Baloon K Amraaz

بالوں کے امراض

ہفتہ مئی

Baloon K Amraaz

نادیہ عامر
ہماری خواتین کے لئے بال روز بہ روز اہم مسئلہ بنتے جارہے ہیں۔ اگر ان کی ٹھیک طرح سے حفاظت اور نگہداشت نہ کی جائے تو ان میں کئی اقسام کے امراض پیدا ہو جاتے ہیں جو کہ ان کی صحت کے لئے نقصان کا باعث بنتے ہیں انہی امراض کی وجہ سے گنج کی بیماری ہوتی ہے اور بالوں کی قدرتی چمک اور اصل رنگت ماند پڑ جاتی ہے ۔بال عام تعداد سے زیادہ گرنا شروع ہو جاتے ہیں ۔

بالوں کی عام سی بیماری ہے خشکی یا سکری یا بیماری سر میں ورم یا جلد کو میلا رکھنے سے ہوتی ہے بعض اوقات سر کی جلد پر خارش پیدا ہو جاتی ہے ۔بعض اوقات نوک دار کنگھی کرنے سے سر کی جلد چھل جاتی ہے اور غدودوں سے زیادہ مقدار میں مادہ خارج ہوتاہے اور آہستہ آہستہ یہ مادہ سر کی جلد پر جم جاتاہے ۔

(جاری ہے)

بالوں کی ٹھیک طریقے سے صفائی نہ کرنے کی وجہ سے سر کی جلد پر پپڑی جم جاتی ہے اور بال گرنے شروع ہو جاتے ہیں کیونکہ بال سر کی تہ تک صاف نہیں ہوتے ہیں ۔

اس لئے کمزر ہو کر گرنے لگتے ہیں اس کا بہترین علاج یہی ہے کہ نوکدار کنگھی کا استعمال ترک کر دیا جائے ۔ابتداء ہی سے بالوں کو صاف ستھرا رکھا جائے اور سر کی صفائی پر مکمل دھیان دینا چاہیے ۔اگر سکری کا ابتداء میں ہی علم ہو جائے تو اس کا فوری علاج کروانے سے زیادہ نقصان نہیں ہوتاہے ۔سر میں زیتون کا تیل جڑوں تک لگائیں تو بہت جلد سکری سے نجات حاصل ہو جائے گی۔


ایک نہایت خطر ناک قسم کی بیماری ہے بھوسی ،مومی بھوسی اگر سر میں یہ مومی بھوسی پیدا ہو جائے تو پھر غفلت کا مظاہرہ ٹھیک نہیں ہے ۔یہ سر کی جلد پر پیدا ہو کر پورے بالوں پر بسیرا کر لیتی ہے۔ فوری علاج نہ کرنے کی صورت میں یہ بھوسی اپنا کام دکھانا شروع کر دیتی ہے بالوں کے جھڑنے کی رفتار میں تیزی آجاتی ہے ۔سر پر بہت جلد گنج پن چھا جانے کا خطرہ ہوتاہے ۔

کنگھی کرنے کے دوران اس کے باریک باریک چھلکے اترتے ہیں اور سر کی جلد دکھائی دینے لگتی ہے ۔اس سے بچنا ضروری ہے اور مناسب وقت پر سر کی صفائی اور دیکھ بھال ضروری ہے۔ یہ بھوسی چکنائی دار بھی ہوتی ہے اور ان کے سر میں ہوتی ہے جن کے سر میں چکنائی دار بھوسی پیدا ہوتی ہے ۔ایسے لوگوں کے سر کی جلد پر چھوٹے چھوٹے دانے بھی نکل آتے ہیں۔ اس قسم کی بھوسی بھی بالوں کی دشمن ہوتی ہے۔


بالوں کی ایک بیماری ”بھوسی“
کسی اچھے شیمپو سے سردھو کر قدرتی ہوا میں خشک کرکے بالوں میں تیل بھی لگائیں تاکہ بال جلد تندرست ہو جائے ۔اکثر دفعہ سر کی جلد پر خارش بھی ہو جاتی ہے اور ایسا محسوس ہوتاہے کہ سر میں جوئیں کاٹ رہی ہوں ۔جبکہ ایسا نہیں ہوتا بلکہ وجہ صرف ہی ہوتی ہے کہ بھوسی بہت باریک اور ذرے دار ہوتی ہے ۔

جب بھوسی سر میں جگہ بناتی ہے تو سر کھجانے کو دل کرتا ہے ۔جب بھوسی کی مقدار بڑھتی ہے تو بالوں سے جھڑ کر کاندھوں پر گرنا شروع ہو جاتی ہے ۔بار بار بالوں میں کنگھی کرنے سے یہ خشکی جھڑتی رہتی ہے سر کو کسی اچھے شیمپو سے دھو کر روغن تیل سے مالش کرنا چاہیے۔ بار بار کنگھی کرنے سے جب یہ خشکی گرتی ہے تو سر کی جلد صاف ہو جاتی ہے۔
مادہ کا بہت زیادہ اخراج بھی بالوں کی بیماری ہے
سر کی جلد میں بالوں کے نیچے جو غدود ہوتے ہیں ان سے مادہ کا بہت زیادہ اخراج اور لیس دار مادہ کا سر کی جلد پر جمع ہونا بھی ایک قسم کی بالوں کی بیماری ہے ۔

