Husn Gessu

حسن گیسو

منگل جون

Husn Gessu
سر کے بال زمانہ قدیم سے شخصیت اور حسن میں اضافے کا سبب سمجھے جاتے ہیں۔خصوصاً خواتین تو ہمیشہ سے اپنے بالوں کا حسن قائم رکھنے اور زیادہ سے زیادہ ان کا تحفظ کرنے میں کوشاں رہتی ہیں۔یہی وجہ ہے کہ حسن اور زیبائش کی مختلف صورتوں میں بالوں کو ایک روائتی اہمیت حاصل ہے۔ملائم،لمبے اور گھنے بال عورت کے حسن کا زیور شمار ہوتے ہیں۔ویسے بھی بالوں کو جسم کے دوسرے اعضاء سے الگ نہیں کیا جا سکتا۔

عام طور پر جسمانی صحت’کاسہ‘سر اور بالوں پر بھی اثر انداز ہوتی ہے۔اگر انسان کی عام صحت اچھی ہے تو اسے کاسہ سر اور بالوں کی بیماریاں بھی لاحق نہیں ہوتیں۔بالوں کی یہ بیماریاں خارجی نہیں داخلی ہوتی ہیں۔اس لئے اگر دوران خون درست ہے تو کاسہ سر اور بال بھی صحت مند رہتے ہیں۔

(جاری ہے)

لیکن جسم صحت مند نہ ہوتو یہ بھی امراض کا شکار ہو جاتے ہیں۔


آج کل بالوں کی جو دوائیں بازار میں فروخت کی جاتی ہیں ان میں سے بیشتر مفید ہونے کے بجائے مضر ثابت ہوتی ہیں۔انسان اگر بالوں کے کسی خاص مرض میں مبتلا نہ ہوتو سر پر بادام روغن کی مالش نہ صرف بالوں کی شکایات دور کر دیتی ہے بلکہ بالوں کو تقویت بھی دیتی ہے۔ سوتے وقت سر پر روغن بادام کی مالش سے بال مضبوط ہوتے ہیں اور ان کی قوت مدافعت زیادہ ہو جاتی ہے۔

رات کو بادام روغن کی مالش کرنے کے بعد صبح کو سر دھو ڈالنا چاہیے یہ عمل بالوں کو مضبوط اور چمک دار بنانے کے علاوہ دماغ کو بھی طاقت دیتا ہے۔بعض لوگ سر پر تیل کی مالش کرتے وقت اس میں پانی بھی ملا دیتے ہیں۔پانی بالوں کو نرم بنا دیتا ہے اور جب بال نرم ہو جاتے ہیں تو ان کی قوت مدافعت کم ہو جاتی ہے اور وہ ٹوٹنے لگتے ہیں۔نرم بالوں میں مالش کا عمل نہیں کرنا چاہیے۔


صابن اور میل کو کاٹنے والی تیز چیزیں بھی بالوں کو کمزور کرکے ان کو نقصان پہنچاتی ہیں۔اس لئے سر کو ایسی چیزوں سے دھونے کی بجائے پانی میں تھوڑا سا آب لیموں ملا کر دھونا بہتر ہے۔بالوں کو خشک کرکے سرسوں کے تیل،روغن زیتون یا ناریل کے تیل کی مالش کرنی چاہیے کیونکہ مالش بالوں کی چمک اور قوت کو قائم رکھتی ہے۔کاسہ سر کو خشکی اور بفا سے محفوظ رکھتی ہے۔

دماغ کو قوت دیتی ہے۔کاسہ سر نیز بالوں کو ضروری چکنائی بہم پہنچاتی ہے۔
بالوں کی بیماریاں آج کل ہمارے لئے جتنی پریشان کن ہیں شاید پہلے کبھی نہ تھیں۔ان بیماریوں میں وقت سے پہلے بالوں کا سفید ہو جانا یا گرجانا ایسی بیماریاں ہیں جو سب سے زیادہ پریشانی کا باعث ہیں۔بالوں کی سفیدی کا مسئلہ شاید اتنا اہم کبھی نہ رہا ہو جتنا اب ہے۔آج کل تو حالت یہ ہے کہ جوان ہونے سے پہلے نو عمر بچوں اور بچیوں کے بال سفید ہونا شروع ہو جاتے ہیں اور ان میں وقت سے پہلے بڑھاپے کا احساس پیدا کرتے رہتے ہیں۔


