وجہ سے کٹے ہوئے سیبوں پر ہوا اثر انداز نہیں ہوتی اور پھلوں کی رنگت برقرار رہتی ہے۔
خراب انڈے چیک کرنے کا طریقہ:بہت سے انڈے ایک ساتھ استعمال کرنے سے پہلے اگر آپ انہیں چیک کرنا چاہتی ہیں ، تاکہ پکوان خراب نہ ہو تو ٹھنڈا پانی ایک تسلے میں بھریے اور انڈے اس میں ڈال دیجئے۔ اگر انڈے پانی میں بیٹھ جائیں تو کھانے کے قابل ہیں، ورنہ نہیں۔ انڈاجوں جوں پرانا ہوتا جاتا ہے، اس کے مساموں سے ہوا اس میں چلی جاتی ہے اور انڈے کی سفیدی اور زرداری کو خراب کر دیتی ہے۔ چناں چہ خراب انڈا پانی میں تیرنے لگتا ہے۔
انڈے کا چھلکا صفائی سے اتار یے: انڈے اُبالتے وقت پانی میں تھوڑا سا سرکہ یا کھانے کا سوڈا ملا دیجیے۔ اس طرح سے ان کا چھلکا کسی دشواری کے بغیر اتر جائے گا۔
ترش پھلوں سے زیادہ رس نچوڑیں:لیموں ، نارنگی یا مالٹے سے زیادہ رس نکالنے کا طریقہ یہ ہے کہ پہلے انھیں ریفریجریٹر میں رکھ دیجئے ۔ پھر جب یہ ٹھنڈے ہوجائیں تو پندرہ سے بیس سیکنڈ کے لئے مائکروویو اوون میں رکھ دیں۔ اس کے بعد انھیں دبائیں۔ پھر انہیں لمبائی میں کاٹ لیں۔ ترش پھلوں سے خوب رس نکلے گا۔
کیک تازہ رکھیے: پورا کیک نہ کھانے کی صورت میں اسے رکھ دیا جاتا ہے تو وہ سوکھ جاتا ہے۔ آپ کیک کو جس طرف سے کاٹ کر ٹکڑے بناتی ہیں، اس طرف ڈبل روٹی کا ایک سلائس ٹوتھ پک کے ذریعے سے کیک سے جوڑ دیں۔ سلائس سے چپکا رہنے کی صورت میں کیک کی نمی برقرار رہے گی اور سوکھے گا نہیں۔
اپنے ہاتھوں سے بُو دور کیجیے: لہسن اور پیاز چھیلنے سے جب آپ کے ہاتھوں میں بُورچ بس جاتی ہے تو ناگوار لگتا ہے ۔ اس سے نجات پانے کے لیے آپ صابن استعمال کرتی ہیں، لیکن مہک پھر بھی آتی رہتی ہے۔ اس بُو پر قابو پانے کا مناسب طریقہ یہ ہے کہ لیموں کا رس، کھانے کا سوڈا یا اسٹین لیس اسٹیل کے برتن استعمال کریں۔ اسٹین لیس اسٹیل کے بارے میں سن کر آپ چونکی ہوں گی، لیکن یہ حقیقت ہے کہ جب آپ اپنے ہاتھ اسٹین لیس اسٹیل کے کسی برتن پر رگڑتی ہیں تو اس کے سالمے بُو کو کھینچ لیتے ہیں۔
پتیلی میں ابال کیسے روکیں؟ چولھے پر پتیلی چڑھانے کے بعد آپ عموماََ فکر مند رہتی ہیں کہ اس میں اُبال نہ آئے اور پکتی ہوئی دال باہر نہ گرجائے۔ دادی اماں کے زمانے کا ایک طریقہ آزمائیے اور پتیلی کے منھ پر لکڑی کا لمبی ڈنڈی والا بڑا چمچہ رکھ دیجئے۔ جھاگ اُبل ک باہر نہیں آئے گا، اس لیے کے ٹھنڈے چمچے سے گرم بلبلے ٹکراتے ہی پھٹنا شروع ہوجاتے ہیں۔ ان کا درجہٴ حرارت گرجاتا ہے اور وہ پانی بن جاتے ہیں۔ اُبال پر زیتون کے تیل کی چند بوندیں ٹپکادینے سے بھی بلبلے پھٹ جاتے ہیں۔
پیاز کاٹتے وقت آپ کے آنسو ٹپکتے ہیں:جب آپ پیاز کاٹ رہی ہوں تو ڈبل روٹی کا ایک ٹکڑا اپنے منھ میں رکھ لیں۔ آپ کی آنکھوں سے آنسو نہیں بہیں گے۔ پیاز میں امینوا ایسڈ سلفو اوکسائڈ ہوتا ہے ۔ جب اسے کاٹا جاتا ہے تو سلفر گیس نکلتی ہے۔ یہ اوپر اُٹھتی ہے اور آکر آپ کی آنکھوں سے ٹکراتی ہے۔ آنکھوں کے پانی سے مل کر سلفیورک ایسڈ تیار ہوجاتا ہے، جس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ آپ چھینکنے اور آنسو بہانے لگتی ہیں۔ جب آپ کے منھ میں ڈبل روٹی کا ٹکڑا ہوتا ہے تو گیس آنکھوں تک نہیں پہنچ پاتی اور ناک کے راستہ منھ کے اند جاکر ڈبل روٹی کے ٹکڑے میں جذب ہوجاتی ہے۔ دوسرا طریقہ یہ ہے کہ پیاز کاٹنے سے پیشتر اسے خوب ٹھنڈا کر دیجئے ، کیوں کہ ٹھنڈا ہونے پر پیاز کے خامرے کم متحرک ہوتے ہیں، لہٰذا پیاز کاٹنے سے دو گھنٹے پہلے سے ٹھنڈے پانی میں ڈال دیجئے۔ اس میں سے نکلنے والی سلفر گیس آپ کو پریشان نہیں کرے گی۔ ایک جدید تحقیق کے مطابق پیاز کاٹتے وقت آنکھوں سے جو آنسو بہتے ہیں ان سے بینائی پر اچھا اثر پڑتا ہے۔

(0) ووٹ وصول ہوئے