عام طور پر یہ مرض بچوں اور بوڑھوں میں پایا جاتاہے ۔اور اس سے بالوں کو بہت نقصان پہنچتاہے ۔لیکن اکثر نوجوان میں بھی یہ مرض پایا جاتاہے بچوں میں مرض کے زیادہ ہونے کی وجہ یہ ہوتی ہے کہ غدودوں میں تغیر وتبدل واقع ہوتی رہتی ہے اور زیادہ مقدار میں مادہ کا اخراج ہوتاہے ۔اکثر خواتین میں بھی یہ مرض پایا جاتاہے جس کی وجہ سے بال گرنے لگتے ہیں ۔

اگر بروقت علاج نہ کیا گیا تو گنج پن بہت جلد نمودار ہوجاتاہے۔ اکثر یہ ہوتاہے کہ غدود سے صرف پس دار مادہ خارج ہوتاہے جو کہ چپچپاسا ہوتا ہے اور سر پر جمع نہیں ہوتا لیکن ایسا بہت کم لوگوں کیساتھ ہوتاہے۔ زیادہ تر دونوں کا ہی وجود بالوں میں پایا جاتاہے اس کا علاج تو یہ ہے کہ سب سے پہلے تو سر کی جلد کو بغیر خراش یا اور کوئی گزند پہنچائے بغیر کنگھی یا کسی اور چیز سے آہستہ آہستہ احتیاط سے صاف کرکے جما ہوا مادہ اور دیگر میل اتار دی جائے ۔

سر کی جلد کو صاف کرنے کا طریقہ یہ ہے کہ سر میں کوئی بھی اچھا سا تیل لگا کر جلد پر جمی ہوئی میل کو نرم کرلیں چند گھنٹے تک تیل کو سر پر لگا رہنے دیں۔ اس کے بعد جب جلد پر جمی ہوئی میل نرم ہو جائے تو نیم گرم پانی اور موزوں شیمپو سے بالوں کو اچھی طرح دھولیں ۔اس سے سر کی جلد پر جما ہوا مادہ صاف ہو جائے گا ۔اس مرض میں اس طریقے سے جلد کو بھی صاف کیا جاتاہے کہ سر پر خوب اچھی طرح سے تیل مل کر تھوڑی دیر بعد لکڑی کی کنگھی سے بالوں کو اس طرح سنواریں کہ کنگھی کے دندانے جلد کو چھوتے ہوئے اوپر کو اٹھیں ۔

اس طرح جلد پر جمی ہوئی میل نرم ہو کر اتر جائے گی ۔بعد میں شیمپو سے سردھوکر صاف کرلیں۔بالوں میں اس قسم کا مرض بھی پایا جاتاہے جس میں غدودوں سے بالوں کی پرورش کے لئے مادہ بہت ہی کم یا بالکل بھی نہیں نکلتاہے ۔عام طور پر ان افراد میں یہ مرض پایا جاتاہے جو کہ ضعیف ہوتے ہیں یا جوکہ متناسب غذا کا استعمال نہیں کرتے ہیں۔
بالوں کی نشوونما میں رکاوٹ
اکثر ان بچوں میں بھی یہ مرض پایا جاتاہے جن کو آتشک کا مرض میراث میں ملتاہے ۔

اس مرض میں سر کی جلد سخت اور خشک ہوجاتی ہے ۔جس کی وجہ سے کئی جگہوں پر جلد پھٹ جاتی ہے یا اس حد تک شکستہ جاتی ہے کہ پھٹنے کے قریب ہو جاتی ہے ۔اس سے بالوں کی نشوونما میں رکاوٹ پیدا ہوجاتی ہے ۔کئی مرتبہ تو یوں بھی ہوتاہے کہ بال غدود کے اندر ہی دب جاتا ہے اور کئی ایک چھلے گولائی کی شکل میں بن جاتے ہیں ۔چونکہ بال جڑ سے نشوونما پاکر اوپر کی طرف بڑھ چکا ہوتاہے اس لئے اس کو مقررہ مدت کے بعد روز لگا کر باہر نکلنا ہوتاہے اور اس سے سر کی جلد متاثر ہوتی ہے بعض اوقات جلد پر ورم بھی آجاتاہے اور سوزش پیدا ہو جاتی ہے۔


بالوں کی مناسب حفاظت سے مادہ کا اخراج بند ہو سکتاہے
بالوں میں جو بھی امراض پیدا ہوتے ہیں اس کی زیادہ تر وجہ ہمارا اپنا عمل ہوتاہے ۔اگر ہم بالوں کی مناسب حفاظت اور نگہداشت کی طرف توجہ دیتے رہیں تو کوئی وجہ نہیں کہ بال صحت مند نہ رہیں چونکہ سر پر جلد سے نکلنے والے مادے کا اخراج بند ہو جاتاہے اس لئے سر پر خشکی کی ایک ہلکی سی تہ جم جاتی ہے ۔

اس کا علاج بھی اگر فوری طور پر نہ کیا جائے تو بھی سر پر گنج ظاہر ہونے لگا ہے۔ اس کے علاج کا طریقہ یہ ہے کہ جب سر کی جلد پر ایسی صورت حال پیدا ہو جائے تو لکڑی کی کنگھی سر پر پھیریں۔اس سے یہ ہو گا کہ غدود کے منہ پر جمی میل دور ہو جائے گی اور غدود سے بال کے نکلنے کا راستہ صاف ہو جاتاہے پھر سر کو شیمپو سے دھو کر صاف کرلیں تاکہ سوزش میں زخم نہ ہو ،اگر اس کے بعد بھی سر پر خشکی موجود ہوتو ناریل کے تیل کی مالش فائدہ مند ہوگی۔

تاریخ اشاعت: 2020-05-02

Your Thoughts and Comments

Special Hair Care, Hair Color & Hair Styling article for women, read "Baloon K Amraaz" and dozens of other articles for women in Urdu to change the way they live life. Read interesting tips & Suggestions in UrduPoint women section.