سر کے بال کیوں گرتے ہیں؟یا کیوں سفید ہو جاتے ہیں؟ہمارے طبی ماہرین اس سلسلہ میں بہت حد تک خاموش ہیں۔ہم دیکھتے ہیں کہ آئے دن بازار میں ان بیماریوں کی روک تھام کے لئے نت نئی ادویات آتی رہتی ہیں جو استعمال بھی ہوتی ہیں۔لیکن ان میں سے کوئی بھی ایسی نہیں جس پر پوری طرح بھروسہ کیا جاسکے۔طبی ماہرین کی کثیر تعداد بالوں کی بیماریوں کو نزلہ کا سبب بتاتی ہے۔

عام طور پر لوگوں کا عقیدعہ بھی یہی ہے کہ نزلہ بالوں کا سب سے بڑا دشمن ہے۔نزلے کی وجہ سے بالوں کی جڑیں کمزور ضرور ہو جاتی ہیں اور وہ سفید ہونے لگتے ہیں۔اس مفروضے میں کافی حقیقت بھی ہوگی لیکن جدید ترین طبی تحقیقات نے اس خیال کو غلط ثابت کر دیا ہے۔مغرب کے بعض نامور ماہرین کی رائے ہے کہ جسم میں بعض کیمیائی اجزاء کی کمی سے بالوں کی بیماریاں پیدا ہوتی ہیں۔


امریکہ کی ایک تجربہ گاہ میں بالوں کا کیمیاوی تجزیہ کیا گیا ہے جس سے معلوم ہوا کہ بعض غذائی خرابیوں کی وجہ سے جب جسم میں وہ کیمیائی رطوبتیں کم پیدا ہوتی ہیں جن سے بالوں کو غذا ملتی ہے اور وہ صحت مند رہتے ہیں تو ان میں کئی طرح کی بیماریاں پیدا ہو جاتی ہیں۔اس کے علاوہ جس طرح پودوں کو فطری طور پر دھوپ ہوا اور پانی کی ضرورت ہوتی ہے اور وہ صرف زمین سے حاصل ہونے والی خوراک پر زندہ نہیں رہ سکتے،اسی طرح بالوں کا بھی صرف جسم سے ملنے والی خوراک پر زندہ رہنا مشکل ہے۔

ان کو صحت مند رکھنے کے لئے پانی اور تیل وغیرہ جیسی چیزوں کی ضرورت ہوتی ہے۔بالوں کو دھو کر صاف کرنا،انہیں سکھانا اور ان کی جڑوں میں کوئی طاقت بخش روغن پہنچاناان کو زندہ رکھنے کے لئے نہایت ضروری ہے۔سب سے پہلی بات یہ ہے کہ ہمیں بالوں کی حفاظت اور پرورش کا طریقہ آنا چاہیے ورنہ نا واقفیت کے باعث تمام تدابیر نا کام ہو جاتی ہیں۔عام طور پر نوجوان مرد اور خواتین بازار میں بکنے والے طرح طرح کے خوشبو دار تیل لگاتے ہیں چونکہ ان تیلوں میں وہ غذائیت موجود نہیں ہوتی جو بالوں کو زندہ رکھنے کے لئے ضروری ہوتی ہے۔

لہٰذا ہزارہا کوشش کے با وجود بال گرنے لگتے ہیں چھوٹے رہ جاتے ہیں یا سفید ہونے لگتے ہیں۔خوشبو دار بازاری تیلوں سے پرہیز بھی بڑا ضروری ہے کیونکہ ان میں سپرٹ کی آمیزش ہوتی ہے اور سپرٹ بالوں کے لئے بہت مضر ہے۔اگر ہم بالوں کو ان فطری خوراک مہیا کرنے میں کامیاب ہو جائیں تو ان ساری بیماریوں سے چھٹکارا پا سکتے ہیں۔جو ہمارے لئے پریشانی کا باعث ہیں۔بالوں کی بیماریوں کا سب سے بڑا سبب قبض ہے۔جہاں تک ہو سکے قبض سے بچیں اور ایسی غذائیں کھائیں جن میں با آسانی ہضم ہو کر جزو بدن بننے کی صلاحیت موجود ہو۔بیرونی طور پر ہر روز کھانا کھانے کے بعد پانچ منٹ تک بالوں میں دھیرے دھیرے کنگھی کیا کریں۔
تاریخ اشاعت: 2020-06-30

Your Thoughts and Comments

Special Hair Care, Hair Color & Hair Styling article for women, read "Husn Gessu" and dozens of other articles for women in Urdu to change the way they live life. Read interesting tips & Suggestions in UrduPoint women section.